لہو لہو لاہور

جب بھی تھوڑا سکوں ہوا اور دھماکوں کی سیریز کمزور ہوتی دکھائی دی کہیںنہ کہیں سے بری خبر آ دھمکتی ہے۔دوائیاں بیچنے والوں کا مختصر سا جلوس مال روڈ پر موجود تھا اس سڑک پر ہزار بندشوں کے باوجود جلوس نکالے جاتے ہیں۔جمہوریت میں احتجاج لازم ہے۔میری بھی زندگی سیاسی جو و جہد میں گزری ہے۔جب پولیس کی فوج ظفر موج مال روڈ پر پہنچی ہاتھوں میں ڈنڈے اور بچائو کے لئے شیلڈیں، میں سمجھ گیا کہ اب مظاہرین کی خیر نہیں ۔

لیکن اس کہانی میں ایک بد بخت کا بھی کردار تھا جو اس منظر نامے میں کہیں بھی نہیں لکھا گیا تھا وہ آیا اس نے اپنا کام دکھایا اور پل ہی پل میں شہداء کی لسٹ بن گئی۔دہشت گردوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب بھی ان کا دل چاہے جہاں چاہیں وہ قوم کو رلا سکتے ہیں۔ان کا حدف اس بار لاہور تھا جو چند ہی ہفتوں بعد ایک بڑے ایونٹ کا مہمان بننے جا رہا تھا۔لاہور بسنتی رنگوں میں رنگنے جا رہا تھا پھولوں کی نمائشیں ہونے کو تھیں خوبصورت لاہور دلہن کی طرح سجایا جاناتھا۔لاہور اور لاہوری دونوں ایک امن محبت اور بھائی چارے کی کہانی بننے جا رہے تھے۔حسن اور عشق کے قیدو اسے کھا گئے اور لاہور خون میں نہا گیا۔

اس شہر بے مثال کی رنگینیاں لہو رنگ ہو گئیں۔جشن بہاراں منانے والوں کو ماتم کرنا پڑ گیا ہے۔میں اداس ہوں اس لئے کہ وہ لاہور جس میں زمانہ ء طالب علمی کے تین سال اور اور مال روڈ پر راجہ صاحب کے پچھواڑے رانا موٹرز میں گزارے دن اب بھی نہیں بھول پاتا اور تو اور چار فروری کو میں بیٹے کو لاہور کا داماد بھی بنا آیا ہوں۔ ستر کی دہائی ،دس روپے میں گوگو کی کافی سات روپے کا پیٹرا پرفیوم ،بتیس روپے میں ہائی کلاس لنچ اور وہ بھی لارڈز کا میں نہیں بھلا سکتا۔واپڈا ہائوس کے پاس گزاری شامیں۔پہلی بار فریزر کی ٹھنڈی آر سی کولا کی تین روپے کی بوتل۔پیسے اکٹھے کر کے شیریں کدہ کی مٹھائیاں اور ریگل چوک کے دو روپے کے بھلے ۔مسجد شہداء کے پاس سے اکبر بگٹی کے ساتھ بھٹو کے خلاف نکلنے والے جلوسوں میں شرکت۔شہر لاہور تجھے سلام۔جس جگہ خون بہا یہاں پاس ہی مجید نظامی صاحب کے ساتھ بیٹھکیں ۔ایک طرف خون تھا اور دوسری جانب بھی خون میرے ارمانوں اور پولیس کے افسران اور دیگر شہداء کے خون کا رنگ مختلف تھا میرا خون نمکین سا ہو کر میری آنکھوں سے بہہ نکلا۔پتہ نہیں ہمارے مقدر میں یہ تلخیاں کب تک کے لئے لکھی گئی ہیں۔جب بھی کوئی کام ہونے کو ہوتا ہے کچھ ہو جاتا ہے اے پی ایس ہو یا پی ایس ایل سرخی ہی کیوں لکھ دی گئی ہے میرے پاکستان کے مقدر میں۔

ایک بار ماسٹر تارا سنگھ نے یہیں اسی جگہ چند قدم دور پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ پاکستان کا فیصلہ میری کرپان کرے گی۔بہت خون بہا تھا دس لاکھ کے قریب اس کرپان کی نذر ہو گئے۔ جب ماسٹر تارا سنگھ آگ اگل رہا تھا اسی سکھ مذہب کی گجرانوالہ کی بیٹی امرتا پریتم نے اج اکھاں وارث شاہ نوں کا نوحہ لکھ کر پنجاب کے آنسو پونچھے تھے،اسی اسمبلی ہال کے بازو میں ایک خواجہ رفیق بھی خون دے گیا ۔خدا را اس خواجہ کو ذہن میں نہ لائیے جو اتنا خوش نصیب ہے کہ بانڈوں کے بانڈ اسی کے نکلتے ہیں میں اس کی بات کرتا ہوں جس نے اجڑے مسلمانوں کے گھر بسانے میں رات دن ایک کئے اور وقت کے اس جابر کی گولی کا شکار ہو کر شہید ہو گیا۔یہ جگہ مانگتی ہی خون ہے آزادی کے متوالوں کا خون جمہوریت کی آبیاری کرنے والوں کا خون۔اور آج پاکستان کے ماتھے سے دہشت گردی کا داغ دھونے کی کوشش کرنے والوں کا خون۔

ربا میریا!یہ باری کا بخار ہے اسے کسی اور کو بھی چڑھنا چاہئے یہ کیسا بخار ہے جو ہر بار پاکستان کو ہی چڑھتا ہے
بار ی کا بخار تو وہ ہونا چاہئے کہ جو ایک بار ہمیں چڑھے اور دوسری بار ہمارے دشمن کو۔ ہم ٹرمپی بھڑکوں سے ڈر کر اپنے حافظوں کو جیلوں میں بند کر دیتے ہیں۔یاد رکھئے بزدلوں کا گائوں خواجہ سراء لوٹ لیا کرتے ہیں۔پاکستان کے دشمنوں نے سوچ لیا ہے کہ ہم آپ کے حساس ترین اداروں کو نشانہ بنا سکتے ہیں اے پی ایس اور اب مال روڈ اسمبلی ہال کے باہر۔ہم نے کب آنکھیں کھولنی ہیں جب وہ اندر آ کر ہمارے نمائیندوں کو اڑائیں گے۔

چائینی مثال ہے آپ آدھی جنگ اس وقت جیت لیتے ہیں جب اپنا دشمن پہچان لیتے ہیں۔ میرا خیال ہے ہم ابھی تک اسے پہچان نہیں سکے۔ شہر لاہور تیرے ماتھے پر بکھرے خون کی قسم ہماری کوشش ہو گی کہ جن کی آنکھوں پر دشمن ملک کی محبت کی چربی چڑھی ہوئی ہے انہیں دشمن کا بھیانک چہرہ دکھا کر رہیں گے۔دوائیاں بیچنے والے خون میں رنگے لوگو! تم نے آج دوا نہیں دی پر ہم تمہیں دعا ضرور دیں گے۔ مال روڈ کی ٹھنڈی سڑک کو اپنے لہو سے گرمانے والو!خطہ ء لاہور تیرے جاں نثاروں کو سلا م ۔لہو لہو لاہور