(پکار/ شیراز خان (لندن
پکار/ شیراز خان (لندن)

ہم مسلمان کون کون سی برائیوں میں مبتلا ہیں(حاجیوں کیلئے بطور خاص )

آج کل کی دنیا مشینی دور کی ہے اس ہنگامہ خیز زندگی میں نفسا نفسی اور فراتفری عام ہے مارا ماری، سینہ زوری، دھکم پیل، ہٹو بچو آگئے بڑھو، جائز ناجائز مال اور جائیدایں بناؤ کے بکھیڑوں میں انسان اپنے انجام سے بے خبر بس اس قدر مگن ہے کہ جیسے انسان کو موت کی کوئی فکر ہی نہیں ہے جیسے یہ دنیا اس کا مستقل ٹھکانہ ہو حالانکہ ایک انسان کی زندگی تو صرف ساٹھ ستر سال کی ہی ہے اور ہر زندہ چیز نے موت کا مزہ چکھنا ہے موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے کہ جس پر نہ صرف تمام مذاہب کے پیروکار بلکہ مذاہب سے فرار اختیار کرنے والے بھی متفق ہیں مغربی دنیا یا مزہب سے لاتعلق معاشروں کا رونا کیا رویا جائے..

ان میں زنا، شراب، سود، جواء اور دیگر معاشرتی برائیاں عام ہیں اور اس بارے میں یہ معاشرے کوئی عزر بھی پیش نہیں کرتے بدی اور اچھائی سب کچھ اوپن ہے سیکولرزم کے فلسفے پر یہ معاشرے چلتے ہیں جو چاہیں کریں ان سیکولر معاشروں میں خود اپنی نصف زندگی کے ماہ و سال گزارنے کے بعد جب مسلمان ممالک اور یہاں مقیم مسلمانوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا جائے تو دل بڑا بوجھل اور دلبرداشتہ ہوتا ہے

ہم مسلمان کچھ ایسی برائیوں میں مبتلا ہیں جن کا حساب ہمیں انفرادی طور پر دینا ہے یہ جیسے حقوق اللہ کا پورا نہ کرنے کا معاملہ اللہ اور بندے کے درمیان ہے لیکن حقوق العباد کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی پکڑ بہت بڑی سخت ہے آج میں نے جو موضوع چنا ہے وہ بہت وسیع ہے اس کا ایک ہی کالم میں احاطہ کرنا مشکل ہےانفرادی اور اجتماعی رویوں یا سلوک کے بارے میں چند وہ برائیاں جو ہم جانے انجانے میں دن رات کرتے ہیں انکی نشاندھی کرنا مقصود ہے.

غریبوں، غیر تعلیم یافتہ، مجبوروں اور نامساعد حالات میں جو لوگ برائیوں میں مبتلا ہیں انکو تھوڑی دیر اگر زیر بحث نہ لائیں اور صرف پڑھے لکھے یا مذہبی، سیاسی، سماجی اور عام سوجھ بوجھ والوں کا زکر کریں تو دل خون کے آنسو روتا ہے آج کے اس کالم میں صرف ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلوانے کی کوشش کر رہا ہوں اللہ نے زندگی بخشی تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

پاکستانی کشمیری مختلف ٹور آپریٹرز آجکل برطانیہ سے حج کے لئے قافلے لے جا نے کے لئے بکنگ کر رہے ہیں میں نے رواں ہفتے پورے برطانیہ کے بیس سے زیادہ حج پر لے جانے والے ٹور آپریٹرز کو فون کرکے حج پیکجز کا معلوم کیا تو میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ایک آدمی کے حج کے اخراجات کا کم سے کم خرچ 5150 پونڈز اور زیادہ سے زیادہ 7200 کا تخمینہ بتایا گیا ہے یعنی صرف دو سٹار ہوٹل پر رہاہش والے پیکچز کے لئے ایک آدمی کو دس لاکھ روپے ادا کرنے پڑ رہے ہیں اور اگر وہ زرہ مالدار آدمی ہے اور زرہ بہتر ہوٹل میں رہنا چاہتا ہے تو 14 لاکھ روپے ادا کرے گا

ایک حاجی کو اپنی جیب خرچ کے لئے بھی تقریبا ایک ہزار پونڈ لے جانا پڑتا ہے ایسے حج ٹور آپریٹرز جو خود ایجنٹ ہیں وہ تقریباً رہائش، قربانی، ٹرانسپورٹ، فوڈ اور دیگر سفری سہولیات میں سے ایک ہزار پونڈز سے زائد منافع کما رہے ہیں جبکہ سب ایجنٹ پانچ سو پونڈز سے زائد فی کس حاجی کما رہے ہیں نفلی حج کرنے والے بھی پانچ سالہ پابندی کے باعث 535 پونڈز جرمانہ ادا کرکے بڑی تعداد میں حج ادا کر نے جاتے ہیں پہلے مولوی حضرات اور مالدار لوگ ہر سال حج پر جاتے تھے اب سعودی عرب نے پہلے حج کے بعد کچھ عرصے کی پابندی لگائی ہے حج اور عمرہ کروانے والے باقاعدہ ایک بزنس انڈسٹری سے منسلک ہیں یہ ایک منافع بخش بزنس بن چکا ہے

علمائے کرام اس بزنس کی باقاعدہ سرپرستی کرتے ہیں مفت میں حج بھی کرتے ہیں اور ٹور آپریٹرز سے اپنا حصہ بھی وصول کرتے ہیں بعض علمائے کرام تو خود اسی کاروبار سے منسلک ہیں میری طرح آپکے گمان میں بھی شاید حج پر لے جانے والے نیکی اور بھلائی کے لئے یہ کام کرتے ہونگے لیکن اکثریت کا یہ کاروبار ہے میں اپنے مسلمان برطانیہ میں ہائوس آف لارڈز کے ممبران اور ممبران آف پارلیمنٹ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ حج کے اخراجات کا معاملہ سعودی حکومت اور برطانیہ میں قائم سعودی سفارتخانے کے ساتھ آٹھائیں یہ بہت بڑا ظلم ہے اب آتے ہیں

ان عیاش مسلمانوں کی جانب جو بار بار نفلی حج کرتے ہیں خدا کا خوف کریں اللہ تعالیٰ نے زندگی میں آپ پر ایک حج فرض کیا ہوا ہے جو استعاطت رکھتے ہیں گیارہ بارہ لاکھ روپے دے کر آپ نفلی حج کرتے ہیں آپ کو غریب لوگ یاد نہیں یہ گیارہ بارہ لاکھ روپے آپ پاکستان میں اگر ایک غریب خاندان کو ارسال کردیں تو خدا کی قسم دو تین سال تک وہ خاندان اپنی گزر اوقات کرسکتا ہے اور ساری زندگی آپکے لیے دعا کرے گا

شاید اسی سے آپ کی بخشش ہوجائے چند سال پہلے تک وہی لوگ جو حج پر یوکے سے جاتے تھے، ان کا پیکج تقریباً پندرہ سے سولہ سو پونڈ تک ہوتا تھا۔مگر گزشتہ کچھ سالوں سے یہ پیکج بڑھتے بڑھتے تقریباً چھ ہزار پونڈ تک چلا گیا ہے۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ سب سے بڑی سروس اور انتظامات یوکے کے حج آپریٹرز کے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق یورپ اور بلخصوص ناروے اور ڈنمارک کے حج آپریٹرز کے انتظامات، ہوٹلوں کی رہائش اور حاجیوں کے لیے خدمات قابل تعریف ہیں۔

اس میں گورنمنٹ سعودی عرب کا بھی کردار ہے کیونکہ اگر آپ لندن میں سعودی سفارت خانے جائیں تو وہاں آج بھی بڑے بڑے نوٹس چسپاں ہیں کہ حج اور عمرہ کا ویزہ فری ہے۔جبکہ اندرون خانہ گورنمنٹ سعودی عرب نے یوکے کے کچھ آپریٹرز کو ویزہ لگوانے کے لائسنس دیئے ہوئے ہیں

ستم ظریفی یہ ہے کہ۔حج کے دوران سعودی عرب کی فلائٹس کا کرایہ وہی ہے جو عام طور پر تعطیلات میں ہوتا ہے۔جہاں تک رہائیش کی بات ہے وہی ہوٹل کا ایک کمرہ جو نارمل حالات میں سو پاونڈ فی رات مل سکتا ہے حج کے دنوں میں سو پاونڈ فی بیڈ پر دیا جاتا ہے اور پھر ایک ایک کمرے میں چھ سات بیڈ لگوا دیے جاتے ہیں اور بیڈز کا معیار یہ ہوتا ہے کہ آدمی کروٹ بھی تبدیل کریں تو گرنے کا خطرہ ہوتا ہے

ایک محتاط اندازے کے مطابق آج بھی سارے خرچے ملا کر زیادہ سے زیادہ چوبیس دن کا پیکج تین ہزار پاونڈ سے زیادہ نہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں سبزی دال آٹھ ریال اور گوشت کے ساتھ بارہ ریال کھانا ہوٹلوں پر دستیاب ہے چائے ایک ریال کی بکتی ہے جو آج سے کئ سال پہلے بھی اسی قیمت پر دستیاب تھی جو لوگ اپنے عزیز و اقارب کیطرف سے بطور سعادت قربانی(اضافی)دینا چاہتے ہوں وہ سعودی عرب کی حکومت کے قائم کردہ مختلف دفاتر میں جا کر تین سو پچاس ریال جمع کرواتے ہیں انکو قربانی کی رسید دی جاتی ہے جبکہ حجاج کرام ان سے چار سو پاونڈ تک قربانی کی مد میں وصول کرتے ہیں

میرے اندازے کیمطابق حج کے اخراجات کا تخمینہ کچھ اس طرح ہے چار ہفتے رہائش کا پیکج کچھ اس طرح ہے 1۔فلائٹ بمعہ ویزہ =ایک ہزار پاونڈ 2۔مکہ اور مدینہ میں رہائش ایک ہزار پاونڈ- 3۔منٰی میں رہائش بمعہ معلم کی فیس اور حج ڈرافٹ چار سو پاونڈ ہے 4۔قربانی فی سو پاؤنڈ کل میزان 2500 پائونڈ ہے کا بنتا ہے پاکستان سے جانے والے حاجیوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھا جاتا ہے اس پر رائے انشاءاللہ اگلی قسط میں جانیے (جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں