نکتہ نظر/انجینئررزاقت ممتازعباسی

آنے والا وقت اور5G

میں سال2001 میں آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں  میٹرک کا طالبعلم تھا۔ گھر سے دور ہاسٹل میں رہتا تھا اور کئی کئی ہفتے گھر فون پہ بات نہیں ہو پاتی تھی۔گاؤں میں ہینڈل سے گھمانے والے فون تھے جنکو پہلے ‘ایکسچیج’ میں ملا کر کسی دوسرے شہر کا نمبر ملانے کی درخواست کی جاتی تھی۔گھر سے جب بھی کال آتی تو سیکورٹی گارڈ کو بتایا جاتا کہ آدھے گھنٹے میں دوبارہ کال کریں گے۔ تعلیمی ادارے اور ہاسٹل کے اکلوتے ”چوکیدار بابا” ادارے اور ہاسٹل کی عمارت میں فاصلے کی وجہ سے چاچا ‘کُک’ کو آواز لگاتے کہ فلاں شخص کو جلدی سیکیورٹی کمرہ میں بھیجا جائے۔کبھی انکی آواز کوئی نہ سُنتا تو چھوٹے کنکر کچن کی چادر والی چھت پہ گرتے تو سب سمجھ جاتے کے چوکیدار بابا کا بلاوہ آیا ہے۔ہم خوشی خوشی بھاگتے جاتے اور گھر بات کر کے خوش ہو کے ”گرام بل” صاحب کو دُعا دیتے۔

آواز کی کوالٹی کو یکسر نذر انداز کر کے شکر بجا لاتے کہ آخر یہ سہولت تو میسر ہے۔تب تو ایک شہر سے دوسرے شہر میں رہنے کو پردیس سمجھا جاتا تھا جبکہ آج تو ہزاروں میل کی دوری بھی قابل برداشت ہے’ٹیکنالوجی’ کی رفتار کی وجہ سے۔وقت گزرتا گیا، پھر اچانک کچھ لوگ شہروں اور دیہی علاقوں میں لمبے ایریئل والے وائرلیس (بغیر تار والے) آلات کے ساتھ دیکھے گئے۔شروع میں محسوس ہوتا تھا کہ شاید کسی حساس ادارے کے لوگ ہیں کیونکہ اس سے تھوڑے بڑے آلات تو اکثر پولیس کے پاس شاں شاں کرتے دیکھے تھے۔پھر کسی نے بتایا کہ اسکو ‘موبائیل فون’ کہتے ہیں اور ہم سیدھے سادے لوگوں کو جو جو فضائل و برکات بتائے گئے من و عن مانتے گئے مگر اسکو سمجھنے کے بجائے صرف استعمال کے پیچھے لگ گئے۔مزید وقت گزرا تو سال 2003 میں انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے لئے راولپنڈی کا رخ کیاتب تک چیدہ چیدہ لوگوں کے پاس یہ آلات آ چکے تھےاور خود بھی فرمائش کر کے گھر سے دور ہونے کا بہانہ بنا کر ایک عدد بابا 3310 تک رسائی ہو ہی گئی۔

ارے صاحب مت پوچھیں کیا مزہ تھا بابا 3310 کے استعمال میں۔ہم بڑے اترائے بابا کی صحبت میں لیکن ہم کتنے نادان تھے،ہمیں کیا خبر تھی کہ تب سے 15،16 سال بعد نیا پیدا ہونے والا بچہ سیلفی بنوا کر پہلی مسکراہٹ بکھیرے گا تو خود کو روک لیتے شاید۔ پھر ہر طرف چھوٹے چھوٹے مقابلے شروع ہو گئے اور علم و تحقیق کے بجائے حضرت موبائل کے فضائل و برکات گفتگو کا لازمی حصہ بنتے گئے۔مقابلہ یہ شروع ہوا کہ
• چار لوگوں میں بیٹھ کہ اپنے فون کے ‘کی پیڈ’ کی آواز دوسروں سے زیادہ ہونی چاہئیے ۔
• پیغام لکھنے کی رفتار دوسروں سے زیادہ ہونا اس بات کی دلیل تھی کی ہم پرانے صارف ہیں۔
•اپنے فون کا سیفٹی کوّر سب سے زیادہ خوبصورت ہونا چاہیئے۔
• مارکیٹ میں موجود تازہ ترین رنگ ٹون اپنے فون میں لازم ہو۔
• سانپ والی گیم پر مکمل عبور ہونا چاہیئے تا کہ اپنا بہترین سکور بتا کر واہ واہ وصول کی جا سکے۔
• چاجر اوریجنل ہونا چاہیئے۔
• بیٹری کم ہو تو اسکو زبان لگا کے چارج کیے جانے کا پتہ ہونا بھی ضروری تھا۔

ہزاروں برکات کسی اور وقت میں تفصیل سی بیان کی جا سکتی ہیں۔ابھی آگے بڑھتے ہیں ، وقت گزرتا رہا اور ہم اس برقی آلے کے عادی ہو گئے۔اسکی نئی نئی خصوصیات کو سمجھنے کے چکر میں اپنے قریب رہنے والے دوست رشتہ داروں کو سمجھنے سے قاصر ہوتے گئے۔سال 2008 میں یونیورسٹی میں کسی دوست کی دعوت پہ ‘فیسبک’ میں اپنا کھاتا کھولا مگر تب اسکو صرف کمپیوٹر بابا پہ استعمال کرتے تھے۔ انٹرنیٹ کا استعمال سال 2001 میں انٹرنیٹ کیفے سے کیا جو سال 2010 تک جاری رہا۔2010 میں یونیورسٹی کے آخری سال میں تھے تو ‘یو ایس بی انٹرنیٹ Evo’ ہاتھ آ گئی۔پھر نہ پوچھو بھائی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا بس الٹا سیدھا استعمال شروع۔ابھی تک بھی سب ٹِھیک تھا مگر اچانک بازاروں میں سمارٹ فون نے حملہ کر دیا اور کچھ بڑے شہروں میں 1G اور  2G سروس شروع کی گئی

۔ہم بہت خوش تھے صاحب اور ہم نے اسکو بھی صرف استعمال ہی کیا۔انٹرنیٹ کی دنیا میں تہلکہ مچتا رہا اور ہم ترقی یافتہ ملکوں کے سالوں بعد بھی موصول ہونے والی سہولتوں کو نو مولود سمجھ کے استعمال میں لگ  گئے۔مزید وقت گزرا تو 3G اور 4G نے مزید پاگل کر دیا۔اور ہم ‘سوشل’ ہوتے گئے، انتہائی مثبت یا منفی استعمال کو یکسر نذر انداز کرتے ہوئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگ گئے اور سوشل میڈیا کے پجاری ہو گئے۔ترقی کی یا نہیں کی مگر ‘سوشل میڈیا’ کے ماہر ضرور بن گئے۔ ابھی بھی ہم دنیا کے معاملات اور اپنی بہتری میں کوسوں دور ہیں کیونکہ ہماری توجہ اپنے صاف کپڑوں ، چمچماتے موبائل فونز ،  اچھا رہنے اور کھا پی کے سو جانے پر  ہے۔ترقی یافتہ ممالک ہیں نا نئی نئی ایجادات کرنے کے لئے اور ہم سے پیسے بٹورنے کے لئے۔سب کچھ اُنکی جیب میں ڈال کر خود کو غریب اور پسماندہ ملک کے غریب معصوم باشندے کہہ کر ہمدردیاں بٹور لیتے ہیں ، قصہ ختم ،کھایا پیا ہضم۔کیونکہ ہم تو معصوم ہیں۔جی صاحبان اب آپ کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ ترقی یافتہ دنیا میں 5G ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا چکی ہے۔

جنوبی کوریا اور امریکہ میں اسکے کامیاب تجربے کئے جا چکے ہیں۔ہر فرد کو تو اس تک رسائی نہیں ہوئی اب تک لیکن انکے کاروباری مراکز وغیرہ میں یہ سہولت موجود ہے۔جبکہ جاپان، چائنہ اور مڈل ایسٹ کے کئی ممالک اسکی ‘لانچنگ’ کے لئے بالکل تیار ہیں۔ جبکہ برطانیہ کی ایک vodafone نامی کمپنی جو یورپ سمیت ، ایشیا اور مشرق وسطی کے کئی ممالک میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گھاڑھ چکی ہے نے برطانیہ کے ‘مانچسٹر’ ائیر پورٹ’ پر اپنا ایک ‘5G’  ٹیکنالوجی کو چلانے والا ایک outlet متعارف کیا ہے جس میں خودکار routers کے ذریعے آپ اپنے 4G  چلانے والے آلات سے 5G استعمال کر سکتے ہیں۔اُنکے مطابق جو چیزیں آپ 4G پر 26 سے 30 منٹ میں ‘ڈاؤنلوڈ’ کرتے ہیں وہی آپ 5 سے 6 منٹ میں کر سکتے ہیں۔رفتار کی بات کریں تو 4G آپکو 10 سے 20 ‘میگا بِٹس پَر سیکنڈ’ کی رفتار دیتی ہے جبکہ  5G آپکو 20′ گِیگا بِٹس پَر سیکنڈ’ کی رفتار سے انٹرنیٹ چلانے کی سہولت دے گی جو کہ 4G سے تقریباً سو گنا زیادہ رفتار ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ نئی آنے والی پر آسائش گاڑیاں  5G پر چلائی جائیں گی اور آپ کہیں بھی بیٹھ کر اُن خود کار گاڑیوں کو سڑکوں کے اوپر کسی وڈیو گیم کی طرح دوڑا سکیں گے۔ اور اگر سڑک پر موجود ہر گاڑی کو 5G پر کر دیا جائے تو آپ حادثات اور ‘ٹریفک’ کی خلاف ورزیوں کو صفر کر سکیں گے کیونکہ سب گاڑیاں آپس میں ایک دوسرے کو ‘سگنلز’ بھیج کر سڑک پہ چلنے کو محفوظ ترین بنا دیں گی۔اِسی طرح فیکٹریز یا صنعتی دور میں خودکار نظام کا ایک انقلاب آ جائے گا۔بڑی عمارتوں کے خود کار ‘انفارمیشن ٹیکنالوجی’ کے شعبوں میں بلاشبہ بہت بڑا انقلاب آنے والا ہے کیونکہ 4G نظام اگر آپکو 100 سے 200 ‘ملی سیکنڈ’ میں جواب دیتا ہے تو 5G آپکو ‘1 ملی سیکنڈ’ جتنے کم وقت میں جواب دے گا جو کہ انتہائی تیز ترین وقت ہے۔بڑی بڑی کمپنیوں کے مالکان اس انقلابی پیش رفت کے عام ہونے کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور اپنی تکنیکی کمزوریوں پر زور و شور سے کام کا آغاز کر بھی چکے ہیں تا کہ 5G کی آمد سے زیادہ سے زیادہ کاروباری فوائد لئے جا سکیں۔

موبائل فون کمپنیز بھی  5G سے مطابقت رکھنے والے فون بنانے میں زور و شور سے کام کر رہی ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ 2019 کے آخر تک یا 2020 تک ایسے فون بازاروں میں سب کی رسائی تک آجائیں گے۔ موبائل کمپنیوں کو یہ نظام متحرک کرنے میں کچھ مشکلات ضرور درپیش ہونگی کیونکہ 4G کا نظام 10 کلومیٹر تک سگنل آسانی سے بھیج سکتا ہے جبکہ 5G کا نظام صرف 300 میٹر تک کارآمد سگنلز بھیج سکے گا۔ وائرلیس کمپنیوں کے لئے آغاز میں یہ مشکل تو ہو گا مگر ایک بار اگر یہ سارا نظام لگا دیا گیا تو بلاشبہ ہماری زندگیاں 3310 کے زمانے کو بالکل بھول جائیں گی۔

جی صاحب۔۔۔
سوال یہ ہے کہ نئی آنے والی ٹیکنالوجی کو بھی ہم فوٹو ارسال کرنے اور ویڈیو دیکھنے کے لئے ہی استعمال کریں گے یا کوئی اور بھی فائدہ لیا جا سکتا ہے اس سے؟
یہ ہے روداد آج کے ترقی یافتہ ممالک کی۔ تکنیکی بنیادوں پہ آگے بڑھنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں مگر ہمارے لوگ ، ہمارا ملک اگر ان ایجادات اور سائنسی میدانوں میں کوئی تاریخ رقم کریں تو یقیناً خوشی کا سچہ جذبہ جاگ جائے۔بحرحال مایوس تو اللہ پاک کی رحمت سے ہم کبھی بھی نہیں ہیں اور دُعا گو ہیں کہ پوری دنیا میں ہونے والی ایجادات میں ہم بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر کے اپنے ملک کا نام روشن کر سکیں،امین

اپنا تبصرہ بھیجیں