وزیراعظم آزادکشمیرکے خلاف غیر اعلانیہ فاروڈ بلاک سامنےآ گیا

اسلام آباد(سیدخالدگردیزی/سٹیٹ ویوز)وزیراعظم آزادکشمیراورمسلم لیگ آزادکشمیرکےصدرراجہ فاروق حیدرکے خلاف مسلم لیگ آزادکشمیر کے 20 ممبران اسمبلی کا غیراعلانیہ فارورڈ بلاک سامنےآگیا جس کی سر پرستی بزرگ مسلم لیگی رہنما اور سابق وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کر رہے ہیں۔آڈیو لیکس کیوجہ سے اخلاقی طورپر مشکلات کا شکار ہونے والے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سیاسی طورپرچوکنے ہیں لیکن غیراعلانیہ فاروڈ بلاک کیجانب سے ماہ رمضان میں سیاسی ایڈونچر متوقع ہے۔سٹیٹ ویوز کے ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ وزیر اعظم کے خلاف 20 رکنی مسلم لیگی ممبران اسمبلی کےغیر اعلانیہ فاروڈ بلاک میں شاہ غلام قادر،چوہدری طارق فاروق،پیر سیدعلی رضابخاری،فاروق سکندر،اسد علیم شاہ،یاسررشید،نورین عارف،راجہ نثار،راجہ محمد صدیق،چوہدری مسعود خالد،سردارمیراکبر،راجہ عبدالقیوم خان،کرنل (ر) وقار نور،چوہدری رخسار،یاسین گلشن،چوہدری جاوید اختر،چوہدری اسماعیل،چوہدری شہزاد،نسیمہ وانی اور فوزیہ امتیاز شامل ہیں۔


بتایاجارہا ہےکہ اپوزیشن کے 11 میں سے 10اراکین نے بھی غیر اعلانیہ فاروڈ بلاک کو تعاون کی یقین دہانی کرا رکھی ہے جن میں چوہدری یٰسین، علی شان سونی، ملک نواز، سردار عتیق ، ماجد خان، غلام محی الدین، صغیر چغتائی، حسن ابراہیم ، شازیہ اکبراورعامرغفارلون شامل ہیں۔یوں وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کے خلاف ابتدائی طورپر بننے والے اتحاد میں شامل ممبران اسمبلی کی تعداد 30 ہے جبکہ حکومت گرانے کیلئے 25 ممبران اسمبلی کی ضرورت ھے۔ ذرائع کےمطابق وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم 13 ممبران اسمبلی کے دستخطوں سے جمع کرائی جائے گی اور یہ اس قدرخفیہ رکھی جائیگی کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اسمبلی توڑنےکااختیار استعمال نہیں کرپائیں گے۔

ذرائع کایہ بھی کہناہے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدرکے ساتھ بظاہر 18 ممبران اسمبلی کھڑے ہیں جن میں سے بیشتر کے فاروڈ بلاک سے بھی برابر رابطے ہیں۔وزیراعظم کے پیج پر نظرآنے والوں میں ڈاکٹرنجیب نقی،راجہ نصیر،سردار فاروق طاہر،چوہدری عزیز،چوہدری اسحاق،افتخار گیلانی،مصطفیٰ بشیر عباسی،چوہدری سعید،شوکت شاہ،ناصرڈار،احمدرضاقادری،مشتاق منہاس،عبدالرشیدترابی،مس رفعت عزیز،سحرش قمر،عامر الطاف اور جاوید اقبال سمیت پیپلز پارٹی کے سابق وزیراعظم چوہدری عبد المجید نمایاں ہیں۔

اس صورتحال میں مسلم لیگ کے غیر اعلانیہ فاروڈ بلاک کواپوزیشن کاسہارا لئے بغیر تحریک عدم اعتماد کامیاب بنانےکیلئے وزیراعظم کے گروپ سے محض 5 مسلم لیگی ممبران اسمبلی توڑنے کی ضرورت ہے جبکہ وزیراعظم کو تحریک ناکام بنانےکیلئے 6 ممبران اسمبلی کو اپنے کیمپ میں شامل کرناپڑےگا۔ ادھرسوموار کی شب وزیراعظم آزادکشمیر کی جانب سے مسلم لیگ نواز کی ہائی کمان کے اعزاز میں افطار ڈنر میں مسلم لیگ کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی،جنرل سیکریٹری احسن اقبال، پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف، رانا تنویر حسین،اقبال ظفر جھگڑا،مشاہد اللہ خان،سنیٹر چوہدری تنویر،سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب، عطااللہ تارڑ،طارق فضل چوہدری، حنیف عباسی،صدرنواز لیگ شعبہ خواتین سنیٹر نزہت صادق سمیت ملک ابرار، راجہ قمرالاسلام، ملک ریاض، سردار نسیم،صدیق الفاروق، راجہ حنیف کے علاوہ خصوصی طور پر صدر آزاد کشمیر مسعود خان، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے شرکت کی اورپیغام دیاکہ وہ وزیر اعظم آزادکشمیرکی پشت پر کھڑے ہیں۔

اس تقریب میں دعوت کے باوجود شاہ غلام قادر،چودھری طارق فاروق،پیر علی رضا بخاری،فاروق سکندر،راجہ عبد القیوم،چودھری یاسین گلشن،میاں یاسر رشید،اسد علیم شاہ،نسیمہ وانی،فائزہ امتیاز،رفعت عزیز اور سحرش قمر سمیت 13 مسلم لیگی شریک نہ ہوئے۔شریک نہ ہونےوالوں میں چوہدری عزیزبارے بتایاجارہا ہےکہ وہ سسرکی فوتگی کیوجہ سےافطاری میں شریک نہ ہوئے جب کہ باقی 12 ممبران نے دعوت کے باوجود شرکت نہ کرکے واضع طورپرعلحیدگی ظاہرکی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں