حویلی قتل کیس پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سول سوسائیٹی کا دولہے سمیت نیشنل پریس کلب اسلام‌آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ

اسلام آباد (سٹیٹ ویوز) آزاد کشمیر کے ضلع حویلی گاؤں ہالن شمالی کے دو سگے بھائیوں کو 2013 میں انتہائی وحشیانہ انداز میں قتل کیا گیا۔ اس قتل کیس پر سپریم کوٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے ملزمان کو بری کردیا تھا ، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف مقتول کے لواحقین اور شہریوں نے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے نیشنل پریس کلب کے باہر ایک مرتبہ پھر احتجاج کیا ہے، اس سے قبل کوٹلی ، مظفرآباد اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر ایک ، ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جا چکا ہے. نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کی خاص بات یہ تھی کہ حویلی سے تعلق رکھنے والا دولہا راجہ شاہد راٹھور اپنی بارات لیکر دھرنے میں پہنچا اور مظاہرین سے اظہار یکجہتی کی.

نیشنل پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے ان دونوں مقتولین کے کیس میں سپریم کورٹ آزاد کشمیر کا حالیہ فیصلے کو ورثاء کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دو حویلی کے سگے بھائیوں محبوب اور نعیم کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا- ان کی نعشوں کو مسخ کر کے ویرانے میں پھینک دیا گیا تھا، گرفتاری کے بعد ملزمان نے اعتراف جرم کیا اور نعشوں کی نشاندہی کی جس کے بعد نعشیں برآمد کی گئی تھیں۔ سیشن کورٹ حویلی کہوٹہ میں اعتراف جرم کے بعد آلہ قتل بھی ملزمان نے خود عدالت کے سامنے پیش کیا جس پر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے 25 سال قید اور دس دس لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی اپیل کی صورت میں ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھا۔

مجرموں کو بچانے کیلئے ان کے ورثاء سپریم کورٹ چلے گئے جہاں سپریم کورٹ نے مجرموں کے اعتراف جرم ،ان کی نشاندہی پر نعشوں کی برآمدگی اور آلہ قتل کی برآمدگی کے باوجود بھی سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیکر ان مجرموں کو بری کرتے ہوئے کھلی چھوٹ دیدی۔مقتولین کی والدہ نے انصاف نہ ملنے پر سپریم کورٹ آزاد کشمیر کے سامنے خود سوزی کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے.

مظاہرین کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آزاد کشمیر نئے سرے سے اس کیس کی تفتیش کروائیں ۔ورثاء نے عدالت سے اپیل کی کہ الحاج اشرف قریشی کیس کے فیصلے کی طرح اس فیصلے پر بھی نظر ثانی کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے تفصیلات کے مطابق مقتولین کی والدہ نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے قتل نہیں کیا تھا تو انہیں یہ کیسے پتہ تھا کہ نعشیں کہاں پڑی ھیں۔اگر قتل نہیں کیا تھا تو آلہ قتل کیوں جمع کروایا؟۔ سپریم کورٹ سے ملزمان کو بری کیے جانے پر سول سوسائٹی نے کہا کہ اگر بری کیے جانے والے بے گناہ ہیں تو پھر مقتولین کے قاتل کون ہیں جبکہ انھی ملزمان کی نشان دہی پر محبوب اور نعیم کی مسخ شدہ نعشیں درجنوں لوگوں اور پولیس کی موجودگی میں برآمد کیں تھیں ۔اب عدالت مقتولین کے ورثا کوانصاف دے .

سول سوسائٹی اراکین کا کہنا تھا کہ اگر بری کیے جانے والے ملزمان بے گناہ ہیں تو پھر عدالت کو چاہیے تھا کہ کیس کی از سر نو تحقیقات کا حکم دیتی ،اور مقتولین کے اصل قاتلوں کو سامنے لانے کا حکم دیتی ۔ہم معزز چیف جسٹس سپریم کورٹ اور وزیراعظم آزاد کشمیر سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کیس کی دوبارہ از سرنو تحقیقات کا حکم دیں اور محبوب اور نعیم کے قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر انصاف کی یہی حالت رہی تو آزادکشمیر میں جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں کئی اور ماؤں کے بیٹے بھی ایسے ہی بے گناہ قتل ہوتے رہیں گے اور اگر عدالتوں سے انصاف نہ ملا اور اسی طرح کے فیصلے آتے رہے تو  پھر لوگ اپنی عدالتیں خود ہی لگائیں گے. مقتولین کے ورثا کا کوئی زریعہ معاش نہیں گھر میں فاقے پڑ رہے ہیں. مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر ریاست کی سب سے بڑی عدالت ایسے ہی قاتلوں کو باعزت بری کرتی رہی تو پھر معاشرے میں ھر کوٸی دو چار افراد کو قتل کر  کے باعزت بری ھونے کاسرٹیفیکیٹ حاصل کرتا پھرے گا۔

اس موقع پرسول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین جے کے پی پی کے سابق چیف آرگنائزر ابرار احمد یاد، سپریم ہیڈ جموں و کشمیر پبلک رائٹس پارٹی چوہدری شفیق. چیئرمین جموں و کشمیر پبلک رائٹس پارٹی شہزاد خورشیدراٹھور،سدھن قبیلے کے رہنما ڈاکٹر کلیم، نائب صدر پاکستان تحریک انصاف ضلع حویلی دلفراز شاہین راٹھور ،راجہ محمد شاہد راٹھور، راجہ عمر عزیز راٹھور، راجہ ساحل راٹھور، اور دیگر نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ سے خطاب کیا .انہوں نے کہا کہ اگر ملزمان بے گنا ہ ہیں تو پھر نعیم اور محبوب کے قاتل کون ہیں اور ان کو سزا کون دے گا۔؟  ہمیں اعلیٰ عدالتوں پر اعتماد ہے اور یہ اعتماد بحال رہنا چاہیے ۔اعتماد اسی صورت میں بحال رہ سکتا ہے جب متاثرین کو انصاف ملے گا ورنہ لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ جب عدالتیں کسی مقتول کے قاتل کو سزا نہ دیں تو پھر ورثا کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ خود خون کا بدلہ خون سے لیں تو پھر ریاست کی ذمہ داری کیا رہ جاتی ہے ؟ مظاہرین کا کہن اتھا کہ جب تک دونوں بھائیوں کے قاتلوں کو قانون سزا نہیں دیتا تب تک ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں