ریٹائرڈ ہو جاؤ بھئی، سبھی ہوتے ہیں

کل ویک اینڈ کا پہلا دن تھا اور امتحانات بھی ختم ہو چکے تھے۔ سوشل میڈیا کو سٹڈی کر رہا ہوں، بہت کوشش کی کہ فیس بک سمیت دوسرے سوشل میڈیا نیٹ ورک سے دور رہوں، مگر یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں، عمل مشکل ہے. دوران امتحان بھی دوستوں نے کہا کہ آپ پانچ پانچ گھنٹے آف لائن رہتے ہو. لگتا ہے کہ میدان مارنے کی ٹھان لی ہے لیکن ان کو کیسے بتاؤں کہ میدان مارنے کے چکر میں نہیں، بس دن کو دھکا دے رہا ہوں۔

کل سوشل میڈیا پر ایک خبر کے بڑے چرچے تھے۔ گو کہ وہ فیس بک” ٹرینڈنگ ” کا حصہ نہ بن سکی مگر وائرل ضرور
ہو ئی. مقبول بٹ شہید کی برسی کے موقع پر ہمارے حلقے کے بزرگ ترین سیاستدان سردار خان بہادر خان المعروف کےبی خان نے کچھ ایسے نازیبا الفاظ کہے کہ جیسے سوشل میڈیا پر کسی نے” پڑول چھڑک” دیا ہو.

سوشل میڈیا کی وجہ سے دنیا اب اور بھی سکڑ کر رہ گئی ہے۔( اس کی تاریخ پھر سہی) متعدد کشمیریوں صحافیوں نے بھی اس بات کو برا جانا اور اپنے اپنے انداز میں اس کی پرزور مذمت کی.
اس ابھرتے ہوئے مسلئے پر میں نے بھی حصہ ڈالتے ہوئے اپنے کسی دوست کی پوسٹ پر کمنٹس کئے۔ کیونکہ یہ بات مجھے بھی بری لگی۔ پھر کیا تھا کہ میرا سونا حرام ہو گیا. ایک صاحب نے جیسے کے بی خان سے پیسے لے رکھے تھے، میدان میں کود پڑا اور نت نئے انداز میں ترجمانی پہ اتر آیا.

مجبور ہو کر میں نے آخر کہہ ہی ڈالا کہ یہ سوشل میڈیا ہے اور اس کی تعریف کے انوسار(مطابق) یہاں ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کی بات کرے، کہے،کسی بھی انداز میں خان بہادر نے راولاکوٹ میں یہ بات ایک نماز جنازہ میں شرکت کے دوران کہی۔۔۔ اور اسی نماز جنازہ میں وزیراعظم آزاد کشمیر بھی موجود تھے.

گو کہ بعد میں ایک مقامی میڈیا میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے مقبول بٹ شہید کی کوششوں کو سراہا۔ مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی اور یہ بات وائرل ہو چکی تھی. میں نے بہت کوشش کی کہ اس شخص کو مطمئین کیا جا سکے مگر اس نے ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی” کے بی صاحب بزرگ آدمی ہیں”۔ ان کی باتوں کا برا نہیں منانا چاہئیے اور آپ کو معلوم ہونا چاہئیے کہ ایک بوڑھا دو چھوٹے بچوں کے برابر ہوتا ہے۔” تو اگر کے بی نے کچھ ایسا کہہ دیا تو اس کو سنجیدہ نہیں لینا چاہئیے.

خیر رات کے بارہ سے اوپر کا وقت ہو چکا تھا اور فیس بک چونکہ یہ ایک ایسا چسکا ہے کہ جب تک کسی سوال کا جواب نہ دو تو سکون نہیں ملتا. اک تشنگی باقی رہتی ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ جو انسان لکھا ہوا حلف نامہ ٹھیک سے پڑھ نہیں سکتا ۔ چلنے سے معذور ہے۔۔۔ اس نے کون سے ایسا کام کرنا ہے جس سے معاشرے میں یا حلقہ انتخاب میں کوئی حقیقی تبدیلی آ سکتی ہے؟ اس حلقے میں کیا قحط الرجال ہے کہ کوئی اور بندہ میسر نہیں اس منصب کے لئے؟؟؟

ایسے افراد کو گھر میں رہنا چاہئے اور کوشش کرنی چاہئیے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ کا قرب حاصل ہو۔ اور بندوں کو دکھ پہنچا کر رب سے قرب حاصل کرنا ایسا ہی جیسے مخالف سمت گاڑی میں سوار ہو کر اپنے سٹاپ کو دیکھنا.

زندہ رہے تو بڑھاپے کو ہم بھی پہنچیں گے. ضروری نہیں کہ عمر کی اس بالائی حد کو چھو کر جہاں یادداشت کام کرنا چھوڑ جائے پھر بھی کرسی نہ چھوٹے تو سمجھو کہ محبت کرسی سے ہے، عوام سے نہیں.
ریٹائرڈ ہو جاؤ بھئی، سبھی ہوتے ہیں.

گوجری زبان کی ایک مثال بہت مشہور ہے
“گھی کھاتو کھاتو مریو”