نقطہ نظر/سردار مہتاب اکرم خان

عمران خان صاحب وزیر اعظم بننے کا فائدہ عوام کو بھی پہنچائیں

وزیراعظم عمران خان صاحب!
وزیراعظم بننے کا فائدہ عوام کو بھی دیں۔عوام کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ حکومت نے کتنا قرضہ ادا کرنا ہےیا پرانے پاکستان کے پرانے حکمرانوں نے کتنے اثاثہ عوام کی دولت سے باہر کی دنیا میں بنائے ہیں۔

غریب عوام کو غرض ہے تو پیٹ کا ایندھن بھرنے اور روزمرہ کی بنیادی ضروریات کے حصول میں آنے والی تکالیف سے ہے۔آج نئے پاکستان کی نئے حکمران اگر پرانے پاکستان کے پرانے حکمرانوں کی طرح معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو اگر سمجھنے سے قاصر ہیں یا اسے ٹھیک کرنے میں بے بس ہیں تو یاد رہے اس میں ان غریبوں کا کوئی قصور نہیں جنہوں نے آپ کے انصاف کے نعرے اور تبدیلی کی پالیسی کو ووٹ دے کر منتخب کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان صاحب آپ کو یاد ہو یا نا یاد ہو لیکن غربت اور مسائل کی چکی میں پسی ہوئی عوام کو آپ کا ایک ایک وعدہ صبح وشام چین سے جینے نہیں دیتا اور آپ ہی کے وعدوں کی بدولت پاکستان کی غریب عوام راتوں کی نیند میں ہڑ بڑا کر تبدیلی آ گئی کہتے ہو جاگ اٹھتی ہے۔

محترم عمران خان صاحب آپ وزیراعظم ہو کر اگر بے بس ہیں تو سوچیے وہ عوام جن کے پاس صرف ووٹ ہی ھتیار ہے اگلی بار کس طرح سے اس ھتیار کو استعمال کر سکتے ہیں۔اسلئے اپنی کابینہ کو سیاسی چالبازیوں کے بجائے کام پر توجہ مرکوز کرنے پر پابند بنائیں۔

آج جب ہزارہ قوم ایک بار پھر دہشت گردی کا شکار ہو کر آپ کی تبدیلی سرکار سے سوال کر رہی ہے کہ تبدیلی کس بلا کا نام ہے تو آپ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے ہی کچھ سبق سیکھتے ہوئے آگے بڑھ کر انہیں گلے لگاتے اور دہشت گردوں کو پیغام دیتے کہ واقعی پیغام پاکستان پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے اور اب اس طرح کی وارداتوں کی پاکستان میں کوئی گنجائش باقی نہیں ہے۔

وزیراعظم عمران خان صاحب۔آپ کی حکومت کا آج تک کی کارکردگی کا براہِ راست عوام کو کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا ہے KPK کی مثالی کارکردگی کی بنیاد پر آپ نے دوبارہ KPK میں حکومت بنائی لیکن وہاں پر اسوقت آپ کی حکومت سے ایک منصوبہ BRT جو آپ کے پچھلے دور حکومت میں شروع ہوا تھا ابھی تک تکمیل کے مراحل سے گزر رہا ہے اور آئے روز اس منصوبے کے متعلق واشگاف مسائل اجاگر ہو رہے ہیں۔

اسی طرح پنجاب میں آپ کی حکومت کوئی بڑا منصوبہ شروع نہیں کر سکی حتٰی کے پرانے منصوبوں پر بھی کام بند ہے یا رفتار ماند پڑ چکی ہے۔وفاقی درالحکومت میں اسلام آباد کے نئے ایرپورٹ پر میٹرو منصوبہ جو تقریباً 75% تک پچھلے دور حکومت میں مکمل ہو چکا تھا اور باقی ماندہ 25% آپکی حکومت سے توقع تھی کہ جلد مکمل ہو گا لیکن تقریباً 8 ماہ کے طویل عرصے میں 1% بھی کام مکمل نا ہو سکا۔

پنجاب کی پولیس کی صورتحال پہلے سے زیادہ ابتر ہے اور سیاسی وابستگیوں کے الزامات پہلے کی حکومتوں کی طرح اب بھی پنجاب پولیس کا خاصہ ہیں۔توقع تھی کہ تبدیلی کی لہر سے پنجاب پولیس پر بہتر اثر ہو گا اور عوام کو پولیس کے رویے اور کارکردگی میں تبدیلی محسوس ہو گی لیکن حالات جوں کے توں ہیں۔

پچاس لاکھ گھروں کی سکیم کے نام پر تقریباً 2 ماہ تک پاکستان بھر میں 250 روپے ناقابلِ واپسی فیس پر کتنا پیسہ اکھٹا کیاگیا ؟؟؟؟اور اب تک سوائے اعلانات کے عملی طور پر کوئی کارکردگی سامنے نہیں آ سکی ۔اسکا حساب اور اسکا جواب کون دے گا؟؟؟؟

اورسیز پاکستانیز جنہوں نے اپنا تن من دھن تبدیلی سرکار کے لئے قربان کیا ہوا تھا اب مایوسی کے اندھیرے میں گم ہوتے نظر آ رہے ہیں کیونکہ آج جب وہ پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور اور اپنے خاندان کی کفالت کے لئے منی ایکسچینجز کا رخ کرتے ہیں تو انہیں پتہ چلتا ہے کہ روز بروز روپے کی قیمت گھٹتی چلی جارہی ہے اور مہنگائی کے طوفان کا رونا روتے ہوئے انکے عزیز واقارب مزید پیسے بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور تبدیلی سرکار کو کوستے ہوئے پاکستان میں ذندگی سے تنگ ہونے کی خبریں سناتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان صاحب! آپ سامنے آئیں قوم کی رہنمائی کریں اور عوام کے سامنے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی مکمل پلاننگ کو عوام کے روبرو پیش کریں۔عوام اسوقت گومگو کی کیفیت کا شکار ہے کیونکہ آپکی کابینہ کے مسخرے وزراء عوام کو کھیل تماشے کا کوئی کردار سمجھ بیٹھے ہیں۔معاملات اتنے سیدھے نہیں ہیں جتنے نظر آتے ہیں کیونکہ پاکستان کے عدالتی نظام پر سوالات پہلے کی نسبت زیادہ اٹھ رہے ہیں۔عدالتی نظام کی خرابیوں کو درست کرنا بھی حکومت کی زمہ داری ہے اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت اس عدالتی نظام کے آگے بے بس ہے یا پھر کوئی اور مقتدر قوت موجود ہے جو کہ تبدیلی سرکار یا کسی بھی سرکار کو بنا بھی سکتی ہے اور گرا بھی سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں