متنازعہ آڈیو لیکس پر بحث کا خوف، وزیراعظم راجہ فاروق حیدر اسمبلی اجلاس میں شریک نہ ہو سکے

مظفر آباد(سٹیٹ ویوز)وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی متنازعہ آڈیو لیکس کے خلاف قراردایں بدھ تک موخر کی گئیں، آڈیو لیکس کے حوالے دو قراردادیں وزیر حکومت سردار فاروق سکندر خان اور ممبر اسمبلی سردار صغیر خان نے پیش کرنا تھیں.

دونوں ممبران نے ایوان میں آج اسمبلی اجلاس کے دوسرے روز گفتگو کرتے ہوے کہا کہ چونکہ وزیراعظم آج ایوان میں موجود نہیں لہذاان قراردادوں کو موخر کیا جائے تاکہ وزیر اعظم کی موجودگی میں آڈیو لیکس پر یہ قراردادیں ایوان میں پیش کی جاسکیں اور ان پر بحث ہو سکے اور وزیر اعظم بھی ان پر جواب دے سکیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان کی گزشتہ دنوں دو آڈیو لیکس وائرل ہوئی تھی جس میں سابق صدر و وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کے بارے میں راجہ فاروق حیدر خان نے نازیبہ الفاظ ادا کیے تھے جبکہ دوسری آڈیو لیکس میں ایک خاتون سمیت ایک مولوی اور جرال نامی شخص بارے سخت الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔

آڈیو لیکس پر حکمران جماعت ن لیگ کے سینئر رہنماء چوہدری طارق فاروق اور شاہ غلام قادر سمیت پارٹی کے بعض رہنماوں نے تشویش کا اظہار کیا تھا جبکہ سردار سکندر حیات خان نے ایک انٹرویو میں راجہ فاررق حیدر خان کو احسان فراموش قرار دیتے ہوئے بوجھ اٹھانے والے ایک جانور سے تشبیہ بھی دی تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ جمعرات کے روز جب اسمبلی اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن ممبران نے آڈیو لیکس پر تحریک التوا پیش کی لیکن سپیکر نے اس پر بات نہیں کرنے دی۔ اپوزیشن اراکین نے اجلاس کا احتجاج کرتے ہوئے بائیکاٹ کر دیا جبکہ سابق وزرائے اعظم چوہدری عبدالمجید اور سردار عتیق خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان سے استعفی کا مطالبہ کیا تھا۔

معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے آج اسمبلی سیشن میں شرکت کرنی تھی لیکن آج کے اسمبلی سیشن کے ایجنڈے میں وزیر اعظم کی آڈیو لیکس پر مزمتی قراردادیں شامل تھیں جن پر اراکین نے بحث بھی کرنا تھی لیکن وزیر اعظم نے آڈیو لیکس پر بحث مباحثے میں نہ پڑنے کا فیصلہ کر رکھا ہے جس وجہ سے وہ سیشن میں شریک نہ ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں