شاہ غلام قادرنے حکومت اور پارٹی ٹوٹنے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، سٹیٹ ویوز)آزادجموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر و مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری جنرل شاہ غلام قادر نے سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹر سید خالد گردیزی اور کنٹرولر نیوز کاشف میر سے موجودہ حکومتی و سیاسی بحران کے حوالے سےگفتگوکرتے ہوئے کہا کہ راجہ فاروق حیدرخان کواس وقت جومسائل اور چیلنجز درپیش ہیں یہ ان کے اپنے پیدا کردہ ہیں، حکومت اور جماعت کیلئے سب سے بڑا خطرہ بھی خود راجہ فاروق حیدر ہیں، یہ خود ہی ان تمام مسائل کے ذمہ دارہیں اورخود ہی ان مسائل کوحل بھی کرسکتے ہیں،ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا لیں یا مرکزی مجلس عاملہ میں ان تمام مسائل پر بات چیت کر لی جاتی اور ہماری بات مان لی جاتی تو آج حالات جہاں پہنچ چکے اس تک نوبت نہ آتی۔

شاہ غلام قادر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سیاست کے کھیل میں لوگوں کو لوگوں کے احسان یاد نہیں رہتے، لوگوں کواقتدار ملنے کے بعد ماضی یاد نہیں رہتا، لوگوں کے احسانات یاد نہیں رہتے، لوگوں کی قربانیاں یاد نہیں رہتیں اور سیاست میں جو دوسروں کے احسانات یاد نہیں رکھتا تو اس کے راستے تنگ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ شاہ غلام قادر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم اگر پارٹی عہدہ چھوڑ دیتے ہیں تو ہم باقی پارٹی عہدیدار بھی تنظیمی عہدے چھوڑنے کیلئے تیار ہیں، عملا پارٹی غیر فعال ہے اور اگر ایسا ہی چلتا رہا تو خدانخواستہ پارٹی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہے جس کی ذمہ داری بھی راجہ فاروق حیدر خان پر ہو گی، پارٹی اور حکومت کی اس تمام صورتحال سے جماعت کی مرکزی قیادت کو آگاہ کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر خان کیلئے میں نے قانون ساز اسمبلی میں سپیکرشپ چھوڑ دی تھی ، یہ بات وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر میں نہ ہوتا تو آزادکشمیر میں مسلم لیگ نہیں بن سکتی تھی اور نہ ہی راجہ فاروق حیدر خان وزیراعظم بن پاتے، ہم نےملکر جماعت بنائی اس کو الیکشن لڑائے، اس جماعت نے پارلیمان میں جا کر پانچ سال اپوزیشن کی اور پھر اس جماعت نے الیکشن جیتے تو وزرات عظمیٰ کسی اور کو ملنے والی تھی کہ ہم نے سٹینڈ لیا اور راجہ فاروق حیدر خان کو وزیر اعظم بنوایا ، اگر ہم مخلص نہ ہوتے تو اس وقت میں خود وزارت عظمیٰ کا امیدوار بن جاتا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے قول و فعل میں تضاد ہے، جہاں اپنا مفاد ہو وہاں سب کچھ کر جاتے ہیں اور جہاں اپنے پارٹی کے سینئر لوگوں کی بات آئے تو وہ خیال نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پارٹی کے بانی سینئر ساتھیوں سے مشاورت نہیں کرتے، وزرا سے مشاورت کیے بغیر ان کے محکموں کے سیکرٹریز اور ضلعی انتظامیہ تبدیل کر لیتے ہیں، ایسے ہی بے شمار مواقع ایسے آئے جب پارلیمانی پارٹی، کیبنٹ سے مشاورت کی جانی چاہیے تھی لیکن راجہ فاروق حیدر خان کسے سے مشاورت تک کرنا گوارہ نہیں کرتے تو لوگ کیوں انکی بات سنیں، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ایک سیاسی جماعت ہے ، یہ کسی کی ذاتی جماعت نہیں ، اسی طرح وزیر اعظم اپنی پارٹی اور پارلیمان کو جوابدہ ہیں لیکن وہ ہر فیصلہ خود کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر خان ، حکومت اور سیاسی جماعت کو اپنے مشیروں کے ساتھ ملکر چلاتے ہیں ، ان کے مشیر اتنے قابل ہیں کہ آزادکشمیر ان کیلئے چھوٹی سی جگہ ہے لہذا میرا مشورہ ہے کہ ان مشیروں کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشیر تعینات کرایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں