بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ایجنٹوں کو فائدے دینے والاحمزہ شہباز پنجاب کا بیکو ماترے نکلا

رپورٹ: ڈاکٹر فائزہ خان
آپ کو مشہور زمانہ جعلی پاسپورٹ سکینڈل تو یاد ہو گا جسے ایک باہر کے اخبار نے انوسٹیگیشن کرتے ہوئے بے نقاب کیا تھا اور اس انوسٹیگیشن آپریشن میں اخبار کا نمائندہ جعلی پاسپورٹ اور آئی ڈی کارڈ بنوانے کیلئے ایجنٹس سے رابطہ کرتا ہے ان کی انوسٹیگیشن مووی میرے پاس محفوظ ہے جس میں محض تین دن میں جعلی پاسپورٹ کیسے حاصل کیا گیا

اس میں ڈریم لینڈ ٹریول ایجنسی ملوث تھی اور اس انوسٹیگیشن کے مطابق ڈریم لینڈ ٹریول ایجنسی کا مالک عابد چوہدری یہ دھندہ اس وقت کی حکومت میں اہم شخصیت کی مدد سے کر رہا تھا شخصیت کون تھی؟وہ شخصیت تھی حمزہ شہباز شریف اور اس حقیقت سے شہباز شریف واقف تھے
37 انڈر کور را ایجنٹس رمضان شوگرملز میں کام کرتے رہے اور ان کا علم بھی تب ہو پایا جب دو ایجنٹس پکڑے گئے اور انھوں نے نشاندہی کی کہ ہمارے دوسرے ساتھی رمضان شوگر مل میں کام کرتے ہیں۔

ان کو ویزے کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی را نےحمزہ شہباز کی Consultancy Group” میں ریفر کیا تھاجن کو حمزہ شہباز نے ویزے دلوائے لیکن ان ایجنٹَس میں سے زیادہ تر اس مل میں پاکستانی شناخت کے ساتھ کام کر رہے تھے جس کی وجہ سے رمضان شوگر مل کے دوسرے ملازمین کو ان پر شک نا ہوا۔

ان ایجنٹس میں پکڑے جانے والے ایک ایجنٹ کے ویزہ فارم پر Exempted from Police Reporting کی مہر لگی ہوئی تھی جس کا یہ مطلب ہے کہ ویزہ جاری کرتے وقت اس بندے کو پاکستانی قانون سے استثناء دیا گیا۔ کس لیے؟؟؟ یہ قانون تو صرف سفارتی عملے کیلئے ہوتا ہے نا کہ پرائم منسٹر کی شوگر مل میں کام کرنے والے عملے کیلئے انھیں ایجنٹس کو ہر جگہ نقل و حرکت کی مکمل آزادی تھی حتی کہ شہباز حکومت انھیں پروٹوکول دیتی تھی۔

انھیں پولیس رپورٹ سے استثناء حاصل تھا ۔حمزہ شہباز کے انڈین ویزہ کی کاپی بھی پوسٹ کے ساتھ ملاحظہ کریں ویسے حمزہ شہباز کو بھارتی وزٹ کی ضرورت کیوں پیش آئی ?حمزہ شہباز بھی پنجاب کا بیکو ماترے ہے جو پاسپورٹ سکینڈل سے لیکر 85 ارب کی منی لانڈرنگ ،قبضہ مافیا ،حکومتی پراجیکٹس میں کک بیکس، لینڈ مافیا ،سمیت ہر کام کا سرغنہ ہے لیکن جب عدالت تھانے کچہریاں، بیوروکریسی سب اپنی ہوں تو کس کی جرات ہے ہاتھ ڈال سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں