ایمنسٹی سکیم اور ایف بی آر

ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر وفاقی کابینہ میں شدید اختلافات ہیں،ایف بی آر نے غیر اعلانیہ اثاثوں اور دولت کی ضبطی یا منجمد کرنے کی وسیع اختیارات دینے کی تجویز دی۔سکیم سے استفادہ نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بھارتی ماڈل کی نقل پیش کی جہاں انکم ٹیکس دفعات 132 ،اے132 ،بی132 کے تحت سخت کاروائی ہوتی ہے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ 1958 ؁ء سے مختلف جمہوری اور مارشل ادوار میں 13 ایمنسٹی اسکیمیں متعارف کرائی گئیں۔71 سالوں کے بعد بھی ٹیکس کا قابل عمل منصفانہ نظام لاگو نہیں ہو سکا۔ٹیکس نظام کی قانون سازی کرنے والے جمہوریت کے علمبردار ادارے پارلیمنٹ میں ایسے عوامی نمائندے بیٹھے ہیں جو کہ زرعی ٹیکس کی مخالفت کرتے ہیں۔رئیل اسٹیٹ پر بھی محدود ٹیکس کی بات کرتے ہیں،مگر آج تک کوئی ایسا نظام نہ آیا جس سے لوگ آزادانہ ٹیکس دیں۔71 سالوں کے بعد پاکستان میں بجلی اور گیس کی چوری ختم نہ ہوسکی ۔پنجاب اسمبلی میں اراکین کی تنخواہوں اور مراعات کی اضافہ کی تجویز کی پوری پنجاب اسمبلی نے اتفاق رائے سے حمایت کی،مگر عام کی بہتری ،ملک کی خوشحالی ،معاشی بدحالی،ٹیکس اصلاحات اور ایف بی آر کے طریقہ کار پر اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔

71 سالوں کے بعد بھی آج ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی شرائط پر بحث کرتے ہیں۔آج گھروں پر بنک قرضوں پر قانون سازی نہیں کرتے،روزگار اور کاروبار کے لئے آسان قرضے کا نظام نہ دیا۔بنگلہ دیش میں چھوٹے اور گھریلو صنعتوں پر قرضہ دینے والا ایک عام شخص چھوٹے چھوٹے قرضے دے کر ایک ایسا نظام لے کر آیا کہ ایک بنک کا صدر بن گیا اور آئیڈیل قرضوں کی واپسی ہے۔پاکستان میں ڈاکٹر امجد کا ’’اخوت‘‘ پراجیکٹ ایک ایسا نظام ہے جس کو آئیڈیل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔مگر نہ جانے عمران خان وزیراعظم کس انتظار میں ہیں ،کون ان کے مشیر ہیں،کیا مشورے دیتے ہیں؟۔پی ٹی آئی کی حکومت سے عوام کو بہت توقعات تھیں،مگر اقتصادی صورتحال تباہ کن ہے۔جب تک پاکستان سے خوف و ہراس کی کیفیت ختم نہیں ہوتی ،بیرونی اندرونی سرمایہ کاری کبھی نہیں آئے گی۔بد ترین مارشل لاء ادوار میں جب تک چینی آٹا بلیک کرنے والوں کو سر عام کوڑے مارے گئے ،ہوٹلوں اور گیسٹ ہائوس میں غیر اخلاقی سرکرمیوں میں ملوث افراد کو کوڑے مارے گئے ،مگر اسی ضیاء الحق کے مارشل لاء کی چھتری میں وزیرخزانہ محبوب الحق نے بلیک منی کو سفید کرنے کے لئے ایمنسٹی اسکیم لائے اور ریکارڈ تعداد میں بلیک منی ملکی معیشت کا حصہ بنی۔1990 ؁ء تک بحریہ ٹائون نامی کسی ہائوسنگ پراجیکٹ کا تصور نہ تھا۔

آج اگر 192 ارب کا ٹیکس ایف بی آر بحریہ ٹائون پر لگاتی ہے،سپریم کورٹ 460 ارب کی وصولی کا حکم دیتی ہے،50 ہزار ملازمین ،20 ہزار پراپرٹی ڈیلر اور 2 لاکھ افراد کا روزانہ دسترخوان بحریہ ٹائون چلاتا ہے، آخر کیوں اور کیسے؟۔سی ڈی اے جیسا حکومتی ادارہ اپنی 50 ہزار کنال زمین قبضہ گروپس سے واگزار نہ کرا سکا ۔ ای 12 میں توسابق وزیرخزانہ اسد عمر نے متاثر ین کی حمایت میں سی ڈی اے آپریشن رکوایاکیوں کہ ان کا انتخابی حلقہ ہے،مگر خرابی کہاں اور کیوں ہے؟۔پچاس لاکھ مکانات اور ایک کروڑ نوکریاں تو بہت دور ہیں،بجلی ،گیس اور مہنگائی تو کنٹرول کریں۔سابقہ وزیرخزانہ اور بنکار شوکت ترین کہتے ہیں کہ ایمنسٹی اسکیم سے قبل مالی نظام میں تین بڑے شگاف بند کرنا ہوں گے،کون سے شگاف ہیں ،اور کیوں ہیں؟۔ایک تو انھوں نے کہا کہ12 لاکھ سالانہ انکم پر ٹیکس چھوٹ ختم ہونی چاہئے،رئیل اسٹیٹ اور زرعی زمینوں پر ٹیکس لگانا چاہئے،گھروں پر قرضہ کی صورتحال میں قانون میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ڈیفالٹ کرنے والوں کے گھروں / فلیٹ ضبط کئے جائیں۔ساری دنیا میں مکانات / فلیٹ/ کمرشل جائیدادوں پر بنک لون دیتا ہے۔90 کی دھائی میں نواز شریف کی حکومت نے گاڑیوں پر بنک لون شروع کرایا،جو کہ آج تک کامیابی سے چل رہا ہے۔پاکستان کا کوئی بنک’’ کار فائنینسنگ‘‘ سے بند نہیں ہوا۔وصولی کا تناسب بھی دیگر لونز سے بہتر ہے۔بنگ اگر غرق ہوئے تو حکومتی مداخلت سے من پسند لوگوں کو قرضے دلوائے پھر معاف کرائے یا پھر بنک ڈیفالٹ ہو گئے۔ریئل اسٹیٹ کے حوالے سے بہت کہا جاتا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں لائیں۔آج پاکستان میں زرمبادلہ آتا تو 90 فیصد پراپرٹی کی فیلڈ میں آ رہا ہے۔اس طرح پاکستانی بنک اگر عوامی سرمایہ انویسٹ کرتے ہیں تو اسی رئیل اسٹیٹ انڈسٹری میں کرتے ہیں۔

جہاں بنکوں کے مشیران کہتے ہیں کہ تقریباََ 10.90 فیصد اپنے clients کو دیتے ہیں اور 5 فیصد بنک ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے کام آتا ہے۔تقریباََ 7 فیصد بنک کو بچت ہوتی ہے اس طرح رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری سے بنک کو سالانہ تقریباََ 22 فیصد فائدہ ہوتا ہے۔محفوظ ترین سرمایہ کاری صرف اسی انڈسٹری میں ہوتی ہے مگر نا جانے کیوں ماہر اقتصادیات اسی فیلڈ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔آج اگر وزارت خزانہ کے ماہرین ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لانا چاہتے ہیں جو کہ بہت اچھی بات ہے،اس میں بعض پی ٹی آئی کے وزراء کابینہ کے اجلاس میں کہتے ہیں کہ ایمنسٹی لانا ٹیکس چوروں اور ٹیکس فائلر کو برابر لانے کی بات ہے۔کوئی دنیا کا نظام ہی نہیں کہ ٹیکس چوروں کو آپ پکڑ سکیں۔پاکستان کی تاریخ میں 13 دفعہ ٹیکس ایمنسٹی لائی گئی ،اس کی تحقیق کر لیں کہ اس سے ٹیکس نیٹ بڑھا کہ نہیں ؟۔آج ورلڈ بنک کے جو ملازم نئے وزیر خزانہ لے کر آئیں وہ بھی ٹیکس ایمنسٹی کی بات کرتے ہیں،بلکہ کہتے ہیں کہ کم شرح سے ٹیکس ایمنسٹی لے کر آئیں۔اگر کچھ سمجھ نہیں آتا تو صرف سابقہ دور کے وزیرخزانہ محبوب الحق جو کہ مارشل لاء کہ چھتری میں تھے ان کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لے کر آئیں۔تحقیق کر لیں ٹیکس ہمیشہ کب اور کیوں کم ہوا؟۔جب مارشل لاء لگتا ہے اور احتساب کا نعرہ لگتا ہے تو کاروباری افراد خوف کی وجہ سے ٹیکس نہیں دیتے اس لئے زیادہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم مارشل لاء ادوار میں آئی۔

آج اگر ٹیکس ایمنسٹی اسکیم لائیں گے تو ٹیکس فائلر میں اضافہ ہو گا۔ورنہ ایف بی آر پرانے ٹیکس ادا کرنے والوں پر آڈٹ کے نام پر ٹیکس لگاتے رہیں گے۔پی ٹی آئی حکومت کا اچھا فیصلہ ہے کہ ایف بی آر والے زائد ٹیکس ادا کرنے والوں کو گولڈ اور سلور کارڈ اجراء کر رہے ہیں ،جس سے ائیر پورٹ پر ایسے کاروباری لوگوں کو VIP پروٹوکول ملے گا ،خوش آئیند بات ہے۔صرف ایئرپورٹ پر کیوں اور صرف 2 کیٹگری میں ٹیکس کارڈ کیوں؟۔تقریباََ 20 لیول کے کارڈ جاری کریں جو اربوں ٹیکس دیں ان کو گولڈ کارڈدیں ،جس کو تقریباََ ہر فیلڈ میں وہی عزت اور وقار ملے جو کہ ایک وفاقی وزیر کو ملتی ہے۔ایف بی آر ،کسٹم،تھانہ،سی ڈی اے،ایل ڈی اے عرض کہاں جائیں ان کی بات کو عزت کے ساتھ سنا جائے ،اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو حل کیا جائے۔بنک ایسے لوگوں کو لون دیں بلکہ ان کی ضمانت پر دیں۔اسی طرح کم از کم 5 لاکھ سالانہ ٹیکس دینے والوں کو بھی ایک ایسا کارڈ ضرور دیں کہ ان کو کم از کم یونین کونسل کے چیئر مین کے اختیارات ہوں کہ وہ ایف بی آر جائیں ،تھانے جائیں،ترجیحی بنیادوں پر ان کی بات سنی جائے۔ذاتی ضمانت پر لون لے سکیں ،تھانہ میں شخصی ضمانت پر لوگ لے کر جائیں۔بجلی ،گیس کے دفاتر میں ان کو عزت دیں ،انکے کہنے سے سرکاری واجبات کی اقساط ہو سکیں،گذشتہ دنوں جناح سپر مارکیٹ کے دوکاندارکے ادارے کو سرعام سی ڈی اے اہلکاروں نے اس لئے Seal کیا کہ پراپرٹی ٹیکس ادا نہیں کیا ،حالانکہ وہ فوری چیک بھی ادائیگی کر رہا تھا،مگر سی ڈی اے اہلکار اس کی شہرت کو نقصان پہنچا گئے ۔مذکورہ دوکاندار 10 لاکھ سالانہ ٹیکس ادا کرتا ہے،ٹیکس کارڈ ہولڈر کی شکایت پر فوری نوٹس لیں۔وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب صرف ٹیکس ادا کرنے والے کو عزت دے کر دیکھیں 8000 ارب ٹیکس ضرور ملے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں