نقطہ نظر/عدنان عباسی

وزیراعظم آڈیو لیکس کا مرکزی کردار سعید اخترکون ہے؟

مسلم حکمرانوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتاہے کہ چاپلوس طبقے نے ان کے اقتدار کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ اقتدار ملنے کے بعد کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے آپ کوچاپلوس طبقے سے محفوظ رکھ پاتے ہیں۔ آزادکشمیر کے بیشتر حکمرانوں کا یہ المیہ رہاکہ وہ خوشامد کو پسند کرتے ہیں۔حکمرانوں کی اس کمزوری کا چاپلوس طبقہ نے نہ صرف بھرپور فائدہ اٹھایا بلکہ ان کے سیاسی مستقبل کو تاریک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

گذشتہ چند روز سے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کی آڈیو لیکس کا چرچا ہے جس میں وزیر اعظم نے بزرگ سیاستدان سردار سکندر حیات اور ایک خاتون کے خلاف انتہائی نازیبا زبان استعمال کی جس کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج جاری ہے۔ وزیراعظم فاروق حیدر نڈر آدمی ہیں۔ بطور وزیراعظم انہوں نے میرٹ کے نفاذ کے لیے احسن اقدامات کیے تاہم وزیراعظم کاحالیہ اقدام قابل مزمت ہے جس طرح وزیراعظم نے بازاری زبان کا استعمال کیا یہ کسی بھی طرح ان کے عہدے کے شان شایان نہیں۔

جہاں وزیراعظم کی آڈیو قابل مذمت ہے وہاں اس کی ریکارڈنگ اس سے بھی قبیح عمل ہے۔ کسی شخص کو کسی کی نجی ریکارڈنگ کرنےاور اس طرح پبلک کرنے کا حق حاصل نہیں۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے اپنے سٹاف افسر سعید اختر کو ملازمت سے برطرف کردیاہے۔سعید اختر کا نام زبان زدعام ہے۔ خوشامد پرستی میں سعید اختر کاکوئی ثانی نہیں۔ موصوف سے میری پہلی ملاقات 2009میں ہوئی۔ وقت کے ساتھ رفاقت بڑھتی چلی گئی۔

موصوف خود کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی سے منسوب کرتے ہیں۔ اس نام کو استعمال کرتے ہوئے سعید اختر نے آزادکشمیر کے تقریبا تمام سیاستدانوں سےدوستانہ تعلقات استوار کیے جسے یہ وقتاً فوقتاٌ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے رہے۔ سعیداختر کا سردارعتیق سے بھی قریبی تعلق ہے تاہم ان کی خوشامد پرستی نےمسلم کانفرنس اور سردارعتیق کو موجودہ پوزیشن تک پہنچانے میں اہم کرداراداکیا۔ گذشتہ الیکشن میں مسلم کانفرنس،پی ٹی آئی اتحاد موصوف کی کوششوں کا نتیجہ ہے اس اتحادسے موصوف فاروق حیدر کے قریب تر چلے گئے کیونکہ اس وقت مسلم کانفرنس،نواز لیگ اتحاد بھی زیر غورتھا جو فاروق حیدر کے لیے ناقابل قبول تھا۔

2009میں صحافت کا آغاز کیا تو ہردوسرے دن موصوف کال کرکے بڑی خبریں بتاتے کہ یہ ہونے جارہا ہے۔اگلے48گھنٹوں میں یہ ہوجائے گا۔جب میں یہ خبر فائل کرتا تو محترم ایڈیٹر عرفان قریشی مرحوم خبر روک لیتے اور کہتے کہ آپ کا سورس غلط خبریں دےرہاہے۔ بعدازاں وقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوا کہ موصوف کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف اپنے مقاصد کے حصول کے لیے بندے کو استعمال کرتے ہیں۔ موصوف نے دس برس قبل بڑی داڑھی رکھی ہوئی تھی پھر اچانک یہ کم ہوگئی۔ اس کی بھی دلچسپ سٹوری ہے تاہم یہ ان کا نجی معاملہ ہے اس لیے اس پر تبصرہ مناسب نہیں۔

اس شحص نے چاپلوسی سے فاروق حیدر کو اپنے جال میں پھنسایا ،استعمال کیا اور اب ردی کے کاغذ کی طرح پھینکنے کی کوشش کی ہے۔پہلے سے مسائل میں گھری فاروق حیدر کی کشتی کا موجودہ گرداب سے نکلنا مشکل نظر آرہاہے۔ہمارے سیاستدانوں کو اس کیس سے عبرت حاصل کرتے ہوئے خوشامد پرست طبقے سے اپنے آپ کو دور رکھناچاہیے وگرنہ ہر وزیراعظم کے خلاف درجنوں سعیداختر گدھ کی طرح منڈلارہے ہوتے ہیں جو انہیں حقیقت کی دنیاسے نکال کر بادشاہت کی راہ پرگامزن کرلیتے ہیں۔ایسے خوشامد پرست حکمرانوں کاانجام بھی سعید اختر سے زیادہ مختلف نہیں ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں