نقطہ نظر /آبینار جان علی

مسلم قوم کا مذہبی اور ثقافتی تشخص

پیارے نبیؐ نے عالم کو اسلام کے آئین و آداب کا درس دے کر اپنا فرض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کو بہتر زندگی کا راستہ دکھایا اور خود اس راستے پر چل کر آپؐ نے عمدگی سے بنی آدم کے لئے مثال قائم کر کے ان کے لئے عرفان و معرفت کا ذریعہ بنے۔ آپ کی وفات کے بعد سلطنتِ اسلامیہ نے صحرائے عرب سے زقند بھرتے ہوئے اپنی سرحدوں کو وسیع ترکیا اور اسلام دنیا بھر میں پھیل گیا۔ نتیجتاًآج کئی ممالک میں توحید کی صدا گونجتی ہے۔اسلامی مذہب کی اپنی تہذیب ہے۔ بذاتِ خود یہ ایک مکمل دنیا ہے جس میں سماجی، اقتصادی، انفرادی، ازدواجی، خاندانی اور قانونی شرائط و ضوابط شامل ہیں۔ اسلامی شریعت نے انسان کو آپس میں مل جل کر رہنے کا طریقہ سکھایا ہے۔

خوراک، ملبوسات، زبان، سماجی مقام عرض کہ سارے سلیقے سکھائے گئے ہیں۔ لحا ظہ ایک مسلم دوسرے مسلم سے جب روبرو ہوتا ہے تو ان مذہبی آئین کی مماثلتوں کے باعث رنگ و نسل کی تفریق کو عبور کرتے ہوئے فوراً ایک احساسِ قربت کی گرفت میں آجاتا ہے۔ اسلام نے انسانیت کو ایک ہی لڑی میں پرویا ہے جس کی ابتداء آدم ؑ سے جا ملتا ہے۔ مسلمان مسلمان ایک دوسرے کے مذہبی بھائی بہن ہیں۔ ایک دوسرے سے ملتے وقت سلام میں پہل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ عبادت کے وقت پوری دنیا ایک ہی جانب رجوع ہوتی ہے۔ ایک ہی زبان میں خدا سے خطاب کیا جاتا ہے۔ لباس کا تعین بھی اسلام نے کررکھا ہے۔ چنانچہ خواتین کے سر پر دوپٹہ اس کے مذہب کا علمبردار ہے۔

گویا وہ اپنے مذہب کی سفیر ہیں۔ مردوں کی داڑھی ان کے ایقان کی ترجمانی کرتی ہے۔ حلال کھانا، شادی اور طلاق کے اصول، وراثتی حقوق اور پانچ وقت کی نماز کا پابند ہونا، یہ سب مسلمانوں کو ایک ہی ذہنیت کا قائل بناتا ہے۔ اس طرح پوری دنیا محمدؐ کے امتی کہلائی جاتی ہے اور انہیں کی ہدایتوں کی پیروی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔تجارتی اغراض و مقاصد کے حصول کو پورا کرتے وقت، عربوں اور مختلف ملکوں اور لوگوں کی آپسی ربط اور میل جول سے اسلام پھیلتی رہی۔ تجارت میں مسلمانوں کی دیانتداری اور اسلام قبول کرنے سے پہلے اور بعد میں ان کے کردار میں رونما نمایاں مثبت تبدیلیوں نے دیارِ غیر میں لوگوں کو اسلام کی طررف متوجہ کیا اور بلآخر انہوں نے اسلام قبول کیا اور لاالہ اِلا ا للہ کا نعرہ ہر سو سنائی دینے لگا۔اسلام قبول کرنے کے بعد اسلامی ثقافت مقامی تہذیب کے رنگ میں رنگ گئی۔

اس طرح کئی ایسی رسومات ہیں جن کا اسلامی آئین و آداب سے وابستگی نہیں پھر بھی انہیں اسلامی فلسفہ کا پیراہن پہنا کر عوام میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ الگ الگ ملکوں نے اپنی اپنی تہذیب کو اسلامی تہذیب سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی دوپٹہ کسی ملک میں چادر کہلائی جاتی ہے، کہیں حجاب، کہیں نقاب تو کہیں خمار کہلائی جاتی ہے۔ مختلف جغرافیائی خطوں میں حجاب باندھنے کا اپنا مخصوص طریقہ بھی ہے۔موریشس میں اسلام ہندوستان کی معرفت پہنچی۔ جہازی بھائیوں کے ساتھ اس مذہب کی ترقی و توسیع ہوئی۔ چونکہ یہ ایک غیر آباد جزیرہ تھا ہندوستان، یوروپ، افریقہ اور چین جیسے ممالک سے لوگ یہاں آکر بسے اور انہوں نے اس جزیرے کو اپنا وطن مانا۔

آج اکاون سال کی آزادی کے بعد موریشس میں مختلف رنگ و نسل مل جل کر رہتے ہیں اور موریشس اب بھی اپنی ثقافتی شناخت بنا رہا ہے۔ اس قلیل مدت میں اس ملک نے مفت تعلیم اور یکساں مواقع کی مدد سے ترقی کو اپنایا لیکن اس کی اپنی منفرد پہچان کوپایۂ تکمیل تک پہنچنے میں ذرا وقت لگے گا۔ اکاون سال کی آزادی اپنی پہچان ڈھونڈھنے میں کافی نہیں۔ گوروں کے چابک برداشت کرتے کرتے ہم ان کی زبان اور ان کی تہذیب کو کسی حد تک اعلیٰ ماننے لگے ہیں۔ یہ سوچ اور احساسِ کمتری نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ لیکن اب وقت کے ساتھ اپنی تہذیب پر ناز کرنا، دھیرے دھیرے اہم بنتا جارہا ہے۔

اس صورتِ حال میں یہاں کے مسلم باشندے جو زیادہ تر ہندوستانی نژاد سے وابستہ ہیں اس شش و پنج میں ضرور مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ کون سی اسلامی تہذیب کی طرف رجوع کریں۔ موریشس میں اب مختلف نسل کے لوگوں کی آپس میں زیادہ شادیاں بھی ہو رہی ہیں۔ نیز عرب ممالک کی اپنی علاقائی تہذیبیں ہیں اور اسلامی فلسفہ اپنی جگہ سالم ہے۔ جبکہ برِ صغیرکے مسلمانوں کی اپنی تہذیب ہے۔ اس اثنا میں یہ ایک طویل بحث ہے کہ موریشس کے مسلم قوم کی بلآخر قومی تہذیب کیاہے اور مستقبل میں اس کی کیا پہچان ابھر کر سامنے آئے گی؟

اپنا تبصرہ بھیجیں