لائف انشورنس کمپنیوں کے نام پر فراڈ

ویسے تو وطن عزیز میں جاری نت نئی کرپشن اور لوٹ مار کے بازار جو مختلف اداروں،شخصیات اور اُن کے کارندوں نے کافی عرصہ سے جاری کئیے ھوئے ھیں اس کے اثرات بھی نظر آ رھے اور قوم اسکی بھاری قیمت بھی چکا رہی ھے مگر کرپشن کا خاتمہ صرف نعروں تک ہی محدود ھوتا نظر آ رھا ھے اسی حوالے سے لائف انشورنس کے نام پر کچھ پرائیویٹ انشورنس کمپنیوں نے ٹینیکل فراڈ شروع کیا ھوا ھے جس کی کوئ پکڑ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‎ویسے تو کرپشن کیخلاف میڈیا دن رات آسماں سر پر اُٹھائے ھوئے نظر آۓ گا مگر کسی مصلحت یا عدم دلچسپی کیوجہ سے معاشرے میں جاری و ساری کرپشن جو کہ مختلف لائف انشورنس کمپنیوں نے شروع کی ھوئ ھے میڈیا کی نظروں سے مکمل اوجھل ہے۔گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں کام کرنے والی اکثر پرائیویٹ لائف انشورنس کمپنیاں جو درحقیقت بیرون ممالک بالخصوص یورپ و امریکا کی اسی طرز کی کمپنیز کے پاس انشورڈ/منسلک ہیں اور مُلک میں پھیلے ھوئے اپنے نیٹ ورک بالخصوص سیل ایجنٹس جن میں ذیادہ تر جاذب نظر نوجوان خواتین کے ذریعے سادہ لوح متوسط طبقے بالخصوص تنخواہ دار ملازمین اور چھوٹے کاروباری حضرات کو شکار کرنے کیلئے اُن کو سہانے سپنے دکھا کر انشورنس پالیسی کیلئے مائل کرتی ہیں-

جن کا طریقہ واردات کسی بینک یا کمپنی سے کاروباری حضرات کا ڈیٹا ٹیلی فون نمبرز لیکر یا ایک لِنک سے آگے لِنک بڑھا کر اُن کے کانوں میں رس گھولنے والی آواز سے بات کر کے سادہ لوح شہریوں کو انشورنس پالیسی حاصل کرنے کیلئے مائل کرتی ہیں اور اُن کو 34 فیصد تک سالانہ منافع کی خوبصورت بچت سکیم کا پرچار کرتی ہیں اور ساتھ یہ بھی باور کروایا جاتا ھے کہ آپ کی یہ سرمایہ کاری بلکل محفوظ ھے اور آپ جب چاہیں اصل سرمایہ کاری بمعہ منافع واپس حاصل کر سکتے ھیں پہلے رابطہ فون پر پھر میٹنگز اور انشرونس پالیسی کے ٹوکرےمیں ۔۔۔ سادہ لوح انسان جب انشورنش کمپنی کے سیل ایجنٹس کیطرف سے بتائے گئے منافع کی شرح کو بینک کی شرح سے تقابل کرتا ھے تو اس کو انشورنس کمپنی کا پیکج ذیادہ منافع بخش لگتا ھے بس پھر کیا اپنے بچوں اور خاندان کے محفوظ مستقبل کیلئے انشورنس سیل ایجنٹ کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اپنی جمع پونجی انشورنس پالیسی کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس تناظر میں راقم سے انشورنس کمپنیوں کے ڈسے ہوئےمتعدد افراد کی ملاقات بھی ہوئ ہے جب کے اس کے علاوہ علم و مشاہدے میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ سینکڑوں لوگ مختلف انشورنس کمپنیوں کے ہاتھوں لُٹ کر تباہ ھو چکے ہیں کیونکہ سال یا دو سال بعد جب انشورڈ شخص اپنی کسی انتہائی مجبوری کے پیش نظر اپنی اصل رقم بمعہ منافع کی واپسی کا تقاضا کرتا ہے تو اسے یہ کہہ کر فارغ کر دیا جاتا کہ اگر آپ اپنی انشورنس پالیسی کے پریمیم کی رقم اگر پانچ سال تک ادا کرتے رہیں تو آپ کو مطلوبہ نتائج اخذ ھو سکتے ہیں ورنہ نہیں-

حالانکہ شروع میں انشورنس پالیسی میں پھنسانے کیلئے یہ نہیں بتایا جاتا کہ آپ کی پالیسی اتنے سال سے پہلے نہ ختم کی جا سکتی ہے اور نہ ہی رقم بمعہ منافع واپسی کا تقاضا کیا جا سکتا ہے ایسی صورتحال میں سینکڑوں پالیسی ہولڈرز اپنے معروضی حالات یا تھکا دینے والے پراسیس کیوجہ سے پانچ سال یا اس سے ذیادہ پریمیم کی ادائیگی جاری نہ رکھ سکنے کیوجہ سے اپنی جمع شدہ رقم سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جبکہ انشورنس کمپنیاں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کی خاطر اخلاقیات کی تمام حدود کو پار کر جاتی ھیں جس کو تحریر کرنا میرے قلم کی بھی توہین ہے۔اس تمام تر صورتحال کیوجہ سے اگر کوئیپالیسی ھولڈر شہری ٹارزن بننے کی کوشش کرے تو اُس کو انشورنس پالیسی کے معاہدہ کی شقوں میں اس طرح اُلجھا دیا جاتا ہے کہ انسان ڈوبی ہوئی رقم پر صرف اشک ہی بہا سکتا ہے- درحقیقت یہ انشورنس کمپنیاں ابتدائی رقم کے وقت نہ تو معاہدہ دکھاتی ہیں اور نہ سمجھاتی ہیں اور نہ ہی پڑھاتی ہیں بلکہ بندے کو اپنے سیل ایجنٹس کے ذریعے اتنے خوبصورت انداز میں شیشہ میں اُتارتی ہیں کہ بندہ انگلش میں تحریر شدہ شرائط کو پڑھنے کی زحمت ہی گوارہ نہیں کرتا جبکہ سونے پر سُہاگہ پالیسی کے کاغذات سیل ایجنٹس بلا کی مکار مہارت سے پالیسی ہولڈر سے یہ کہہ کر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں کہ ہم یہ پالیسی خود پروفیشنل طریقے سے چلائیں گے اور یہ پالیسی محفوظ بھی رہے گی یہ حرکت اس لیے کی جاتی ہے کہ پالیسی ہولڈر کہیں انشورنس پالیسی کے پیپر کسی سمجھدار بندے کو پڑھا کر ان کے انشورنس پالیسی کے چُنگل سے نکل ہی نہ جائے ۔

اس حوالے سے پالیسی ہولڈر کا اپنی رقم کی واپسی پر تنازعہ شروع ہوتا ہے تو چند رسیدوں کے علاوہ پاس کچھ بھی نہیں ہوتا اس قزئیے کا دوسرا تاریک پہلو یہ بھی کہ ہمارے مُلک کے اندر انشورنس کا قانون اولاً تو کسی کے علم میں ہی نہیں اور اگر تگ و دو کے بعد علم ہو بھی جائے تو وہ اس قدر پیچیدہ ہے کہ پالیسی ہولڈر اسے سمجھ ہی نہیں سکتے اور جو ادارے پالیسی ہولڈرز کی دادرسی کیلئے بنائے گئے ہیں وہ بھی یوں لگتا ہے جیسے خرگوش کی نیند سو رہے ہیں اور عام بندہ اُن کو جگانے سے مکمل طور پر ناکام ہے۔ستم ظریفی دیکھیے ایوان اقتدار اور اپوزیشن میں بیٹھے ہمارے قومی رہنماؤں کو اپنی ذاتی چپکلش،سیاسی دھینگا مُشتی اور ریشہ دیوانیوں سے فرصت ہی نہیں کہ وہ عوام کے رستے ہوئے زخموں کی مرہم پٹی کیلئے کچھ وقت نکالیں۔اس حوالے سے چئیرمین نیب جہاں کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں وہ اک نظر اس ٹینیکل فراڈ پر بھی ڈالیں اور ساتھ ہی اراکین پارلیمنٹ بھی انشورنس قانون اور اس پر عملداری کے اداروں یعنی وفاقی محتسب برائے انشورنس (اومبڈذمین) اور ٹربیونلز کے اختیارات و طریقہ کار کا از سر نو جائزہ لے کر اُنہیں سہل،قابل فہم،فعال و دادرسی بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں