بیباکیاں/شیخ حمید

درندوں کو سرعام پھانسی دو

ویسے تو دُنیا بھر میں جنسی جرائم کی شرح دن بدن انوکھی شکل اختیار کرتی جا رہی ھے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو حد ہی ہو گئ ہے۔زینب مظلوم کے کیس نے تو پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا یہ تو اللہ تعالی کا شُکر ھے کہ اُس کا مقدمہ منطقی انجام تک پہنچا اور درندے کو پھندے پر لٹکا دیا گیا مگر اس کے باوجود معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کے بعد قتل کرنے کا رُحجان ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رھا جس کی بڑی وجہ ذینب کے قاتل کو سرعام پھانسی دیکر باقی درندوں کو پیغام نہیں دیا گیا۔اس درد کو تو وہی سمجھ سکتا ھے جس پر گزرتی ھے۔گذ شتہ کئی دنوں سے دل کو بے چین کر دینے والے واقعات نے تو نیندیں ہی حرام کر دی ھیں مگر مجال ھے کہ ھمارے قومی راہنما ، نیب کے اختیارات بڑھانے یا کم کرنے کے چکر /کرپشن/گرفتاریاں/جیل/ہسپتال/استحقاق یا دیگر ذاتی مسائل سے باہر آنے کا نام لے رہے ھوں ۔کچھ دن پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام کے علاقے شانگلہ بالا میں نویں جماعت کے طالب علم محمد عدنان کو جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد تصاویر اور ویڈیو بنائ گئ ملزمان کیطرف سے بلیک میلنگ کے خوف سے نوجوان نے خودکشی کرلی۔

صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں سات سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل کردی گئی، بچی دودھ لینے گئی تھی لیکن واپس نہیں آئی ،اسی طرح ہری پور میں ایک اور 7 سالہ بچے کو جنسی زیادتی کے بعد گلے میں تار ڈال کر قتل کر دیا گیا ۔راولپنڈی کے علاقے روات میں ایک ماموں نے اپنی ہی دو سگی کم عمر بھانجیوں سے جنسی زیادتی کر کے منہ پر کالک ملی۔اسلام آباد کے علاقہ گولڑہ میں تین سگے بھائیوں نے اپنی ہی سگی بہن کے ساتھ بار بار جنسی زیادتی کی بالآخر اس کی شکایت لڑکی نے اپنے مرحوم والد کے دوست سے کی جنھوں نے مقدمہ درج کروانے میں لڑکی کی مدد کی،تینوں ملزمان نے پہلےجرگہ اوربعد میں پولیس کے سامنے اعتراف جرم کیامگر ایسے تمام مقدمات میں گرفتار درندے جو پولیس کے سامنے بغیر تشدد کے اعتراف جُرم تو کر لیتے ھیں مگر جیسے ہی مقدمات عدالتوں میں جاتے ھیں وکلاء اور جیل میں بند پُرانے قیدی اُن کو سزا سے بچنے کے طریقہ واردات بتاتے ھیں، وہاں ہی روز آخرت کو بھولے ھوئے علاقائی جعلی سفید پوش/سیاسی شخصیات/فیملی کے بزرگ مدعی پر صلح کیلئے پریشر ڈالتے ھیں حالانکہ اسلام میں اس طرح کے کیسز میں صلح یا معافی کی کوئ گنجائش نہیں مگر یہ افراد اپنی گھٹیا سوچ کو آگے بڑھاتے ھوئے پولیس کا کندھا استعمال کرتے ھوئے استغاثہ میں خامیاں پیدا کر دی جاتی ھیں اور ملزم سزا سے بچ جاتے ھیں –

بیشتر کیسز میں عدالتوں کو یقین ھوتا ھے کہ ملزمان سو فیصد متعلقہ جُرم میں ملوث ھے مگر مدعی مقدمہ وکلاء کی طرف سے دلوائے گئے ٹیکنکل بیان/شہادتیں جس میں ملزم کو پہچاننے سے انکار کروایا جاتا ھے اور اس کا سارا فائدہ ملزم کو جاتا ھے اور وہ سزا سے بچ جاتا ھے ۔راقم نے صرف چند واقعات پر روشنی ڈالی وہ بھی جو کہ سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کیوجہ سے رپورٹ ھو گئے اور عوام کی نظروں سے گزرے مگرسینکڑوں ایسے واقعات روزانہ ھو رھے ھیں جہاں کم سن بچوں کے ساتھ ذیادتی کی جا رہی ھے جن کے یا مقدمات درج نہیں ھوتے یا نام نہاد سفید پوش / جرگہ والے رکاوٹ بن جاتے ھیں یا ورثا بدنامی کے ڈر سے خاموشی اختیار رکھتے ھیں بس بات جب ذیادتی کے بعد قتل تک چلی جاتی ھے تو مجبوراً قانونی کاروائ کا آغاز کیا جاتا ھے۔حکومتی سطح پر کوئ آگاہی پروگرام یا کمپئین نہیں چلائ جا رہی جس کے تحت والدین/بچوں کو ایسے درندوں سے دور رہنے کیلئے تربیت دی جائے۔۔۔

آئے روز ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے جہاں حکومت پر بھاری ذمہ داری عائد ھوتی ھے وہاں ہی والدین کو بھی اپنے بچوں کی حفاظت کیلئے آنکھیں اور کان کھلے رکھنا چاہیں اکثر والدین یا ورثا سُستی و کاہلی کیوجہ سے چھوٹے بچوں کو دُکان سے سودا سلف کیلئے بھیج دیتے ھیں جس کا فائدہ درندے بھرپور اُٹھاتے ھیں اسی طرح والدین سکول اور مدرسے میں بھی بچوں کو بھیجتے وقت لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ھیں،اکثر بچے اپنے سے بڑی عمر کے نوجوانوں سے کھیلتے کودتے ھیں یا نادانی و لالچ میں درندوں کے ھاتھوں چڑھ جاتے ھیں اور یہ سب کچھ معاشرے کے سامنے ھو رھا ھوتا ھے جس کا نتیجہ خوفناک نکلتا ھے ۔

معصوم بچوں کے ساتھ ذیادتی کو روکنے کے حوالے سے بحیثیت قوم ھم مکمل ناکام ھو چکے ھیں اور معاشرہ مکمل تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ھے اگر اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد پر دہشت گردی یا مزید سخت دفعات لگا کر سرعام پھانسی نہ دی گئ تو کسی بھی وقت کسی کا بھی پھول ان درندوں کے ھاتھوں چڑھ سکتا ھے۔بدقسمتی سے وطن عزیز کے اندر اقتدار حاصل کرنے یا ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے جاری حکومتی و اپوزیشن جماعتوں کی رسہ کشی نے جہاں مُلکی معیشت کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کر دیا ھے وہاں ہی لاء اینڈ آرڈر بھی آخری سسکیاں لے رھا ھے۔حالت یہ ھے کہ ٹی وی پر ٹاک شو دیکھیں تو حیرانگی ھوتی ھے کہ ھمارے نام نہاد قومی راہنما قوم کو کس طرف لیکر جا رھے ھیں۔۔۔۔اُن کی اپنی اولادیں تو محفوظ ھیں مگر عوام کے بچوں کو جنسی ذیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اُتارا جا رھا ھے اور کسی بھی لیڈر کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگ رہی بس نیب اختیارات /کرپشن/گرفتاریاں/جیل/ہسپتال/استحقاق /خزانہ خالی یا دیگر ذاتی مسائل کا رونا رویا جا رھا ھے۔۔ھمارے ھاں حالت یہ ھے کہ ارکان اسمبلی اپنی تنخواہ اور مراعات کیلئے تو اکھٹے ھو جاتے ھیں اور راتوں رات بِل بھی اسمبلی سے پاس ھو جاتا ھے مگر درندوں کو سرعام پھانسی دینے یا سخت سزاؤں کیلئے قانون سازی یا اس کی عملداری کیلئے کوئ پیش رفت نہیں ۔۔

راقم اکثر تحریروں میں کہتا ھے کہ لیڈر قومیں بناتے ھیں اور لیڈر ہی قومیں بگاڑتے ھیں لیڈرز غیر معمولی حالات میں بعض انتہائی سخت فیصلے کرتے ھیں جو مُلک و قوم کے مفادات میں ھوتے ھیں ، لہذا اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کو اسمبلی کے اندر قانون سازی کر کے کچھ درندوں کو چوراہوں پر پھانسی دینا ھو گی اور اس کے ساتھ ساتھ اس طرح کے جرائم میں ملوث درندوں کیلئے جرگہ بازی یا کیس کو کمزور کرنے/شہادتیں توڑنے/میڈیکل/عدالتی کاروائ پر اثر انداز ھونے والے پولیس اہلکاروں یا نام نہاد جعلی سفید پوشوں یا دیگر کیلئے بھی سخت سزاؤں کا تعین کیا جانا چاہیے اور ایسے مقدمات میں ریاست کو خود مدعی بننا چاہیے اور انوسٹی گیشن آفیسر کی ترقی و تنزلی کو اس بات سے مشروط کر دیا جائے کہ اُس نے استغاثہ کو تکنیکی بنیادوں پر تیار کر کے ملزمان کو سزائیں دلوانا ھیں اگر استغاثہ میں ہیر پھیر ھو گی تو تنزلی کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ پراسیکیوٹر کے رول کو بھی بہتر بنانا ھو گا ۔۔۔بس چند درندوں کو سرعام لٹکایا جائے پھر دیکھتے ھیں کون معصوم بچوں کے ساتھ ذیادتی کی جُرات کرتا ھے یا درندوں کی پشت پناہی کرتا ھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں