جعلی اکاؤنٹس کیس : زرداری کے قریبی 4 ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) جعلی اکاؤنٹس کیس میں عدالت نے 4 ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کر دیے، جن میں اقبال آرائیں ، اعظم وزیر ،عدنان جاوید اورنثارعبداللہ شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں آصف علی زرداری، فریال تالپور او دیگر ملزمان کیخلاف مقدمے کی سماعت ہوئی ، احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے کیس کی سماعت کی ۔

آصف زرداری، فریال تالپور اور نیب پراسیکیوشن ٹیم احتساب عدالت میں پیش ہوئے ، عدالت نے استفسار کیا 4ملزمان اب تک عدالت میں پیش کیوں نہیں ہو ئے ؟

دو ملزمان اعظم وزیر خان اور ناصرکی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ملزمان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے جبکہ ایک ملزم عدنان جاوید کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے۔

احتساب عدالت نے ملزمان کو آئندہ سماعت پرگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم دیا، تفتیشی افسر نے بتایا ملزم کوتلاش کررہےہیں،دیئےگئےایڈریس پرنہیں ملا، جس پر عدالت نے ایک ملزم اقبال آرائیں کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

تفتیشی افسر نے بتایا ہماری اطلاع کےمطابق ملزم اقبال آرائیں فوت ہوچکاہے، جس پر عدالت نےملزم کاڈیتھ سرٹیفکیٹ آئندہ سماعت پرطلب کرلیا تاہم تفتیشی افسرکی جانب سے پیپر بک تیار نہ کی جاسکی، آئی او نے کہا کچھ وقت دیاجائے ریکارڈ لایاہوں پھر پیپربک تیارکرلوں گا۔

نیب پراسیکیوٹر مظفرعباسی نے کہا جوملزمان جیل میں ہیں ان کویاددہانی کیلئےخط لکھاگیا، جس پر جج کا کہنا تھا جوملزمان جیل میں ہیں وہ کسی اورکیس میں توجیل میں نہیں، مظفرعباسی نے جواب دیا 5 ملزمان جیل میں ہیں جن میں 4ملیرجیل میں ہیں اور سات ملزمان جوڈیشل ریمانڈپرہیں، نورین سلطان اورکرن آفتاب پیش ہوئی ہیں، دونوں کی درخواستوں پرکارروائی جاری ہے۔

مظفرعباسی کا کہنا تھا نورین اورکرن کی درخواستوں پرابھی کام مکمل نہیں ہوا، جوملزمان پیش نہیں ہورہےان کونوٹسزجاری کیےجائیں، جس پر وکیل صفائی نے کہاملزمان اسی کیس میں جیل میں ہیں نوٹس جاری نہیں ہوسکتے۔

عدالت نےچیف سیکرٹری سندھ کونوٹس جاری کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کےذریعےملزمان کوطلب کرلیا اور سماعت 29 اپریل تک ملتوی کردی۔آصف زرداری کی آمد پر سکیورٹی کےسخت انتظامات کئے گئے تھے ، جوڈیشل کمپلیکس اور باہر پولیس کے 1500 اہلکار تعینات تھے جبکہ رینجرز کے 200 جوان وافسران بھی تعینات کئے گئے ۔

غیرمتعلقہ شخص کےاحتساب عدالت میں آنےکی اجازت نہیں تھی ، جسٹرار احتساب عدالت کا کہنا تھا میڈیا کوکمرہ عدالت تک رسائی دی جائے گی، سیکیورٹی معاملات پرسمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔احتساب عدالت نے آصف زرداری اورفریال تالپورسمیت تمام ملزمان کوطلب کر رکھا تھا۔

یاد رہے 8 اپریل کو جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

دوران سماعت آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ٹرائل چلانا چاہتے ہیں تو آصف زرداری اور فریال تالپور کواستثنیٰ دیں، آج وکلا کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا۔ سو سے زیادہ لوگ اس عدالت میں نہیں آسکتے۔ احتساب عدالت کی اطراف خاردار تار لگا دیے گئے ہیں۔

سماعت میں سماعت کے دوران 2 ملزمان کرن اور نورین نے عدالت سے گواہ بننے کی استدعا کی تھی ، خواتین کا مؤقف تھا کہ ہم گواہ تھے، ہمیں ملزمان کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔ گواہی کے لیے چیئرمین نیب کو درخواست بھی دے رکھی ہے، ہم وکیل کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔

عدالت نے غیر حاضر ملزمان کو 12 اپریل کو پیش ہونے کا حکم دیا جبکہ آصف زرداری اور فریال تالپور کو 16 اپریل کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کردی تھی۔خیال رہے جعلی اکاؤنٹ کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپور 29 اپریل تک عبوری ضمانت پر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں