اظہار خیال /فیصل بشیر کشمیری

انٹرنیٹ بند ہونے کے فائدے!!

پچھلے دو ماہ سے ہمارے ایریا میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے جس کے خلاف ہر روز کوئی ناں کوئی احتجاجی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے بلکہ ایک بار احتجاجاً ہجیرہ شہر مکمل طور پر بند بھی کیا گیا لیکن ہمارے حکمران طبقے کے کانوں پر موٹی جوں تو کیا ایک پتلی سی لیخ تک بھی نہ رینگی۔
پہلے سوچا شائد ہمیں بارڈر ایریاز یا لائین آف کنٹرول کے قریب رہنے کی سزا دی جا رہی ہے پھر خیال آیا کہ شاید اس میں بھی کوئی حکمت ہو گی۔
دیکھیں جی! عام آدمی کی سوچ بہت محدود ہوتی ہے لیکن جو اوپر بڑے بڑے دفاتر میں بیٹھے “بڑے” لوگ ہوتے ہیں ان کی سوچ بھی بہت “بڑی” ہوتی ہے اسلئے وہ کچھ “بڑا” ہی سوچتے ہوں گے اس لئے ہمیں صبر شکر کرنا چاہیے۔

یہاں ایک بات اور بھی گوش گزار کروں کہ ایس سی او (Special Communication Organization) میں کام کرنے والے ایک دوست سے رابطہ اور استفسار کرنے پر جواب ملا کہ جنگ یا آرمی کی جھڑپوں کے دوران ہمارے لوگ ویڈیوز اور تصاویر بنا کر فیسبک پہ شئیر کرتے ہیں جس وجہ سے پراوئیوسی leak ہوتی ہے اسلئے انٹرنیٹ بند ہے، ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے میری آنکھوں کے سامنے وہ بزرگ گھوم رہے تھے جو گوگل ارتھ اور جی پی ایس کے دور میں بھی آزاد پتن پُل کے پاس ایک پلے کارڈ اٹھائے کھڑے رہتے تھے جس پہ لکھا ہے کہ ” یہاں تصویر بنانا منع ہے”

میرے خیال میں بندے کو ہمیشہ “مثبت” سوچنا چاہئے اور اس حساب سے انٹرنیٹ بند ہونے کے فائدے دیکھنے چاہیئے۔ مثلاً آپ کے پاس انٹرنیٹ ہے اور بڑے بھائی، لالے یا پہاپے ہوریں باہر سے سمارٹ فون بیجھا ہوا ہے تو آپ کے من میں خودبخود شیطانی خیالات آئیں گے.

آپ غیر ملکی لڑکیوں سے دوستیاں کرنے کے چکروں میں پڑ جائیں گے جس سے گھریلو جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں، اسی بابت کسی سانپ کے ڈسے رسی سے ڈرے دل جلے نے کیا خوب کہا تھا کہ “جس کی کوئی بھی گرل فرینڈ نہیں ہوتی اس کی فیسبک فرینڈ لسٹ میں ایک، دو فلپائنی لڑکیاں ضرور ہوتی ہیں”۔
انٹرنیٹ کیوجہ سے بچے اور نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بہت سےٹھرکی بڈھے بھی خراب ہوئے ہیں۔ انٹرنیٹ سے بچے گندی فلمیں دیکھتے ہیں۔

جب سے ہمارے ایریاز کا انٹرنیٹ بند ہے پردیس میں بلا وجہ کی بہت سی پریشانیوں سے جان چھوٹی ہوئی ہے۔ مثلاً بریکنگ نیوز ” میری مرغی کو پھنڈ لے گئی، بکری نے بچہ دیا، فلاں مر گیا، فلاں جگہ حادثہ ہو گیا، فلاں کا فلاں سے جھگڑا ہو گیا، فلاں نے فلاں کیساتھ بھاگ کر گھر بسا لیا، کسی کی جھگڑے کی ویڈیو، کسی کے جنازے کی تصویر، کسی کا پٹھا سر تو کسی کی کٹی انگلی کی فوٹو وغیرہ وغیرہ اور وغیرہ۔

جس دن ہمارے آفس کا انٹرنیٹ بند ہو اس دن راوی چین ہی چین لکھتا ہے، کیونکہ روزانہ کی ای میل اور رپورٹس سے جان چھڑوانےکا بہانہ ملا ہوتا ہے اور بندہ ریلیکس نہیں بلکہ ریمیکس فیل کرتا ہے۔

انٹرنیٹ کیوجہ سے ہم قریبی رشتوں کو مکمل طور پر بھول چکے ہیں، آپ کسی بھی محفل میں دیکھیں تو ہر بندہ آپس میں بات چیت کرنے کے بجائے موبائیل پر انگلیاں پھیرنے میں مصروف دیکھائی دے گا۔

سیاسی اعتبار سے اگر غور کیا جائے تو اِس انٹرنیٹ کیوجہ سے لوگ ایک دوسرے کو سنتے اور پڑھتے ہیں جس سے شعور آتا ہے، اب ظاہر ہے اگر یہ شعور ہمارے اندر بیدار ہو گیا تو “تیرا قائد مردہ باد ۔ میرا قائد زندہ باد” کے نعرے کس نے لگانے ہیں؟۔

دریا کو لوٹے میں بند کرتے ہوئے راقم کی حکامِ بالا سے یہ خصوصی التجا ہیکہ انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کرتے ہوئے ہمیں سارے کھمبے اُکھاڑ کر ان سے مرغیوں کے پنجرے اور تاروں سے بھینس بکریوں کی سنگلیں اور رسیاں بنانے کی اجازت دی جائے تاکہ ہم لوگ بھی ملکی معیشت کی مضبوطی اور قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں