پشاورمیں دہشت گردوں کیخلاف آپریشن گزشتہ رات سے جاری،پولیس اہلکارشہید

پشاور(نیوزڈیسک)پشاور کے علاقے حیات آباد کے قریب ایک مکان میں چھپے دہشت گردوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان گزشتہ رات سے جاری فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ 2 مشتبہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔پولیس اور خیبرپختونخوا حکومت کے حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ فائرنگ کا سلسلہ رات تقریباً 9 بجے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے۔

پولیس چیف قاضی جمیل الرحمٰن جو اس آپریشن کی سربراہی کررہے تھےنے بتایا کہ آپریشن میں ایک اہلکار شہید ہوا، اس کے ساتھ انہوں نے مکان میں 3 سے 4 دہشت گردوں کی موجودگی کا امکان بھی ظاہر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ آپریشن خفیہ اطلاع ملنے پر کیا گیا جس کے بعد پولیس نے گھر کو گھیرے میں لے لیا، انہوں نے وضاحت کی کہ اس گھر میں کسی کو یرغمال نہیں بنایا گیا۔تتارا تھانے کے ایک پولیس افسر نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ڈان اخبار کے مطابق اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے ایک جاری بیان میں بتایا کہ پولیس کو ایک مکان میں ان دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جو سینئر پولیس حکام اور حیات آباد میں پشاور ہائی کورٹ کے جج پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہیں، جس کے بعد مکان میں چھاپہ مارا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چھاپے کے دوران دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی جس میں ایک پولیس اہلکار اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔صوبائی وزیر کے مطابق مذکورہ آپریشن میں خیبر پختونخوا پولیس کے علاوہ فوج کے کمانڈوز بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک فوجی جوان بھی زخمی ہوا اور اس آپریشن کے دوران پولیس نے راکٹ سے چلنے والے 4 گرینیڈ بھی مکان پر فائر کیے۔شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اہلکار گھر میں داخل ہو کر گراؤنڈ فلور کو کلیئر کررہے ہیں تاہم اب بھی اوپر کی منزلوں سے مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں