عدالتی حکم عدولی،سپریم کورٹ ڈپٹی کمشنرراولپنڈی پر برہم،نوٹس جاری کرنیکا حکم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عدالتی حکم عدولی پر سپریم کورٹ آف پاکستان ڈپٹی کمشنر راولپنڈی پر برہم ہوگئی۔ جسٹس عظمت سعید نے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کی سخت سرزنش کی اور کہا کیا عدالتی حکم انگریزی میں پڑھ لیتے ہیں؟کیوں نہ آپ کو توہین عدالت کا نوٹس دیا جائے ؟

ڈپٹی کمشنر صاحب، آپ کوئی اور کام کریں ،آپ کا کیریئر آج ختم ہوگیاہے۔جسٹس عظمت سعید نے ڈپٹی کمشنر کو مخاطب ہوکر کہا آپ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے۔ اڈیالہ جیل بھجوا دیا جائے گا۔سپریم کورٹ میں شیخ رشید کیخلاف گرلز گائیڈایسوسی ایشن کی درخواست پرجسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ۔

کمشنر اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی عدالت میں پیش ہوگئے۔ عدالت نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر پر شدید برہمی کا اظہارکیا ، جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا آپ کو انگریزی آتی ہے یا نہیں؟سپریم کورٹ کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے؟جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا ڈپٹی کمشنر اور کمشنر اس عہدے کے لائق نہیں ہیں،کوئی اور کام ڈھونڈ لیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا ہمارے نزدیک تو کوئی توہین عدالت نہیں ہوئی۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا دیوار گرا دی ، کیا یہ توہین عدالت نہیں؟ڈپٹی کمشنر نے کہا دیوار گرانے کا حکم ہم نے نہیں دیا۔اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا اسسٹنٹ کمشنر موقع پر موجود تھا جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟

گرلز گائیڈ ایسوسی ایشن کی وکیل عائشہ حامد نے کہا یہ جھوٹ بولنے کے مرتکب ہورہے ہیں۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کیا آسیب نے آکر دیوار گرا دی؟ آپ اس ذمہ داری کے اہل نہیں ہیں۔ ڈپٹی کمشنر صاحب، آپ کوئی اور کام کریں ،آپ کا کیریئر آج ختم ہوگیاہے۔

ڈپٹی کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ وقوعہ کے وقت وہ لاہور میں تھے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ لاہور مریخ پر تو نہیں؟عائشہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ 15اپریل کو شیخ رشید کی کال پر دیوار گرائی گئی۔پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایک رات میں دیوار بنا دی گئی ہے۔گیس کنکشن کا کام بھی آج کرا دیں گے۔عدالت رحم کا مظاہرہ کرے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کسی کو خوش کرنے کے لئے عدالتی حکم عدولی کی گئی۔ڈپٹی کمشنر نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی ۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کوئی معافی قبول نہیں کریں گے۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا روزے سے کھڑا ہوں ، کوئی ایسا حکم نہیں دیا گیا۔جسٹس عظمت سعید نے کہا ایسی کہانیاں نہ سنائیں کہ روزے سے ہوں۔ یہ اللہ کا اور آپ کا معاملہ ہے۔سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی طبیعت دوران سماعت بگڑ گئی اور کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں