چیف جسٹس آزادکشمیر چوہدری ابراہیم ضیاء نے اپنے خلاف دائرریفرنس اور سوشل میڈیا پرجاری عدلیہ بارے مہم پرکھل کر اظہار کردیا

مظفرآباد( پی آئی ڈی )چیف جسٹس آزاد جموں وکشمیر جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیاء نے کہا ہے کہ بار و بینچ لازم و ملزم ہیں، وکلاء کے بغیر ایڈمنسٹریشن آف جسٹس مکمل نہیں ہوتی ۔ سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ ، سروس ٹریبونل اور عدالت ہاء ماتحت میں انصاف کی فراہمی کا کریڈٹ جہاں چیف جسٹس اور ججز کو جاتا ہے وہاں وکلاء کا بھی کلیدی کردار ہے ۔آزاد کشمیر کی موجودہ عدلیہ کی کارکردگی گزشتہ 70سالوں سے بہتر ہے ، ہمارے لیے ایک مسکین آدمی اور وزیر اعظم برابر ہیں ۔ عدلیہ کو دباؤ میں لانے کا وقت اب گزر گیا ہے آئین نے جو اختیارات دے رکھے ہیں ان کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر خاص و عام کو انصاف ک فراہمی یقینی بنا رہے ہیں ۔ کسی کو انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر کھیل رہے ہیں، سپریم کورٹ آزاد کشمیر نے پہلے ہی اس سلسلہ میں ہدایت جاری کردی ہے اور ایک اعلیٰ سطح کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ایسی من گھڑت خبریں چلانے والوں کے خلاف تحت قانون کاروائی ہوگی۔ میر ے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کی اطلاعات ملی ہیں ریفرنس دائر ہونے کی خبر ایک سال سے گردش کررہی تھی اب بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے ریفرنس کو خوش آمدید کہتا ہوں کیونکہ اگر اس طر ح کی کاروائی نہ ہوتی تو یہ بات ہمیشہ تشنہ رہ جاتی کہ الزمات درست ہیں یا من گھڑت ۔یہ ساری کاروائی بدنیتی پر مبنی ہے اور تما م جھوٹی اور بے بنیاد باتیں درج کی گئی ہیں۔ فیصلے کسی کی خواہش کے مطابق نہیں کئے جاسکتے تاہم کسی فیصلہ میں اگر کوئی سقم یا غلطی کا احتمال ہے تو اس کو ریویو کیا جاسکتا ہے ۔ ججمنٹ کو زیر بحث لانا چاہیے نہ کہ ججز کو ۔ سپریم کورٹ میں مقدمات کی تعداد بہت کم رہ گئی ہے ۔ جبکہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی محنت سے ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ میں بھی یہی مقدمات سپیڈی ٹرائل ہو رہے ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار چیف جسٹس نے صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد راجہ آفتاب احمد خان ایڈووکیٹ کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے اعزاز میں دئیے گئے پر تکلف اور پروقار عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سینئر جج سپریم کورٹ راجہ سعید اکرم خان ،چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی ، صدر سنٹرل بار راجہ آفتاب احمد ایڈووکیٹ ، صدر کوٹلی بار نے بھی خطاب کیا ۔سینئر جج سپریم کورٹ راجہ سعید اکرم خان ،چیف جسٹس عدالت العالیہ جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی سمیت سینئر جج ہائی کورٹ جسٹس اظہر سلیم بابر ،ہائی کورٹ کے ججز جسٹس رضا علی خان جسٹس راجہ سجاد احمد خان ، جسٹس سردار اعجاز احمد خان ، چیئرمین سروس ٹریبونل خواجہ نسیم ، ممبران سروس ٹریبونل ، ماتحت عدالتوں کے ججز ، قاضی صاحبان ، بار کونسل ، سپریم کورٹ بار، ہائی کورٹ بار ،سنٹرل بار ، ڈسٹر کٹ و تحصیل بار ز کے عہدیداران و ممبران سمیت صحافیوں نے بھی شرکت کی ۔

اس موقع پر چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ، سپریم کورٹ کے ججز ، چیف جسٹس ہائی کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز کے لیے ان شایان شان رہائش گاہیں تعمیر کی جائیں گی جبکہ ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس مظفرآباد کی تعمیر کا کام جلد شروع ہو رہا ہے ۔ اس کیلئے اراضی کے حصول سمیت دیگر امور میں چیف جسٹس ہائی کورٹ ، ججز اور ایڈووکیٹ جنرل کا کلیدی کردار ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ریفرنس میں لگائے گئے الزامات سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں پر ہیں جس میں سپریم کور ٹ اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے علاوہ دیگر جج صاحبان شامل ہیں انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کیخلاف رٹیں دائر ہو چکی ہیں اس طر ح کل دس ججوں کے خلاف سازش کی جاری ہے یہ سازش عدلیہ کے خلاف ہے جو کامیاب نہیں ہو گی انہوں نے کہا کہ جہاں تک برادری کے 17افراد کی تعیناتی کا معاملہ ہے یہ قطعی جھوٹا ،لغواور من گھڑت الزام ہے اول تو یہ تمام تعیناتیاں میر ے چیف جسٹس بننے سے پہلے ادوار کی ہیں دوسرا ان اسامیوں پر تعیناتی کا اختیار رجسٹرا ر سپریم کورٹ کا ہے نہ کہ چیف جسٹس کا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی غیر قانونی غیر آئینی کام کیا اور نہ کبھی کریں گے ۔ عدلیہ کی تضحیک کی کسی کو اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ چیف جسٹس کوئی تعبیرلکھنے والا پروفیسر ہے اور نہ ہی کلرک یا چپڑاسی ، چیف جسٹس کو آئین نے جو اختیارات اور اتھارٹی دے رکھی ہے ۔ انصاف کی فراہم کیلئے وہ اختیارات استعمال کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ وکلاء مجھے نہیں بلکہ رول آف لاء کا ساتھ دیں ۔ اب وہ عدلیہ گئی جو جائنٹ سیکرٹری کا استعمال کرتی تھی ۔ اب عدلیہ سیکرٹری کشمیر کونسل ، چیئرمین کونسل ، وزیر اعظم ، وزراء ، سیکرٹریز حکومت کو نوٹس جاری کر کے طلب کرتی ہے جو اس کا آئینی اختیار ہے ۔ آئین کی خلاف ورزی جو بھی کرے گااس کے خلاف کارروائی ہوگی چاہیے وہ کوئی منسٹر ہو سعید ہو یا نا سعید ہو ۔ آزا دکشمیر کی عدلیہ کے تاریخی فیصلہ جات یو این او کو ریفر ہوئے ۔

انہوں نے کہاکہ عدلیہ کو دباؤ میں لانے کے خواہش مند یاد رکھیں ہم کسی کے ملازم نہیں ہیں اللہ تعالیٰ اور آئین نے جو اختیارات دے رکھے ہیں وہ اللہ کی امانت ہیں اسی کے بھروسے پر انصاف کی فراہم اور ان اختیارات کو بروئے کار لا رہے ہیں ۔ یہ عزتیں اور عہدے اللہ کا دین اور عہدے آدمی کا قرض ہوتے ہیں عام آدمی کو ریلیف ، انصاف دے کر ان کا قرض اتار ا جاتا ہے ۔ انہون نے کہا کہ چیف جسٹس کی جانب سے وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کرنے پر اعتراض کرنے والے بتائیں وزیر اعظم آزاد کشمیر کو رپورٹ پیش کروں کہ امریکہ کے صدر کو کروں ۔جسٹس چوہدری محمد ابراہیم ضیا ء نے کہا کہ وکلا کے گھر ؤں کی تعمیر کیلئے اراضی کے حصول کو ممکن بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینئر جج راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ سنٹرل بار کا شمار عظیم بارز میں ہوتا ہے ۔ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی اکثریت سنٹرل بار کی ممبر رہ چکی ہے ۔ بار و بینچ دونوں کا تعلق لازوال ہے دونوں ملکر رول آف لاء کے لیے کام کرتے ہیں ۔ وکلاء ججز آف دی کورٹ ہیں ۔ وکلاء کی مضبوطی سے ججز جرات سے فیصلہ کرتے ہیں ججز کے منصب کا تقاضا ہے کہ وہ قانون کے مطابق فیصلہ کریں ۔ وکلاء او ر سول سو سائٹی فیصلوں کی تشریح و تعبیرسے لوگوں کو آگاہ کرے ۔ انویسٹی گیشن کی نالائقی اور کمزور پراسیکیوشن کا ملبہ جوڈیشل پر نہ ڈالا جائے ۔ ہم نے بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔

چیف جسٹس عدالت العالیہ آزاد جموں وکشمیر جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکالت ، عظیم لوگوں کا پیشہ ہے مگر اس میں شارٹ کٹ نہیں سخت محنت لگن کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جب وکالت شروع کی تو انہیں کئی عرصہ تک کیس نہیں ملے ان کے پاس ایک ٹاؤٹ آتا تھا اور کہتا تھا کہ آپ کو کیس لاکر دوں مگرانہوں نے ٹاؤٹ سے کیس لینے سے انکار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وکالت میں محنت کرنے والے بلندیوں کو چھوتے ہیں ۔ عدلیہ میں ماتحت جوڈیشری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہائی کورٹ ، لوئر کورٹس کی پراگرس تسلی بخش ہے ۔ ہائی کورٹ ہیڈ کوارٹر ، سرکٹ بینجز ، عدالت ہا ماتحت میں پرانے کیسز کا سپیڈی ٹرائل ہو رہا ہے اور مقدمہ دسپوز آف ہورہے ہیں ۔ صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن راجہ آفتاب احمد خان نے کہا کہ وکلاء رول آف لا کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ نو تعینات ججز وکلاء میں سے ہی ہوئے ہیں ان کے خلاف رٹ ہا کا رواج نہیں ہونا چاہیے ۔ اس طرح جج تعینات اور فارغ ہوتے رہے تو پھر کوئی جج نہیں بنے گا۔ کچھ لوگ نوجوان وکلاء کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں نوجوان وکلاء کی تربیت کی ضرورت ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں