آزادکشمیر میں ایل او سی رپورٹنگ کے دوران صحافیوں کو درپیش چیلجنز

اسلام آباد(رپورٹ: کاشف میر سے)اقوام متحدہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں ہر سال تین مئی کو پاکستان، آزادکشمیر سمیت دنیا بھر میں ورلڈ پریس فریڈم ڈے منایاجاتا ہے جس کا مقصد پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں پرنٹ، الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا سے منسلک افراد کو درپیش مشکلات، مسائل اور صحافیوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات سے متعلق دنیا کو آگاہ کرنا ہوتا ہے، پاکستان میں صحافیوں کے ان مسائل کے حوالے سے سب سے زیادہ کام پاکستان پریس فاونڈیشن نے کیا ہے، جس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سال 2002ء سے 2018ء تک 72 صحافیوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔پاکستان میں میڈیا پر گہری نظر رکھنے والوں کے مطابق بے شمار اندرونی و بیرونی مسائل میں پھنسے پاکستان میں ابھی مکمل آزادانہ صحافت کرنا ممکن نہیں ہے۔پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں صحافتی مسائل بالکل الگ طرز کے ہیں جبکہ سٹیت ویوز کے پلیٹ فارم سے آج کی رپورٹ میں آزادکشمیر کے اندر موجودہ صحافتی مسائل کو سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آزاد کشمیر،ریاست جموں و کشمیر کا وہ حصہ ہے جو اس وقت پاکستان کے زیر انتظام اور اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ جموں کشمیر کی تمام اکائیوں میں رائے شماری کے ذریعے ہونا باقی ہے۔تین ایٹمی ممالک پاکستان، بھارت اور چین کے درمیان متنازعہ علاقہ ہونے کی وجہ سے اس منقسم ریجن میں میڈیا کا کردار اہم بھی ہے اور یہاں صحافت کرنا میڈیا ورکرز کیلئے مشکل ترین بھی ہے۔ آزادکشمیر کا یہ علاقہ 13،300 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہے۔یہاں پاکستان کے زیر انتظام ایک الگ حکومت قائم ہے جس کے آئینی سربراہ صدر، انتظامی سربراہ وزیر اعظم ہوتے ہیں جبکہ نظام عدل کیلئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ قائم ہیں۔

مارچ 2018 سے مارچ 21019 تک کے نقصانات

آزاد کشمیر کا دار الحکومت مظفرآباد ہے اور اسکی آبادی 2018ء کی مردم شماری کے مطابق 45 لاکھ ہے، اسکے 10 اضلاع، 32 تحصیلیں ہیں جبکہ اس کے چھ اضلاع بھمبر، کوٹلی، پونچھ، حویلی، نیلم اور ہٹیاں بالا کے علاقے اس سیز فائر لائن کے ساتھ لگتے ہیں جہاں ایک طرف پاکستان کے فوجی مورچے ہیں جو عوام اور اس علاقے کی حفاظت کر رہے ہیں تو دوسری طرف بھارتی فوج نے مورچے قائم کر رکھے ہیں۔محکمہ ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پاکستان اوربھارت کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان سیز فائر لائن سے متصل آزادکشمیر کے علاقوں میں آبادی 15 لاکھ نفوس پر مشمل ہے۔ سیکرٹری ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹی شاہد محی الدین کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران(مارچ 2018ء سے مارچ 2019ء تک) بھارتی فورسز کی طرف سے آزادکشمیر میں سول آبادی پر گولہ باری سے 24 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 11 خواتین اور 13 مرد شامل تھے۔جبکہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 166 تھی جن میں 72 خواتین اور 94 مرد شامل تھے۔ اس ایک سال کے دوران 164 گھر تباہ ہوئے جبکہ 20 جانور بھی گولہ باری سے جاںبحق ہوئے۔

ظفیر بابا صدر سی یو جے

سنٹرل یونین آف جرنلسٹس آزادکشمیر کے صدر ظفیر بابا نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ اس ریجن میں ان کے تنظیم کےساتھ 700 سے زائد صحافی مختلف شہروں میں کام کرتے ہیں لیکن لائن آف کنٹرول کے حالات کی رپورٹنگ 50 کے قریب صحافی ہی کرتے ہیں۔ آزادکشمیر کے جن چھ اضلاع میں سیز فائر لائن کے علاقے واقع ہیں ان میں سے ایک نیلم ویلی ضلع بھی ہے جہاں ڈیڑھ لاکھ کی آبادی ہے اور نیلم ویلی کی دوسوکلو میٹر وطویل علاقہ سیز فائر لائن پر واقع ہے۔ اس ضلع میں 20 کے قریب میڈیا ورکرز ہیں جو لائن آف کنٹرول کی رپورٹنگ کرتے ہوئے مشکل حالات کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ظفیر بابا کے مطابق ایل او سی پر رپورٹنگ صحافی اپنی مدد آپ کے تحت ہی کرتے ہیں، ابھی انٹرنیٹ کی سہولت بھی میسر نہیں، صحافی اپنی رپورٹ کیسے بھیجیں، صحافیوں کو معلومات تک رسائی بھی نہیں دی جا رہی جبکہ اس حوالے سے ہم مسلسل آواز اٹھائے ہوئے ہیں۔

اشفاق عباسی

نیلم سے تعلق رکھنے والے اشفاق عباسی گزشتہ 12 سال سے شعبہ صحافت کے ساتھ منسلک ہیں اور مختلف اخبارات کے ساتھ کام کرتے آئے ہیں۔اشفاق عباسی نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ لائن آف کنٹرول پر گولہ باری کے دوران ہمیں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانی پڑتی ہیں کیونکہ اگر ہم بھی عام لوگوں کی طرح گھروں اور مورچوں میں بیٹھے رہیں تو پھر وہاں کی صورتحال سے کوئی بھی آگاہ نہیں ہو سکتا اور نہ کسی کو ایمرجنسی میں امداد کی سہولت مل سکتی ہے۔ اس لیے ایسے حالات میں کوشش کرتے ہیں کہ ہم متاثرہ علاقوں میں نقصانات کی تفصیلات کی تصدیق کر لیں جبکہ ویڈیو اور فوٹو منگوانے یا بنانے کا انتظام بھی ہمیں خود کرنا پڑتا ہے، جن مقامات سے ہمیں مکمل نقصانات کی اطلاع موصول ہوتی ہیں ان کو سکیورٹی کے اداروں اور ضلعی انتظامیہ سے بھی کنفرم کر نے کی کوشش کرتے ہیں۔اشفاق عباسی کے مطابق ان معلومات کو ٹی وی چینل اور دیگر میڈیا ہاوسز تک پہنچانا بھی کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے ہاں انٹرنیٹ کی سہولت گزشتہ دو ماہ سے دستیاب نہیں ہے اور دوسری طرف کشیدہ حالات کے دوران ہمیں خود خطرہ رہتا ہے کہ بھارتی فوجی پوسٹوں کے سامنے کے علاقوں میں دن کی روشنی میں سفر نہ کریں کیونکہ کسی بھی وقت بلا اشتعال شیلنگ کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جس سے ہمارے جان بھی جاسکتی ہے۔

عمران ایوب

پونچھ سیکٹر کے قریبی شہر راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے عمران ایوب بھی گزشتہ 24سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں اور اخبارات کے ساتھ کام کرنے سمیت ٹی وی چینل کیلئے بھی رپورٹنگ کرتے ہیں۔ عمران ایوب کا کہنا ہے کہ ٹی وی چینلز یا اخبارات کی انتظامیہ کو یہ غرض نہیں ہوتی کہ ہمارا رپورٹر کن کن مسائل کا سامنا کرتے ہوئے ہمیں خبر دے رہا ہے، ایل او سی کی رپورٹنگ جان جوکھوں کا کام ہے، ہمارے پاس حفاظتی سامان نہیں ہوتا نہ ہی سفری سہولت میسر ہوتی ہے جبکہ زیادہ تر علاقہ ایسا ہے جہاں دشمن ملک کی فوجیں پہاڑوں کے اوپر چوکیوں پر موجود رہتی ہے اور وہ کسی بھی وقت کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دشمن ملک کا یہ ٹریک ریکارڈ رہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت شہری آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری کرنا اپنا حق سمجھتا ہے، اس لیے اس کی گولی یا مارٹر یہ تقریق نہیں کرتا کہ اس کا نشانہ عام شہری ہے، میڈیا ورکر ہے، سیکیورٹی اہلکار ہے یا کوئی اور۔ عمران ایوب کا کہنا ہے کہ چاہے دن ہو یا رات ہمیں تو رپورٹنگ کرنی اور حقائق سامنے لانے ہوتے ہیں، ہمیں معلومات کی فراہمی یا سفری سہولت کیلئے نہ حکومت کو سہولت میسرتی کرتی ہے اور نہ سیکیورٹی کے ادارے تعاون کرتے ہیں، بلکہ جہاں تک ممکن ہو یہ ادارے ہمارے لیے مشکلات ہی پیدا کرتے ہیں اور حقائق سامنے لانے سے روکنے کی کوششیں کرتے ہیں۔

سجاد قیوم میر

اے ایف پی سے منسلک صحافی سجاد قیوم میر جو دارلحکومت مظفرآباد میں رہ کر لائن آف کنٹرول کی رپورٹنگ گزشتہ آٹھ سال سے کر رہے ہیں انہوں نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ سال 2017ء کے دوران پونچھ ضلع کے درہ شیر خان سیکٹر میں گولہ باری کی فوٹیج لینے اور متاثرین سے بات چیت کرنے سرحدی علاقے میں گیا تو وہاں بھارتی فوج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ شروع ہو گئی، شام کے وقت میں شروع ہونے والی گولہ باری اس قدر شدید تھی کہ زمین لرز اٹھی، ہمارے قریب پاکستان کی کوئی فوجی چوکی بھی نہ تھی، شہری آبادی پر گولہ باری کی جا رہی تھی، کئی گھروں پر مارٹر گولے مارے گئے، ہم نے ایک سرکاری عمارت کے پیچھے پناہ لی ہوئی تھی، تقریبا دو گھنٹے کی مسلسل گولہ باری کے بعد جب توپ خانے خاموش ہوئے تو ہم نے اپنی گاڑی اسٹارٹ کی لیکن رات کے وقت ہم نے گاڑی کی لائیٹس جلانے سے اجتناب کیا، اور دھیمی رفتار میں اس علاقے تک پہنچے جو براہ راست گولہ باری کی زد میں نہیں آتے تھے۔ سجاد کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس وقت باہر نکلتے تو مخالف سمت سے آنے والی گولیوں کا با آسانی نشانہ بن سکتے تھے۔

طارق لون

کوٹلی میں گزشتہ آٹھ سالوں سے ٹی وی چینلز کے ساتھ کام کرنے وال سینئر صحافی طارق لون سے جب یہ پوچھا گیا کہ سرحدی علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت کس اتھارٹی نے اور کیوں بند کر رکھی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ سیکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ نے انٹرنیٹ کیوں بند کیا اور نہ ہی اس حوالے سے میڈیا اور عوام کو کسی پریس نوٹ کے ذریعے آگاہ کیا گیا، البتہ انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنی کے نمائندگان بتا رہے تھے کہ سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے انٹرنیٹ بند کرایا گیا ہے۔کوٹلی میں ایل او سی کے وہ علاقے جو ہم سے 4 یا چھ گھنٹے کی مسافت پر واقع ہیں وہاں کہ ہمارے میڈیا کے ساتھی کسی مسافر کے ذریعے وہاں کی معلومات ہم تک پہنچاتے ہیں یا کسی اہم واقعہ کی معلومات لینے ہمیں خود سفر کرنا پڑتا ہے۔ ٹیلی فون کی سہولت تو بعض اوقات میسر ہوبھی جاتی ہے لیکن ویڈیو یا تصویر جو ایک ثبوت کے طور پر میڈیا کا ہتھیار ہوتی ہے اس کو بھیجنا ہمارے لیے انتہائی کٹھن ہو چکا ہے۔

امتیاز اعوان

ہٹیاں بالا سے تعلق رکھنے والے امتیاز اعوان جو گزشتہ سا ل 1988ء سے مختلف اخبارات کے ساتھ کام کرتے رہے اور 2005ء سے اب تک پاکستان کے پرائیویٹ چینل آج ٹی وی سے منسلک ہیں، ان کا کہنا ہے کہ موبائل اور انٹرنیٹ کی فراہمی کے بعد ہمارے لیے یہ آسانی ہو چکی تھی کہ مختلف علاقوں سے لوگ اور میڈیا کے لوکل نمائندے ہمیں ایل او سی کی صورتحال سمیت اہم واقعات کی فوری اطلاعات دے دیتے تھے لیکن اب ان علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں اس لیے ہم تک خبر تو کسی نہ کسی ذریعے سے پہنچ ہی جاتی ہے لیکن فٹیج نہیں ملتی،ویڈیو اور تصاویر کے حصول کیلئے ہم عینی شاہدین کی مدد حاصل
کرتے ہیں اور ان کو یا تو مظفرآباد میں اپنے پاس بلا لیتے ہیں یا ہم خود ان علاقوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔دشوار گزار علاقوں کا سفر بھی آسان نہیں ہوتا اور وہاں سے بروقت رپورٹنگ بھی ممکن نہیں ہوتی لیکن اس کے باوجود ہم اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے ہیں۔

طارق نقاش

سنٹرل پریس کلب مظفرآباد کے صدر طارق نقاش نے سرحدی علاقوں میں انٹرنیٹ کی بندش سے صحافیوں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب اس گلوبل ویلج میں انٹرنیٹ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ زندگی کی ضرورت بن چکا ہے، ہر شعبے میں اس سے سہولت حاصل کی جاتی ہے، یہ دنیا بھر سے آگاہی اور معلومات کا ذریعہ ہے، جو لوگ اس کی مدد سے اپنی تعلیم، بنک ٹرانزیکشن، ایڈمشن کیلئے اپلائی کرتے ہیں ان کو بھی مشکلات ہیں اور ان علاقوں میں سرکاری مشینری کا کام بھی سخت متاثر ہوا ہے۔ ایسے میں ہماری صھافی برادری بھی دیگر لوگوں کی طرح بری طرح متاثر ہو رہی ہے، میڈیا ورکرز کو اپنے علاقے کی خبریں بھیجنے میں مشکلات ہیں، جب سے انٹرنیٹ بند ہوا ہے تب سے ایل او سی سے معلومات نہیں آ رہیں، صحافی اپنے ریجنل دفتر اور ہیڈ آفس کو خبر نہیں بھیج پا رہے، صحافیوں سرگرمیوں کی انجام دہی میں شدید مشکلات ہیں۔طارق نقاش نے کہا کہ اس حوالے سے میں نے دو مرتبہ میں نے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان سے مطالبہ کیا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے مسائل بڑھ رہے ہیں لہذا اس کو بحال کرانے کیلئے سنجیدہ کاوشیں کی جائیں جس پر انہوں نے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ متعلقہ اتھارٹیز سے بات چیت کر رہے ہیں جلد یہ سہولت مہیا کر دی جائے گی

وزیر اطلاعات مشتاق منہاس

وزیر اطلاعات آزادکشمیر راجہ مشتاق منہاس نے سٹیٹ ویوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صحافیوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے کہا کہ آزادکشمیر چونکہ متنازعہ علاقہ ہے اس لیے یہاں ایل او سی کی بہت زیادہ آزادانہ رپورٹنگ ممکن نہیں ہوتی، نقصانات کی معلومات فوج کا اطلاعاتی ادارہ آئی ایس پی آر جاری کرتا ہے اور اسی کے ذریعے جو معلومات میڈیا کو جاتی ہیں وہی مستند بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو ہر ممکن سہولت دینے کیلئے محکمہ اطلاعات موجود ہے، ضرورت پڑنے پر صحافیوں کے گروپس کو لائن آف کنٹرول کے دورے بھی کرائے جاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں