Dinosaur

ڈائناسور قبیلے کے سب سے خونخوارٹی ریکس کا ڈھانچہ برآمد

البرٹا(نیوزڈیسک) ٹائرانوسارس ریکس (ٹی ریکس) ڈائنوسار قبیلے میں کا سب سے خونخوار اور گوشت خور جانور گزرا ہے۔ اب کینیڈا کے ماہرین نے اس نسل کا سب سے بڑا جانور دریافت کرلیا ہے جس کی لمبائی لگ بھگ 13 میٹر تھی، جسے پیار سے ’اسکاٹی‘ کا نام دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف البرٹا کے ماہر اسکاٹ پیرسن نے اسے اپنے نام پر اسکاٹی کہا ہے۔ شعبہ حیاتیاتی علوم سے وابستہ ماہر نے کہا ہے کہ انہوں نے اسکاٹی کی ٹانگوں، کولہوں اور کندھوں وغیرہ کی پیمائش کرکے معلوم کیا کہ وہ ایک غیرمعمولی جسامت کا جانور تھا اور اپنے جیسے دیگر ڈھانچوں سے بڑا اور وزنی بھی تھا۔

صرف اس جانور کی ٹانگوں کا موازنہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جب یہ زندہ تھا تو گوشت اور پٹھوں سمیت اس کی ٹانگوں کا وزن 8800 کلوگرام تھا جو تمام ڈائنوسار سے بڑا اور وزنی تھا۔ اگرچہ اسکاٹی کی باقیات 1991 میں پہلی مرتبہ ملی تھیں لیکن وہ سینڈ اسٹون میں پھنسی ہوئی تھی جسے صاف کرکے پورا ڈھانچہ نکالنے میں دس برس لگ گئے۔ اس کے بعد مزید کئی برس اس کی ہڈیوں کو جوڑنے میں صرف ہوئے۔

اگرچہ ٹی ریکس ڈائنوسار بہت تیزی سے بڑھتے تھے اور جلد ہی موت کے منہ میں چلے جاتے تھے لیکن اسکاٹی کی عمر ان سے اوسطاً زیادہ بتائی جاتی ہے۔ اندازہ ہے کہ مرتے وقت یہ 30 سے 40 سال کا رہا ہوگا۔ اس طرح یہ اب تک دریافت ہونے والے ٹی ریکس ڈائنوسارز میں سب سے طویل عمر پانے والا جاندار ہے۔ ماہرین کےمطابق اس کی ہڈیوں پر کھرونچوں کے نشانات ہیں جو بتاتے ہیں کہ یہ بہت جھگڑالو قسم کا ٹی ریکس تھا۔

موت کے وقت اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور جبڑا بھی شدید متاثر تھا۔ خیال ہے کہ اسی کی نسل کے ڈائنوسار نے اس پر حملہ کیا ہوگا۔ اس سال مئی میں ڈائنوسار کو رائل سسکیچوان میوزیم میں نمائش کےلیے رکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں