تیربہدف/خضررفیق

ہماراشہر

آج وضعدارانشاء جی یادآئے-انھو‌ں‌نے ساری زندگی موقع پرستی ردکرتے ہوئے گزاری،شہروالوں نےرستے روک لیے توکہاانشاء جی اٹھواب کوچ کرواس شہرمیں جی کالگاناکیا،شہروالے توشہروالے ہوتے ہیں مگرکُوچ کرنے کودل ہے کہ مانتانہیں-اپنے شہرکے بغیرجی نہیں لگتا-مُلّا واحدی نوائےوقت میں لِکھا کرتے تھے،تقسیمِ برِصغیر کے بعد پاکستان چلے آئےباوجُود پاکستانی ہونے کے دہلی اُن کے دل سے نہ گئی-کہتے ہیں دہلی اُس کا دل چھین لیتی ہےجو صاحبِ دل ہو اور دہلی کہ سات مرتبہ اُجڑنے اور بسنے کاتاریخی شَعوررکھتا ہو. بِیتے دِنُوں کی یادیں ہوں جس میں وہ شہر بُھلاناممکن نہیں ہوتا،مُختار مسعُود نے پھبتی کَسی،مُلا واحدی نے شادیاں تین کیں لیکن عشق دہلی سے کیا-اپنا شہر تو عرُوس البلاد ہوتا ہے.ہم اونچی جگہ بیٹھ کے جب اپنے شہر پے نظرمارتے ہیں توحلقہ در حلقہ تصویر بنتی چلی جاتی ہے-میرے شہرکہ لوگوں کاماتھاچمکتاہے-

ایک دوسرے کااحساس اورمہمان نوازی ہماراشیوہ رہاہے-شہر میں چلتے لوگُوں کو دیکھ کر نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ بےیقینی اور بداعتمادی کے سائے شہرکاشہر گھیر چُکے ہیں-ہرشخص کی خاموشی میں ایک بے چینی چُھپی بیٹھی ہے-بےچین نظرراہ کہاں سے بُھولی کوئی راہبر ہوتو بتلائے-اب یہ عالم ہے کہ ہماراقافلہ سنگِ میل،منزل جُستجو اوراحساس سے غیرمسلح ہوتاجارہاہے-نےہاتھ باگ پرنہ پاہے رکاب میں والی کیفیت-شہر کا شہر اسیرِغم،سُودوزیاں کی چوٹ کھایا ہُوالگتاہے-کوئی شوخ اِس بِھیڑ میں ہنستا مُسکراتا نظرآجاوے تویُوں لگتا ہے جیسے ویرانے میں چُپکے سے بہار آگئی یااچانک زندگی کے ساز پے کوئی غزل چھیڑ گیا-اپناشہرشوخیُوں سے محرُوم ہرگِز نہیں البتہ سائیں سائیں ضرُور کرتا ہے-کُچھ محنت کش ریڑھی لگا کے ایسے بیٹھے ہُوئے ہیں جیسے سُوکھے ہُوے تالاب پے بیٹھے ہُوئےہنس،سُوکھے ہُوئے تالاب پے بیٹھ کر پیاس بُجھانا کوئی مزدُور سے سیکھے -امیرِ شہرکامعدہ تواِسقدر تگڑاکے جائز لُقمہ اُسکاکُچھ نہ بگاڑ پائے-کُوچہ وبازار سے ریزہ ریزہ خواب چُن کر جھونپڑا آباد رکھنامزدُور کاایسافن ہے جِس کے بغیر فن کی کتاب نامکمل ہے.

مہنگای اور منافع کےگھاؤ اپنی جگہ نفسانفسی نے شہرکو زیادہ گھائل کیا ہے،شہر کے لوگ جب ساری توانائیاں ایک دُوسرے کاراستہ روکنے پرلگادیں توزندگی بوجھ بن جاتی ہےاورچین کی گھڑی ناراض،شہر میں ٹریفک کا رش ہے- کبھی کبھی ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوجاتی ہے وجہ یہ کہ چوری کی گاڑیوں کے خلاف پولیس بہادر آپریشن کررہی ہوتی ہے-چوری کی گاڑیوں پے بیٹھ کے اپنے آپ کو کراوُن پرِنس ثابت کرنے والے گاڑیوں سمیت غائب ہوجاتے ہیں-جب سیاست،حکُومت اور شرافت چوری کی گاڑیوں میں گھُومنا شروع ہوجائے توسمجھ لیجئےکہ کوئی حادثہ ہماری طرف پیش قدمی کررہا ہے-کاش چوریاں چہرے پے لِکھی ہُوئی آجاتیں جب جائزاور ناجائزکا فرق مِٹ جائے بازاور گِدھ کاوزن ایک ہو جائے،گھوڑے اور گدھے میں فرق نہ کرسکے کوئی معاشرہ توگردش پُوری کی پُوری تہزیبُوں کومٹی میں ملادیتی ہے-

توسینکڑوں سالوں کے بعد جب کوئی تہذیب آثارِ قدیمہ کی صُورت میں دریافت ہوتی ہے-میُوزم سجتے ہیں اور تماشہ لگتاہے.ایک چھوٹاساپولیس چھاپاشاہراؤں کوشیشہ بناسکتا ہے تو قانُون کی مکمل عمل داری قومُوں کوکس قدرچین کی دولت سے مالا مال کرتی ہوگی؟ہائے نہ پُوچھو..شہر میں ایک عدد جیل بھی ہے جِسے دیکھ کر راجہ انور کی چھوٹی جیل سے بڑی جیل تک یاد آجاتی ہے-معاشرُوں اور شہرُوں کو تنگ نظری ایک زنداں میں بدل دیتی ہے-شہر ایک بڑی جیل جبکہ پولیس کی جیل چھوٹی جیل کی مانند ہو جاتی ہے-آباؤاجداد کاشہر ہواُوپر سے غضب یہ کے شہر کانام ہی باغ ہوتو طبیعت باغ بہاراں کیوں نہ ہو؟،مُلاواحدی نے عِشق اگر دہلی سے کیاتو کیا بُرا کیا؟مُلاواحدی زُلف کی زنجیر میں نہ پھنسے مگر یادِماضی والی زنجیر کی گرِفت نہ توڑ سکے-دہلی کی طرح اپناشہر بھی ایک مرتبہ ہماری نظروں کے سامنے اُجڑا-

2005 کے زلزلے میں کتنے شُرفا ءنے ثابت کیا کے افراتفری واقعی ایک سیڑھی ہے-ہمارے شہر کو ہماری ہراایک پیڑھی نے اپنی نظر سے الگ رنگ میں دیکھا۔میرے داداجان نےباغ کو جیالال اور جواہرسنگھ کےرنگ سے بھر پور دیکھا -کوہالہ سے نمک لا کر کھایا- ہری سنگھ کا تاج اچھلتے ہوئے دیکھا -ابو جی نےاسےبجلی گیس ریڈ یواورٹیلی ویژن کے ساتھ، مگر انٹر نیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے بغیر دیکھا اگر دونوں باپ بیٹا آج باغ میں جلوہ افروز کر دیئے جائیں تولرزہ براندام رہ جائیں-حیران ہوں- دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں کی عملی تصویر بن جائیں -میری یا دا شت میں چسپا ں دُھند لا سا منظر انگڑائی لیتا ھےاور ٹو ٹ جا تا ھے- میں قاعدہ یا پہلی کی کتاب لینے والد کے ساتھ باغ جا رہا ہُوں پہنچ کراپنی کپڑوں کی دکان پر بیٹھا سڑک سےچھن چھن کی آواز آئی ایک جسیم اور حسین شخص کا سڑک سے گزر ہوتاہے-پاؤں میں کڑےاور جسم پے لؤہا پہنے ہوئےبڑوں کے تذکرے سے معلوم ہوا ساہیں کالا صاحب ہیں-گویا کہ باغ روحانیت کی لپیٹ میں ہے-سُودیت کیسے مسلط ہُوئی یہ کہانی پھر سہی-والد صاحب کے ایک دوست مجھے دُودھ جلیبی کھلانے ہوٹل لے جاتے ہیں جو ستار ہوٹل کے نام سے مشہور ہے-اس دُودھ جلیبی کا ذائقہ اگلے جنم تک ہمراہ رہے گا-

کہاں دیسی دودھ جلیبی کی سوغات اور کہاں ملک پیک کی کرتُوت،جن چشمُوں اور ناڑوں سے پانی برستا تھاآج آگ برستی ہے-میری پہلی باغ یاترا کی ننھی سی یاداشت فقط اتنی ہے جب ہم گاؤں کے پرائمری سکول سے پانچویں پاس کرکے پائلٹ ہائی اسکول میں داخل ہُوئےشہرکو بالکل الگ انداز میں ملاحظہ کیا۔ہم نے مہینے میں ایک دن چھپنے کے لیے مختص کر دیا-آجکل کی بائی پاس روڑکی جگہ بیلےآبی زمینیں ہوا کرتی تھیں -ہم چند دوست ان بیلوں میں چھپ جاتے تھے-چھٹی کے وقت بستہ اٹھا کہ گھر آجاتے تھے گویا کہ علم حاصل کرنے گئے تھے-وہ بیلے کیا سے کیا ہو گئے-آبادیاں اجڑ گئیں ویرانے آباد ہو گئے-میدان کارزار میں جن لوگوں کی سیاست خیمہ زن تھی وہ واقعی راہبر ہونے کادعو’ی کرسکتے تھے-اُس وقت سیاست لیڈر کرتے تھے آجکل پراجیکٹ لیڈر،شاہوں کو گدائی ملی-محتاج غنی ہو گئے-تصویر میں ایک بڑی گہری کھائی تھوڑی سی نظر آرہی ہے-

بڑی عمارتوں نے اسے ڈھانپ لیا ہے-یہ عمارات وہ تعمیر کر رہے ہیں جو شرع صدر سے لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ دنیا عارضی فانی اور پلیت ہے-اسی تصویر میں اونچے مینار ہمارے مذہب کی بلندی کا اشارہ دیتے ہوے شکوہ زن ہیں کہ ہمیں پُرخلُوص نماز سے محروم کر دیا گیا ہے-تسبیح پھری پر دل نہ پِھریا،اس تصویر میں بازار سے متصل ایک کچہری نظر آرہی ہے جہاں ہماری عملی زندگی اور عقیدے کا تصادم پورے عروج پے ہے۔قول وفعل کا تضاد منافقت کی علامت ہوتا ہے-اس تضاد کے باوجُود پارسائی کا دعویٰ سمجھ سے بالا تر ہے-گویا کہ خداہماری سیاسی و سماجی ضرورت ہے نہ کہ دینی-یاد رہے کہ تقسیمِ برصغیر سے قبل یہ کچہری پونچھ شہر میں لگتی تھی۔پرانی پیڑھی کے بزرگ آج بھی پونچھ کچہری کو ٹھنڈی آہ بھر کے یاد کرتے ہیں-تصویر میں نظر آنے والی بلند و بالا عمارات اور شاہراہیں ہماری عظمت و بلندی کی آئینہ دار ہیں یا قبضہ گروپوں یا کمیشن مافیا کا یتیموں بیواؤں اور کمزوروں کی کھوپڑیوں پر تعمیر شدہ مینار ؟فیصلہ تاریخ پر چھوڑتے ہیں- جسکی عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔آج میرا بیٹا ضد پے اڑا ہُوا ہے کہ میں بھی باغ جاؤں گاتو مجھے خیال آیااس دشت میں اک شہرتھاوہ کیاہوا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں