آزاد کشمیر میں برادری ازم کا خطرناک کھیل

تحریر:عمیر پرویز خان

چیف جسٹس سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے خلاف ممبر اسمبلی سردار خالد ابراہیم خان (مرحوم) نے گزشتہ برس اسمبلی فلور پر تقریر کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ ہائی کورٹ کی تعیناتیوں میںچیف جسٹس سپریم کورٹ نے خلاف آئین اقدام کیا ااور تمام قبیلوں کو ایڈ جسٹ کرتے ہوئے تعیناتیاں عمل میں لائیں جس سے انصاف کا قتل ہو ا ہے اور آئین میں وضح کردہ اصولوں سے منخرف ہوتے ہوئے ایک آسامی کے خلاف ایک ہی نام تجویز کر کے ججز کی تعیناتی کی جو سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اس میں مزید یہ نقطہ بھی اٹھایا گیا کہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس آفتاب تبسم علوی نے ان سفارشات پر مختلف رائے دی اور ان کی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ تقرریاں عمل میں لائی گئیں جواخلاقی و قانونی اعتبار سے درست نہ تھا۔اس تقریر کے دوسرے دن جسٹس ابراہیم ضیاء نے سردار خالد ابراہیم خان کو عدالت میں آ کر وضاخت کرنے کا نوٹس جاری کیا جس پر سردار خالد ابراہیم خان نے اصولی موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اور آزاد کشمیر کے آئین کی دفعہ ۳۴ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے لہذہ اس غیر آئینی اقدام کو نہیں مانتا اور اس چیف جسٹس کی عدالت میں پیش نہیں ہوں گا۔

سردار خالد ابرہیم خان جیسی شخصیت کا اس طرح کا موقف چیف جسٹس اور حکومت دونوں کے لئے درد سر بن گیا اور اس پورے عرصہ میں ریاست بھر میں ملا جلا ردعمل سامنے آتا رہا لیکن سردار خالد ابراہیم خان کے موقف کو ریاست کی تمام برادریوں سمیت وکلاء کی بڑی تعداد نے سراہا اور ان کی حمایت میں بیان بھی دئیے جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس تمام وقت میں کچھ عقل سے عاری لوگ اسے برادری ازم کا بھی رنگ دینے کی کوشش کرتے رہے لیکن خالد ابراہیم خان کی شخصیت کے ہوتے ہوئے وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ سردار خالد ابرہیم نے کبھی بھی کسی ایک مخصوص برادری و قبیلہ کے مفاد کا تخفظ نہ کیا بلکہ ہمیشہ اصول کے ساتھ کھڑے رہے جس کی بے تحاشا مثالیں موجود ہیں لیکن قارئین کے حافظہ کو تازہ کرنے کے لئے خالد ابراہیم خان کا ۹۰ کی دہائی میں عتیق کمیشن کے خلاف اسمبلی سے احتجاجاََ استعفیٰ دینا اور پھر اس کے نتیجہ میں ۴۸۴ لوگوں کا ملازمتوں سے فارغ ہونا جس میں اکثریت سردار خالد ابراہیم کے اپنے قبیلہ اور پونچھ کے لوگوں کی تھی ، بہترین نظیر ہے۔

سردار خالد ابراہیم کے اسی اجلے اور شفاف کردار کی بدولت ان شر پسند عناصر کی سازش کامیاب نہ ہوسکی تھی لیکن اب جب خالد ابراہیم جیسی عظیم شخسیت ہمارے درمیان موجود نہیں تو پھر اسی کیس میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کے خلاف مروجہ طریقہ سے قانونی طور پر دائر کئے گے ریفرنس کو بنیاد بنا کر وہی شرپسند عناصر ایک بار پھر برادری ازم کا سہارا لے کر ریاست میں انتشار پھیلانے کے در پر ہیں۔ اس عمل میں ریاست کی دونوں بڑی اور معتبر برادریوں (سدھن اور چودھری)کے کچھ نام نہاد دانشور اور غیر ذمہ دار نا عاقبت اندیش حکومتی وزراء شامل ہیں جو افسوسناک ہے۔

ریفرنس دائر ہوتے ہی چیف جسٹس کی برادری کے آٹھ وزراء نے پریس میں یہ موقف اپنایا کہ اس عمل سے گجر برادری کی تضخیک ہوئی ہے جو کہ راقم کی سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ ریفرنس کسی نخصوص برادری کے خلاف دائر نہیں کیا گیا بلکہ آزاد کشمیر کے چیف جسٹس کے خلاف قانون و آیئن کے دائرہ میں رہتے ہوئے دائر کیاگیا ہے۔ اس ریفرنس میں چیف جسٹس کے خلاف لگائے گے الزامات کو وزارت قانون اور پھر متعلقہ اداروں و ذمہ داران کے سامنے دفاع کیا جانا چاہئے نہ کہ پریس میں غیر ذمہ دارانہ بیانات دے کر اسے دو برادریوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہئیے۔ وزراء کے اس طرز عمل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ، وزراء کے اس عمل سے اس اندیشہ کو تقویت ملی ہے کہ چیف جسٹس کسی ایک مخصوص برادری کی ایماء پر فیصلہ کر ہے ہیں ۔ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کو چاہئئے کہ وہ ان وزراء سے اس عمل کی وضاخت طلب کریں اور ریاست میں امن اور رواداری کا پیغام دیں جو ان کا اخلاقی فرض ہے ورنہ ان کی خاموشی کو ان جیسے عناصر کی پشت پناہی تصور کیا جائے گا اور تاریخ میں ان کا کردار مشکوک تصور ہو گا۔

دوسری جانب وزراء کے اس عمل کے خلاف سوشل میڈیا پر سدھن برادری کے حامی لوگوں نے بھی اس قانونی اور میرٹ کی تحریک کو قبیلہ اور برادری کی جنگ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ہے۔ آئے روز سوشل میڈیا پر چیف جسٹس کی برادری کے خلاف تحریریں پڑھنے کو مل رہی ہیں جو سراسر سردار خالد ابرہیم خان کی کاوشوں اور ریاست میں میرٹ کی حکمرانی کے لئے دی گئی قربانیوں کی نفی ہے۔ کسی بھی براردی کو برا بھلا کہنا اور غلط القابات استعمال کرنا کبھی بھی خالد ابراہیم خان کی تربیت کا خاصہ نہیں رہا ہے۔ اس تمام عمل میں چیف جسٹس کا ازخود پریس میںاپنے دفاع میں بیان بھی جلتی میں تیل کا کام کر گیا اور یہ عمل بھی کسی صورت آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میںدرست نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کا میڈیا میں اپنے دفاع میں یوں آنا بھی انکو مزید متنازعہ بنا رہا ہے اور یہ طرز عمل عدلیہ جیسے معتبر ادارہ کے مفاد میں نہیں ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ برادریوں اور قبیلہ ازم کی اس جنگ کو مزید نہ بڑھا یا جائے اور خالد ابراہیم خان کی تحریک کے حمایتی اُن کے فلسفہ کو سمجھتے ہوئے آئین و میرٹ کی اس جنگ میں برادری ازم کی اس لت کو ہرگز شامل نہ ہونے دیں اور اخلاقی اور سیاسی طریقہ سے میرٹ کی حکمرانی یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور موجودہ عدلیہ کے خیر خواہوں کو بھی چاہئئے کہ وہ اپنے طرز عمل سے اعلیٰ عہدوں ر بیٹھے ہوئے لوگوں کو مزید متنازعہ نہ بنائیں اور قانونی طریقہ سے اپنے موقف کا دفاع کریں کیونکہ یہ ریاست کے مفاد میں نہیں ہے اور اگر برادری ازم کی آگ ریاست میں زور پکڑ گئی تو اس کو بجھانا شائد ہم ایسے لوگوں کے بس میں نہیں ہو گا کیونکہ آج ہم میں سردار ابرہیم ، کے ۔ ایچ خورشید ،سردار عبدالقیوم، چوھدری نور حسین ، ممتاز راٹھوراور سردار خالد ابراہیم خان جیسی قد آور شخصیتیں موجود نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں