(پکار/ شیراز خان (لندن
پکار/ شیراز خان (لندن)

لندن آئی —

آج وزیراعظم ٹریسا مے بریگزٹ معاہدے میں توسیع کے لئے جرمنی کے شہر برلن پہنچ گئی ہیں
برطانوی وزیراعظم جرمنی کی چانسلر اینجلا مرکل سے ملاقات کریں گی اور بریگزٹ معاہدے میں توسیع کی مدت میں حمایت کی اپیل کریں گئیں

جرمن چانسلر برطانیہ کی حمایت اسی صورت میں کریں گئیں جب انہیں اعتماد میں لیا جائے گا کہ برطانیہ کن شرائط پر یورپین یونین کے ساتھ رہنا چاہتا ہے ..برطانوی وزیراعظم اج ہی جرمنی سے بعد ازاں پیرس روانہ ہو نگیں وہ فرانس کے صدر ماکرون سے ملاقات کریں گی اور فرانسیسی صدر سے بھی بریگزٹ معاہدے میں توسیع کے لئے حمایت کی درخواست کریں گئی ..

فرانسیسی صدر جو خود اپنے اندرونی ملکی معاملات میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور اپنے خلاف اکیس ہفتوں سے مسلسل ہونے والے مظاہروں سے پریشان ہیں برطانیہ کی کیا مدد کرسکتے ہیں یہ دونوں لیڈروں کی ملاقات کے بعد ہی پتہ چل سکے گا

برطانیہ کے یورپین یونین چھوڑنے کے بارے میں یورپین کمشنر نے بدھ شام 6 بجے 27 ملکوں کی کانفرنس بلائی ہے تجزیہ نگار پیشن گوئیاں کر رہے ہیں کہ یہ کانفرنس بدھ کی پوری رات چلے گئی
یاد رہے کہ برطانیہ کو ریفرنڈم کے نتیجے میں 29 مارچ 2019 کو یورپین یونین چھوڑنی تھی لیکن برطانوی پارلیمنٹ میں باہم اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے اس تاریخ کی توسیع 22 اپریل تک لی گئی تھی لیکن ویسٹ منسٹر میں کسی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے اسی لئے برطانوی وزیراعظم 30 جون تک یونین چھوڑنے کی توسیع چاہتی ہیں

دوسری جانب زرائع بتا رہے ہیں کہ 27 ممالک کی کانفرنس میں برطانیہ کو طویل المعیاد توسیع پر تو 27 ممالک کے حکمران راضی ہو جائیں گے لیکن 30 جون تک کی توسیع پر راضی نہیں ہونگے
دوسری جانب برطانوی پارلیمنٹ میں تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں کہ کسطرح برطانیہ کو بریگزٹ کے جن کے حصار سے نکالا جائے

برطانیہ کے لئے آگئے کھائی اور پیچھے کنواں ہے ٹریسامے کی کابینہ میں اس پر اختلافات ہونے کی وجہ سے استعفے دیئے جا رہے ہیں المیہ یہ ہے اپوزیشن جماعت لیبرپارٹی کے لیڈر جرمنی کوربن خود زاتی طور پر یورپین یونین چھوڑنا چاہتے ہیں جبکہ ان کی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ یورپین کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں حکمران جماعت کنزرویٹو پارٹی کی لیڈر اور وزیراعظم ٹریسامے یورپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں جبکہ انکی پارٹی کی اکثریت پارلیمنٹرین کی ایسی ہے کہ وہ یورپین یونین چھوڑنے کے حمایتی ہیں

Brexit;
labour party is full of remainers led by a leaver and Tory party is full of leavers led by a remainer.

اپنا تبصرہ بھیجیں