نقطہ نظر/انجینئررزاقت ممتازعباسی

نقطہ سےنقطہ چینی کاسفر

جی صاحب…..
ہماری زندگی میں جلوہ افروز ہونے والا ہر لمحہ اور ہر لمحے میں قید صدیوں سے موجود کوئی نہ کوئی ایسا راز پوشیدہ ہے جس پر سے حضرت انسان پہ واجب یے کہ پردہ اٹھا ئے اور خود کو بہتر بنانے کا سفر آغاز کرے۔ ہر دور میں اور ہر وقت میں انسان کو دو راستے میسر رہے اور رہیں گے۔بنیادی طور پر انسانی تخلیق کے پیچھے بھی جو متحرک فلسفہ ہے وہ بھی یہی کہتا ہے کہ انسان بہترین تخلیق ہے کیونکہ وہ دو راستوں میں سے بہتر راستہ چن سکتا ہے جبکہ کسی بھی دوسرے جاندار کے پاس یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی۔

ہمارا آغاز ایک بے بس اور لاچار نطفے سے ہو کر ہمیں ایک ناقابل تسخیر قوت بنا دیتا ہے۔ دو قدم چل کے گر جانے والا بھاگنے لگتا ہے۔ دو لفظ بول کے تھک جانے والا بچہ فر فر بولنے والا مقرربن کے سامنے آتا ہے۔پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ وہ فطری سیکھنے کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے اور جب اس فطری عمل کو یہ معاشرہ اور اسکے بنائے گئے اصول و ضوابط روک دیتے ہیں تب جا کہ انسان مرنا شروع ہو جاتا ہے۔بنیادی طور پہ ہم لوگ اوائلِ جوانی میں ہی مر جاتے ہیں جبکہ دفنائے جانے میں وقت اور رسمیں درکار ہیں کیونکہ ہم دوسروں کے بتائے فلسفوں کی پیروی کرنے کے محتاج ہیں۔

جب اس کائنات کا ہر شخص ، ہر چہرہ ہر ذی روح دوسرے سے مختلف ہے تو ہم کیوں سب کو ایک جیسا بنانے کے درپے ہیں؟ اور اصل کھیل تب شروع ہوتا ہے جب آپکے کیے گئے ہر کام میں نقص نکالا جاتا ہے۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ مجھے ہر گز اس سے اختلاف نہیں کہ کسی کو سمجھانا نہیں چاہئیے یا پھر ہمیں استادوں کی ضروت نہیں۔ اختلاف سمجھانے کے طریقے سے ہے صاحب۔ زبردستی سوچ کو منتقل کرنے کی کاوش بغاوت کو جنم دیتی ہے یا پھر نیوٹن صاحب کا فارمولا ہی دیکھ لیں کے ہر عمل کا ردِعمل ہوتا ہے اور وہ جس بھی نوعیت کا ہوتا ہے نتیجہ بھی اسی نوعیت کا میسر آتا ہے۔

ہمیں اگر کوئی ایک مثبت بات بتانے والا ملتا ہے تو دس اس کی بات کو مقابلہ سمجھ کے رد کر کے نقطہ چینی کرنے والے بھی ہر دور میں موجود رہتے ہیں۔ اب آتے ہیں سیدھی بات کی طرف۔سیدھی بات یہ ہے صاحب کے دوسروں کی آزادی اور انکی سوچ کو آگے بڑھانے کے لئے ہمیں اپنے اندر کے غیر ضروری نیوٹن یا آئن سٹائن کا محاصبہ کرنا ہو گا۔

ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ جو نسلیں ، جو گروہ بندیاں یا پھر جو فلسفے ہم تیار کر کے نئے آنے والوں کو دے رہے ہیں انکا کیا نتیجہ نکلے گا؟ کیا پڑھا لکھا کے رٹے لگوا کے پیسے کمانے والی مشینیں تیار کرنا ہمارا مقصد تو نہیں بن گیا؟ کیا ہم غرض اور خود غرضی کے بیچ میں پھنس تو نہیں چکے؟ یا پھر جن وجوعات پہ ہم نے توجہ نہیں دی اور وہ کسی معاشرتی بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں تو ایسے وقت میں کہیں ہمیں الزام تراشی کی عادت تو نہیں ہو چکی؟ کیونکہ یہ فطرت بھی عام پائی جاتی ہے کہ اچھے کاموں کے لئے خود کو اہل اور برے کاموں کے لئے دوسروں کو نا اہل قرار دے دو۔

یا پھر ہم کہیں اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنا تو شروع نہیں ہو گئے؟ ایک خوبصورت سفر کا جو آغاز ننھی کلکاریوں اور قہقہوں سے ہوتا ہے وہ ماتم کدہ کیسے بن جاتا ہے ؟ تربیت اور کردار سازی کے لئے کیا صرف سکول کالج ذمہ دار ہیں یا ان طالب علموں کے ارد گرد پورہ نظام ذمہ دار ہے؟

کبھی تو ہمیں اس ڈگر پہ سوچنا ہی ہوگا کہ نقطہ چینی ، طنز اور طعنے دینے کی عادتیں بے شمار زندگیوں کو مفلوج کر چکی ہیں۔ مگر ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ، ابھی بھی وقت ہے کہ اپنے اردگرد بسنے والوں کے بگاڑ کی ذمہ داری لے کر پیار ، محبت اور بھائی چارے سے اُنکو بہتر کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں