تیربہدف/خضررفیق

پریشرکُکر

اقتصادیات کابھوت جان چھوڑنے کانام ہی نہیں لیتاکتنی خوش قسمت ہیں وہ اقوام جنہوں نے اس بھوت سے جان چھڑالی ہے،بجٹ کی رُت ہمیشہ بوجھل ہوتی ہےاب کہ برس تولگتاہے ساری بلائیں خانہِ انوری پے حملہ آورہیں،قوم کی نظریں بجٹ پے جمی ہیں کہ چھ ارب ڈالرکے ثمرات کتنے لذیذہوں گے،مئی کامہینہ چل رہااورامیدمٹی ہوتی جارہی ہے،لکھناپڑھنابھی تالیفِ قلب کےلیے ہے اس نقارخانے میں طوطی کی آوازکس نے سننی ہے،اخبارات دیکھ کہ یوں لگتا ہے جون اوربجٹ کہ خوف سے قوم کی نبض ڈوب رہی ہے گویاکہ بجٹ نہ ہواکوئی بلاہماری طرف پیش قدمی کررہی ہے،بہتری کی امیدجہاں کمزورپڑجاے وہاں افواہیں اوروسوسےڈیرے ڈال دیتے ہیں،ایسے حالات پراپیگنڈےکےلیے نہایت سازگارہوتے ہیں اورلوگوں کہ چہروں پربے چینی نمایاں نظرآنے لگتی ہے،حالات توستمگرہیں ہی طرفہ تماشہ یہ کہ اس مرتبہ بجٹ اورعیداکٹھے اکٹھے آرہے ہیں،کاشانہِ سفیدپوشاں پے بجلیاں گرناشروع ہوچکیں،آئی ایم ایف سے چھ بلین ڈالر قرض لینے کامعائدہ ہوچکا،ساہوکارقرضہ تودے دیتاہے جب سودسمیت قرض واپس لیتاہے توگھررہہن رکھواکرگھروالوں کودربدرکردیتاہے،کیاچھ بلین ڈالراُلجھی ہوئی گُتھی کوسُلجھاسکے گایامذید الجھن کاباعث بنے گا؟جواب ماضی کہ اقدامات اورنتائج میں موجودہے،آئی ایم ایف سے رجوع حکومت کوسُکھی کرنے کیلیے ہوتاہے سوال یہ پیداہوتاہے کہ قوم کوسُکھی کرنے کاکب سوچاجاے گا؟

حکومت کہ بجاے قوم کاپیٹ بھرنازیادہ ضروری ہوچکاہے،قوم کاپیٹ بھراہوگاتومحصولات کاہدف آسانی سے پوراکیاجاسکے گااورخالی پیٹ کوئی ہدف بھی پورانہ ہوسکے گا،خالی پیٹ مسائل اورجرائم کاسرچشمہ ہوتاہے،یہ کیساستم ہے؟پہلےحکومت نےمہنگائی مسلط کی باقی کسرآئی ایم ایف نکالےگا،قوم کوبھاڑسے نکال کربھٹی میں جھونک دیاگیا،مہنگائی کاطوفان لوگوں میں خوف کاباعث بن رہاہے،مڈل کلاس اورسفیدپوش طبقےکےلیے بجٹ اوعیدکامرحلہ دونوں جانگسل ہیں،بجٹ بہتربھی ہوسکتاہے،جانے کیوں ہرکسی کو لگتا ہے کہ بٹورے میں اُپلے ہی نکلیں گے؟سانپ کاڈسارسی سے توڈرتاہے جناب،سوچنے والادماغ پریشان ہے کہ اس قدر ہواکیوں بھری جارہی ہے پریشرکُکرمیں؟یہ پریشرکُکرکہیں پھٹ گیاتوکیابنے گا؟کسی ریاست کوچلانے کیلیے اقتصادی منصوبہ بندی بجٹ کہلاتی ہے مگر ہمارے ہاں موے کومارے شاہ مدارپالیسی بجٹ کہلاتی ہے،وزیرخزانہ گورنراسٹیٹ بینک اورچئرمین فیڈرل بورڈ آف ریوینیوکی چھٹی اس تاثرکوگہراکرتی ہے کہ حالات کنٹرول میں نہیں ہیں،یہ حقیقت روزِروشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ موجودہ دورحکومت میں معشیت دن بدن ابترہوتی جارہی ہے،اس ابتری کاجان لیواپہلویہ ہے کہ روٹی اورآدمی کہ درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں،دوست ممالک سے ملنے والی امدادبھی بہتری کاباعث نہ بن سکی،کرنسی کازوال تشویشناک حدتک ہورہاہے،ایک رپورٹ کہ مطابق جی ڈی پی کی شرح نمو3.29فیصدپرپہنچ گئی ہے-

جونوبرس کی پست ترین سطح ہےجبکہ یہی جی ڈی پی کی شرح نموسال 2017 2018میں 5.53فیصدتھی،زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح بھی تشویشناک حدتک گرچکی ہے،اس تاثرکوتقویت مل رہی ہے کہ ملک کوآئی ایم ایف کہ حوالے کیاجارہاہے،آئی ایم ایف کی کڑی شرائط عام آدمی کی رگوں میں بچاخون کاآخری قطرہ تک نچوڑلیں گی،جب سے ہم نے آنکھ کھولی ہرسال بجٹ کوحکومت عوام دوست اوراپوزیشن عوام دشمن قرار دیتی آئی ہے،ہمارے بجٹ سے عوام کااعتماداس لیے اٹھ چکا کہ عوام کوریلیف دینے کارواج اورمزاج دونوں ناپیدہیں اورحکمران طبقہ اپنے کروفراورحکومت کوچلانے کیلیے عوام کی رگوں میں بچےکُھچے خون کوبھی نچوڑنے کامنصوبہ بنارہاہوتاہے،ہم عوام کوچُھری بالکل اسی طرح نظرآتی ہے جس طرح ذبح ہونے والے بکرے کو،غورسے دیکھاجاے تومہنگائی تاریخ کی بلندترین سطح تک پہنچی ہوئی ہے مگرموے کومارے شاہ مدارحکومت تسلسل کہ ساتھ عوام کوذہنی طور پر مزید مہنگائی برداشت کرنے کےلیے تیارکررہی ہے،معشیت کابحران جس قدر گہرا ہوتا جا رہا ہے عوامی بے چینی اورمایوسی میں اُتناہی اضافہ ہوتا جا رہا ہے-

حکومت کوعطارکہ لونڈے یعنی آئی ایم ایف سے دوالینے کہ بجاے قوم سے رجوح کرناچاہیے،قوم کی بے چینی کاعلاج عالمی مالیاتی اداروں کہ پاس نہیں بلکہ خودانحصاری کہ لائحہ عمل میں ہے اورخودانحصاری اپنے وسائل کوبڑھانے سے ہی ممکن ہوسکتی ہے،معاشی ایمرجنسی نافذ کرنی ہوگی جھوٹے دعوے اورخیرکی خبریں سنانے کی پالیسی ترک کرنا ہوں گی،اسمگلنگ کہ تمام سوراخ بندکرنا ہوں گے،چندذخیرہ اندوزپالنے ہیں یاقوم کوپالناہے دونوں کواکٹھے نہیں پالاجاسکتا،ہماری زرعی مصنوعات اسمگل ہوکروسط ایشیاتک جائیں اوراندرونِ ملک قیمتوں میں استحکام بھی رہے یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے؟زرعی پیداوارمیں بے تحاشہ اضافہ کرنے کادوتین سالامنصوبہ پیش کرکے قوم کوساتھ لیکرزرعی پیداوارکواتنابڑھادیاجاے کہ کھانے پینے کی اشیاءپرِکاہ کہ برابرآجائیں،اس دورانیے میں بے شک مالیاتی اداروں پے انحصارکیاجاے،جب زراعت کاشعبہ سستی خوراک قوم کوفرائم کرناشروع کردے گااندرونی طورپے استحکام آے گا،قومی اورحکومتی اعتمادبحال کرکے تجارت اورصنعت کہ فروغ کے لیے ایک واضح روڈمیپ قوم کو دینا ہوگا اور قیادت کورول ماڈل بنناہوگا-

عالمی مالیاتی اداروں کہ ٹیکے پین کیلرکی طرح وقتی طورپرآرام کاباعث توہوسکتے ہیں دیرپاحل نہیں ہے،زمینی حقائق خاصے گھمبیرہیں جب تک پوری قوم مل کرکھڑی نہیں ہوتی ڈھاک کہ پات تین ہی رہیں گے،یادرہے کہ موجودہ بحران کسی حکومت یاجماعت کامسلہ نہیں بلکہ پوری ریاست کولاحق ہے،ریاست اپنے تمام ستونوں کہ ہمراہ اُٹھ کھڑی نہ ہوگی تودیوارکوپڑھنابہت مشکل نہیں،مخصوص طبقات کہ سُکھ کاخیال رکھتے رکھتے ملکی معیشت کی پسلی توڑدی ہےہم نے،آئیے کوئی ایساپروگرام بناتے ہیں جس میں پوری قوم کابھلاہو،دانشمندی کاتقاضہ ہے کہ پریشرکُکرکوپھٹنے نہ دیاجاے بلکہ ہوانکال لی جائے-

اپنا تبصرہ بھیجیں