سپریم کورٹ آزادکشمیر کی طرف سے حویلی قتل کیس کے فیصلے پر مظفرآباد میں سول سوسائیٹی کا احتجاج

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)آزادجموں کشمیر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا اور جسٹس راجہ سعید اکرم کے مشترکہ بینچ کے حویلی کہوٹہ میں دو نوجوانوں کے قتل کے فیصلے پر آج سول سوسائیٹی اراکین نے دارلحکومت مظفرآباد میں احتجاج کیا۔احتجاج کرنے والوں میں پی ٹی آئی حویلی کے رہنما راجہ شہاب راٹھور سمیت پی ٹی آئی خواتین ونگ کی رہنما تقدیس گیلانی ، ہولہ خان سمیت متعدد مرد و خواتین شریک تھے۔

جمعہ کی نماز سے کچھ دیر قبل مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد کے سامنے احتجاج کیا گیا جس میں حویلی قتل میں ملوث مجرموں کو سامنے لانے اور آزاد عدلیہ کیلئے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین نے کتبے اور بینر بھی اٹھا رکھے تھے۔مظاہرے کے آرگنائزر راجہ شہاب راٹھور نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حویلی میں دو بھائیوں کے قتل کیس میں نامزد مجرموں نے اعتراف جرم کرنے سمیت ان کی نشاندہی پر مقتولین کی نعشیں بھی برآمد ہو چکی تھی۔ضلعی عدالت اور ہائی کورٹ نے مجرموں کو 25 ، 25 سال سزا سنا رکھی تھی لیکن سپریم کورٹ نے مجرموں کو با عزت بری کر کے کیس ختم کر دیا جو ہمارے لیے تشویش کا باعث ہے۔

راجہ شہاب راٹھور نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے برادری ازم کی بنیاد پر اپنی برادری کے مجرموں کو سزا سے بچا لیا، لہذا ہمارا مطالبہ ہے کہ عدلیہ تمام تر تعصبات سے پاک ہونی چاہیے کیونکہ ہمارے نزدیک چیف جسٹس کسی ایک برادری کا نہیں بلکہ ریاست میں موجود تمام عوام کا ہوتا ہے۔شہاب راٹھور نے کہا کہ 13 جولائی کو ہم اس فیصلے کے خلاف ریویو پٹیشن دائر کرنے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ اس بار عدلیہ ہمارے ساتھ انصاف کرتے ہوئے قاتلوں کو سامنے لانے میں ہماری مدد کرے گی۔

کوٹلی میں پی آر پی کا احتجاج

قبل ازیں 6 اپریل کو جموں کشمیر پبلک رائیٹس پارٹی کی طرف سے کوٹلی شہر میں حویلی قتل کیس پر اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا گیا اور احتجاج کرنے والوں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ چوہدری ابراہیم ضیا پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اپنی برادری کے مجرموں کو بچانے کیلئے انہیں بری کر دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں