راجہ فاروق حیدرخان نےکشمیرہاوس میں غیراخلاقی سرگرمیاں میں ملوث سابقہ حکمرانوں کوآئینہ دکھا دیا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، سٹاف رپورٹر)وزیراعظم آزادکشمیر اور مسلم لیگ نواز آزادکشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدرنےسٹیٹ ویوز کےایڈیٹرسید خالدگردیزی اورکنٹرولرنیوز کاشف میرسے ملاقات کے دوران کہا کہ پارٹی عہدہ چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تحریک عدم لانے کی کوششوں سے واقف ہوں، جن لوگوں کو میرے خلاف عدم اعتماد لانے کا شوق ہے وہ کوشش کر کے دیکھ لیں، میں نے اپنے دور حکومت کے دوران اب تک جو کام کیے ان سے مطمئین ہوں، کیبنٹ ممبران سمیت کسی کو کھلی چھوٹ نہیں دی جا سکتی اس کے باوجود اپنی جماعت کے ممبران اسمبلی کو کہتا ہوں کہ اگر آپ کے جائز کام رہ گئے ہیں تو میرے پاس آئیں ، آپ کے مسائل حل کرنا میری ذمہ داری ہے۔

وزیراعظم آزادکشمیرنے تحریک عدم اعتماد کیلئے متحرک مسلم لیگی ممبران بارے کہا کہ بعض لوگوں کو اپنے نام کے ساتھ سابق وزیراعظم لگانے کاشوق ہے۔اگر کسی کو کوئی غلط فہمی ہے اوروہ مجھ سے خفا ہے تو اس غلط فہمی کو دور کرنےاور اسے منانے کیلئے تیار ہوں لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ میں اس کیلئے سیاہ کوسفید کردوں تو جب تک میں وزیراعظم ہوں تو میں ایسا کبھی نہیں ہونے دونگا۔

آڈیو لیکس کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ مختلف ادوار کی حکومتوں کے دوران کشمیر ہاوس میں حکمران کیا کچھ کرتے رہے، اگر میں نے زبان کھول دی تو جو لوگ آج میرے خلاف باتیں کر رہے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو منہ چھپاتا ہوا نہ پھرے۔میں نے جو باتیں کیں، اخلاقی جرات کرتے ہوئے ان سے انکار نہیں کیا، لیکن دونوں باتیں ایک الگ پیرائے میں کہی گئیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کالز کی آڈیو لیک کرنا غیر اخلاقی سرگرمی ہے، تحقیقات کر رہےہیں کہ کیسے ٹیلی فون ٹیپ ہوا یا محفل میں کی گئی گفتگو کس نےریکارڈ کی اورپھر اسکووائرل کیا ۔بحیثیت وزیراعظم آزاد کشمیر کسی کی بھی دل آزاری کرنا میرامقصد نہیں ہوسکتا لیکن مجموعی طورپر دوستوں کے ساتھ محلفوں میں ہم سب بعض اوقات ایسی گفتگو کرجاتےہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ آپ یا کوئی بھی شہری اسلام آباد اور مظفرآباد میں وزیراعظم سیکریٹریٹ کےملازمین سے میرے کردارکے بارے میں دریافت کریں اور گذشتہ حکومتوں کے دوران یہاں ہونے والی حد سے گری ہوئی غیر اخلاقی سرگرمیوں بارے دریافت کریں تو شاید آپ کو میں ان سب سے بہترلگوں گا جو آج عزت بچانے کی باتیں کررہے ہیں۔

مسلم لیگ کی صدارت کےحوالےسے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ برصغیر میں جماعتی صدارت اور وزارت عظمیٰ کوعلیحدہ کرنے کی روایت موجود نہیں ہے۔ان دو عہدوں کو علیحدہ کرنے سے وزیراعظم کیلئے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔پارٹی میں سے مجھے کسی نے نہیں کہا کہ صدارت چھوڑو۔اگر مجھے پارٹی صدارت چھوڑنا پڑی تو باقی عہدیداروں کو بھی حکومتی اورجماعتی عہدے علحیدہ کرنا ہونگے۔ ہم نے سردارعتیق احمد خان کو وزارت عظمیٰ یا مسلم کانفرنس کی صدارت چھوڑنے کو ضرور کہا تھا لیکن ہمارا خیال تھا کہ سردارعبدالقیوم خان مرحوم کو پارٹی صدر بنائیں گے تاکہ انکی چھتری تلے سب متحد ہوں لیکن سردارعتیق احمد خان نے وزارت عظمیٰ چھوڑی تھی اور نہ ہی پارٹی صدارت۔سردار عتیق کے حوالے سے اس وقت دونوں عہدے پاس رکھنے پر ہی اختلافات نہیں تھے بلکہ معاملے کچھ اور بھی تھے ۔

عبوری آئین 1974 میں 13 ویں ترمیم کا جائزہ لیکر 14 ویں ترمیم لانے کے معاملے میں وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ ایکٹ میں تیرویں آئینی ترامیم کرتے ہوئے ہم نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا کشمیر پر کیس مزید مضبوط کیا ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ ان ترامیم کے بعد آزادکشمیر حکومت پہلے سے زیادہ با ختیار ہوئی ہے۔ 14 ویں ترمیم کی تجاویز مرتب کرنے کیلئے ہم نے نہیں بلکہ وفاقی حکومت نے کمیٹی بنا رکھی ہے۔ہم نے جب انہیں کہا کہ بتائیں کیا ترمیم کرنی ہے تو وہ بتانے سے ابھی تک قاصر ہیں۔اب اس کمیٹی کی تجاویز سامنے آئیں تو ان پر بات کرینگے کہ کونسی ترامیم تجویز کی گئی ہیں اور انکو ہونا چاہیے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کونسل کو آمدن مین سے 20 فیصد دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہاں اگر کوئی ایسی آئینی تبدیلی کرنے کی تجویز دی گئی جو کشمیریوں اور پاکستان کے مفاد میں ہوئیں تو اس کو سنجیدہ لیا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ آئینی ترامیم کرنا آزادکشمیر اسمبلی کا اختیار ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ نہیں جس کے ذریعے آئینی ترامیم لائی جا سکیں۔

کشمیر کونسل کے ترقیاتی منصوبوں کاتعطل ختم کرنے بارے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وزیرصحت ڈاکٹر نجیب نقی کی قیادت میں کمیٹی بنائی ہوئی ہے جو کشمیر کونسل کی بیوروکریسی سے منصوبوں کی فائلیں لے تو ان پر حکومت کام شروع کرا دیگی۔کوشش ہے کہ کونسل سے وہ ریکارڈ مل جائے تو ان منصوبوں کو آئیندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنا دیں ۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کونسل ملازمین منصوبوں کی فائلیں حکومت کے حوالے نہیں کررہے، اس صورتحال کا جائزہ بھی لے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ کونسل ملازمین کے ساتھ ملکر آزادکشمیر میں کون سے سیاستدان اور افسران مشکلات پیدا کئے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم راجہ فاروق حیدرنےسٹیٹ ویوز کوبتایا کہ گذشتہ تین سالوں میں آزادکشمیر کے اضلاع کو آپس میں ملانے والی اور اضلاع کو راولپنڈی اسلام آباد سے ملانے والی شاہرات سمیت وزیراعظم کمیونٹی انفراسٹریکچر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 20 ہزار چھوٹے منصوبوں پر 80 فیصد کام مکمل کرلیا ہے۔اب اگلے بجٹ میں ترقیانی بجٹ 30 ارب روپےتک کرنے کی وفاقی حکومت کو تجویز دیں گے۔اس بجٹ میں لنک روڈز،سکولوں و ہسپتالوں کی عمارات کی تعمیر سمیت پینے کے صاف پانی کے منصوبے بھی شامل ہونگے۔وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اوروزیرصحت ڈاکٹر نجیب نقی نے دھیرکوٹ ہسپتال میں ایک حاملہ خاتون کی موت کے واقعہ کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس واقعہ پر افسوس ہے، واقعہ کی مکمل تحقیقات کرائیں گے اوراگر کسی کی غفلت پائی گئی تو قانون کے مطابق اسے سزا ہوگی جبکہ اس سال بجٹ میں دھیرکوٹ ہسپتال میں عملہ کی کمی پوری کرنے کی کوشش بھی کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں