نقطہ نظر/ڈاکٹر سید نذیر گیلانی

حلف کی پالکی

آزادکشمیر کی سیاست میں آڈیو لیکس کے بعد جاری مکالمے کی معتبریت پر بھی بات ہونی چاہیے۔مسلم کانفرنس اور پیپلزپارٹی کے قصوں پر آزاد کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر سے منسوب آڈیوز کے طشت از بام ہونے کے بعد ایک مکالمہ جاری ہے۔ لوگ اپنے فہم کے مطابق مختلف دلائل دے رہے ہیں ۔ تبصرے subjective اور objective ہیں۔ اس لئے ان پر بحث مناسب نہیں ۔

ایک دلچسپ صورتحال سامنے آرہی ہے۔ ایک مکتبہ فکر کہہ رہا ہے کہ مسلم کانفرنس اور پیپلز پارٹی کے دور میں بھی سیاست اور کشمیر ہاؤس شرمندہ، شرمندہ رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں کے نام اور دوسرے حوالے سامنے لائے جا رہے ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ اس لئے مسلم لیگی وزیراعظم پر انگلی نہ اٹھائی جائے۔ یہ بھی دلیل دی جا رہی ہے کہ آئندہ پی ٹی آئی، مسلم کانفرنس اور پیپلزپارٹی کی حکومت آسکتی ہے اور وہ بھی اپنی کرنی کا بھریں گے۔

یہ point of view قطعی طور درست نہیں۔ ہر وزیراعظم آئین کے Schedule I سیکشن(4) 13 کے تحت اپنے منصب کا حلف اٹھاتا ہے اور یہ حلف اسے تعظیم کے بلند مقام پر بٹھاتا ہے۔ وہ قومی حرمت اور وقار کی ایک علامت بن جاتا یا بن جاتی ہے۔

اس حلف کے پہلے حصے کے بعد جو درج ذیل ہے:

I…..do solemnly swear that I am a Muslim and believe in the Unity and Oneness of Almighty Allah, His Angels, the Books of Allah, the Holy Quran being the last of them, his Prophets, the absolute finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him), the day of Judgement, and all the requirements and teachings of the Holy Quran and Sunnah”.

ہر وزیراعظم ایک ضابطے کا پاپندی ہو جاتا ہے۔ اس میں رتی بھر رعایت کی گنجائش نہیں رہتی کہ پہلے وزیراعظم کیا، کیا کرتے چلے آئے یا یہی کچھ کرتے چلے آئے۔اگر پہلے والوں نے کچھ برا کیا، وہ کسی دوسری برائی کے لۓ جواز نہیں بن سکتا۔

ایک وقت چراغ بیگ کا بھی تھا، جسے کشمیری کابل سے پالکی میں بٹھا کر کشمیر لائے تھے۔ اب اگرچہ پالکی کا دور نہیں رہا، حلف سے ہٹ کر، کسی عمل کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ کسی بھی جماعت کے لئے دلیل کی پالکی تیار کرنے کا عمل ہرگز معروف عمل نہیں۔

حلف میں کسی کے لئے، معافی اور توبہ کی کوئی گنجائش نہیں البتہ جو لوگ وزیراعظم کے سہو کا فائدہ اٹھانے کی تاک میں ہوں، ان کا ناپ تول بھی حلف کے گز سے کیا جانا ضروری ہے.

قرآن اور سنت کی تعلیمات کے لحاظ کا عہد ہی، وزیر اعظم کے منصب کی دلیل ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں