تشدد کا شکار شیراز گردیزی تاحال انصاف کے منتظر

وفاقی دارلحکومت کے صحافیوں کو تشدد اور دھمکیوں کا سامنا

سٹیٹ ویوز:اسلام آباد
رپورٹ:خواجہ کاشف میر

وفاقی دارلحکومت اسلام آبادمیں 37 سو میڈیا ورکرز کام کرتے ہیں ۔ پرنٹ، الیکٹرانک، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا ہاوسز اپنے رپورٹرز کے ذریعے پارلیمان ،سیاسی جماعتیں، عدلیہ، فنانس، کرائم ،نیب ، سوشل سروسز سمیت تمام ہی شعبہ جات کی رپورٹس حاصل کرتے اور انہیں شائع یا نشر کرتے ہیں۔اسلام آباد میں کام کرنے والے میڈیا ورکرز کو جہاں اپنے پیشے میں ترقی کرنے کے مواقع بھی ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ ملتے ہیں وہاں ان کیلئے فیلڈ کے چیلنجز بھی زیادہ ہوتے ہیں ان میڈیا ورکرز کو خطرات سے نمٹنے کیلئے تحفظ کی زیادہ ضرورت رہتی ہے۔ اسلام آباد میں حکومتی و سیاسی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہوتی ہیں اس لیے پورے ملک کی نگاہیں بھی یہاں کے میڈیا کی طرف ہوتی ہیں، گزشتہ 2سال کے دوران وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں کام کرنے والے درجنوں میڈیا ورکرز کو نشانہ بنایا گیا ، صحافیوں پر تشدد کیا گیا، ان پر مقدمات قائم کیے گئے۔ پاکستان پریس فاونڈیشن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں کے دوران صرف اسلام آباد میں صحافیوں پرتشدد، میڈیا ہاوسز کی جبری بندش۔ قتل ، اغواہ اور دھمکیوں کے 95 الگ الگ کیسز رپورٹ کیے گئے۔ان کیسز میں سے زیادہ تر کیس ایسے ہیں جن میں صحافیوں پر جسمانی تشدد کیا گیا لیکن حکومتی ادارے صحافیوں کے تحفظ اور انہیں انصاف دلانے میں ناکام رہے ہیں، پی پی ایف کے ان کیسز میں سے ایک شیراز گردیزی کا کیس بھی ہے۔

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں گزشتہ 14 سال سے بطور ویڈیو جرنلسٹ کام کرنے والے سید شیراز گردیزی پانچ سال سے جیو ٹیلی ویثرن کے ساتھ منسلک ہیں، شیراز کو گزشتہ تین سالوں میں 2 مرتبہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا، ایک مرتبہ جب 2017 میں کپیٹل ٹی وی کے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جارہی تھی تو شیراز گردیزی اور دیگر ساتھیوں نے ٹی وی چینل کے باہر احتجاج کیا اور مذاکرات کیلئے جب انہین اندر بلایا گیا تو انتظامیہ نے انہیں اندر بند کر کے تشدد کیا اور دوسری مرتبہ رواں سال 20 مارچ کو ان پر اس وقت تشدد کیا گیا جب سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری اورفریال تالپورکی نیب میں پیشی تھی تو اس دن نادرہ چوک میں پیپلز پارٹی ورکرز نے دوران کوریج شیراز گردیزی پر تشدد کیا ان کے جبڑوں پر ضرب لگاتے ہوئے ان کے دانت توڑاور چہرے پر شدید ضربیں آئیں، ٹی وی چینلز اور اخبارات نے اس خبر کو نشر اور شائع کیا جبکہ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس نے مزمت کی اور مجرموں کو پکڑنے کا مطالبہ کیا ، ریاست کی طرف سے دائر ہونے والی ایف آئی آر پر تحقیقات کے بعد اب تک 22 افراد کے خلاف چلان عدالت میں جمع کرا دیا گیا ہے ، لیکن اس پوری صورتحال سے متاثرہ صحافی شیراز گردیزی سخت مایوس ہیں۔

شیراز گردیزی نے بتایا کہ 20 مارچ کی صبح جب میں گھر سے دفتر جارہا تھا تو بیوروچیف صاحب نے فون پر ہدایت کی کہ میں فوری نادرہ چوک پہنچوں جہاں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کارکنان سے گفتگو کرنے سمیت میڈیا سے بات چیت بھی کرنی ہے۔ میں نیب ہیڈ کوارٹر کے باہر پہنچا جہاں پیپلز پارٹی کے کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے، پولیس اور کارکنان کے درمیان تصادم ہوا تھا اس لیے ماحول کافی جذاتی تھا، میں نے نیب کے باہر نصب بورڈ کی فوٹیج لینی چاہی تو دراز قد کا ایک شخص سامنے تھا، اس نے مجھے زور کا دھکا دیا تو میں یہ سمجھا کہ بھیڑ میں ٹکر لگ گئی ہے لہذا میں نے دوبارہ سے اس بورڈ کی فوٹیج لینی چاہی اور اس شخص سے کہا کہ آپ بورڈ کے سامنے سے کچھ دیر ہٹ جائیں ، یہ کہنا تھا کہ اس نے میرے اوپر حملہ کردیا ، دیکھتے ہی دیکھتے مزید افراد مجھ پر ٹوٹ پڑے، میں نے مزاحمت کرنی چاہی لیکن ایک ساتھ 6 سے 8 حملہ آوروں کے سامنے بے بس ہو گیا، گہرے زخم لگنے سے میں زمین پر گرگیا اور پولی کلینک ہسپتال پہنچ کر مجھے ہوش آیا،ابتدائی طبی امداد کے بعد مجھے سٹی سکین کیلئے پمز ہسپتال ٹرانسفر کر دیا گیا جہاں میں ایڈمٹ کر لیا گیا، چہرے پر زخم کا علاج کرنے سمیت مجھے تین نئے دانت لگائے گئے۔

شیراز نے بتایا کہ جیو ٹی وی کے ساتھیوں سمیت صحافتی یونینز کے دوستوں نے علاج کے دوران بھرپور تعاون کیا،ٹی وی چینلز نے خبر چلا دی، شام کو معلوم ہوا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی مجھے دیکھنے آنا چاہتے ہیں لیکن ان کی جگہ پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر ہسپتال آئے اور عیادت کرنے سمیت انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پیپلز پارٹی واقعہ کی تحقیقات کرائے گی اور مجرموں کو سزا دلانے کیلئے سیکیورٹی اداروں کی مدد کی جائے گی۔دوسری طرف سیکرٹریٹ تھانے کے ایس ایچ اونے ریاست کی طرف سے ایف آئی آر درج کی، جس میں پیپلز پارٹی کارکنان کی طرف سے زخمی کیے گئے پولیس اہلکاروں سمیت مجھ پر تشدد کا ذکر کیا گیا تھا، میں نے پولیس کو میڈیکل رپورٹ مہیا کرنے سمیت ملزمان کی فوٹیج بھی پہنچائی جو ہمارے کیمروں میں ریکارڈ تھی، پولیس نے یقین دہانی کرائی کہ تحقیقات آگے بڑھیں گی تو آپ سے رابطہ کیا جائے گا لیکن آج تک پولیس نے رابطہ تک نہ کیا ۔

شیراز گردیزی سے جب یہ پوچھا گیا کہ جیو ٹیلی ویثرن میں آپ ملازمت کرتے ہیں تو اس واقعہ پر ادارے نے آپ کا ساتھ کیسے دیا۔ شیرازنے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈائریکٹر نیوز صاحب سمیت تقریبا جیو کا ہر ورکر میری صحتیابی کیلئے دعا گو تھا،منیجمنٹ نے فوری کال کر کے مجھے اعتماد میں لیا اور علاج معالجہ فراہم کرنے کی آفر دی، ٹی وی چینل نے واقعہ کے فوری بعد خبر بھی چلائی، شیراز نے بتایا کہ ان کو اس وقت حیرت ہوئی کے جب ان کے ہی چینل میں پیپلز پارٹی کی بیٹ کور کرنے والے رپورٹر نے اس واقعہ کو ایک دوسرا رنگ دینے کی کوشش کی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو میری عیادت کرنے سے بھی روک دیا، شیراز کا کہنا تھا کہ اس رپورٹر کے ساتھ میرے صحافتی سیاست کے اختلافات ہیں، ہم پریس کلب اور یونین کی سیاست میں الگ الگ دھڑوں کا حصہ ہیں اس لیے شاید اس رپورٹر نے میرے خلاف سازش کی، شیراز نے بتایا کہ مجھے ہسپتال میں علاج کے دوران بتایا گیا کہ جیو کے مذکورہ رپورٹر کا کہنا ہے کہ نیب ہیڈکوارٹر کے باہر پیپلز پارٹی کے ورکرز نے کسی خاتون کو چھیڑنا چاہاتو شیراز کی ان کے ساتھ تلخی ہو گئی، لہذا تصادم ہوا، انہوں نے کہا یہ سراسر جھوٹ تھا کیونکہ وہاں ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا، ۔

شیراز گردیزی نے صحافتی یونینز کے اس واقعہ پر کردار بارے کہا کہ میں نے ہمیشہ ملک بھر میں صحافیوں کے حوالے سے آواز اٹھائی ، چاہے وہ ویڈیو جرنلسٹس ایسوسی ایشن ہو، آر آئی یو جے کا پلیٹ فارم ہو یا نیشنل پریس کلب اسلام آباد یا فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ہو ، ہمیشہ صحافیوں بارے احتجاج میں پیش پیش رہا ہوں۔لیکن مجھے افسوس ہوا کہ ماسوائے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے کسی بھی تنظیم نے میرے اوپر ہونے والے تشدد پر آواز نہیں اٹھائی۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، نیشنل پریس کلب اسلام آباد، کشمیر جرنلسٹس فورم جن کا میں متحرک ممبر ہوں ان تمام اداروں نے اس واقعے کی مزمت تک نہیں کی، انہوں نے بتایا کہ میں اس وقت نیشنل پریس کلب اسلام آباد کا منتخب سینئر جوائینٹ سیکرٹری ہوں لیکن پریس کلب کے صدر جو دوسرے گروپ سے منتخب ہوئے تھے انہوں نے اس واقعے کی مزمت تک نہ کی اور نہ ہی میرے ساتھ رابطہ کیا، شیراز نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے قائدین کے ساتھ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں احتجاج کیا گیا،جیو ٹی وی کے اینکر سلیم صافی نے پروگرام میں پی پی پی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر سے اس بارے سوال بھی پوچھا لیکن یقین دہانیوں کے باوجود پیپلز پارٹی نے مجرموں کو سامنے لانے کیلئے تحقیقات میں معاونت تک نہ کی۔


شاہین گردیزی کا موقف

شیراز گردیزی کے بڑے بھائی شاہین گردیزی کا کہنا ہے کہ شیرا زکے ساتھ دوران ڈیوٹی پیپلز پارٹی کارکنان نے جو تشدد کیا ، اس کی اطلاع ملتے ہی ہم تمام فیملی ممبر پریشان ہو گئے تھے، لیکن یہ صورتحال ہمارے لیے نئی نہیں تھی کیونکہ میڈیا میں رہتے ہوئے ورکرز کو ایسے حالات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے، شاہین نے بتایا کہ ایف آئی آر کا اندراج پولیس نے کر دیا تھا لیکن صحافی یونینز اور جیو انتظامیہ نے ایف آئی آر کا پیچھا نہیں کیا ، اس عمل سے ہمارے دل ضرور دکھی ہوئی ہوئے ہیں لیکن شیراز کے ذاتی دوست احباب سینکڑوں کی تعداد میں دن رات اس کے ساتھ رہے اور زخم بھرنے تک انہوں نے شیراز کو تنہا نہ ہونے دیا۔

صدر ربجا کا موقف

راولپنڈی اسلام آباد بیورو یونین کے صدر سردار شوکت محمود نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس ناک صورتحال ہے کہ ہم نے صحافیوں پر حملے پر ایک نعرہ لگایا تھا ” ایک پر حملہ سب پر حملہ” اس کو ہم نے چھوڑ دیا ہے، شیراز گردیزی جیسے صحافی اس میڈیا انڈسٹری کا حسن ہیں، صحافتی سیاست میں اختلافات ہوتے رہتے ہیں لیکن کسی پر بھی جب تشدد کیا جاتا ہے یا حملہ کیا جاتا ہے تو سب کو اس پر آواز اٹھانی چاہیے لیکن ہم غلطی مانتے میں کہ ہم نے ماسوائے مزمتی بیانات کے کچھ نہ کیا، سردارشوکت محمود نے کہا کہ ہم صحافیوں کی یکجہتی کیلئے کوششیں کریں گے اور شیراز گردیزی کو انصاف دلانے کیلئے اب قانونی جنگ مل کر لڑیں گے۔

ممبر گورننگ باڈی بشیر عثمانی کا موقف
سینئر صحافی و ممبر گورننگ باڈی راجہ بشیر عثمانی نے کہا کہ صحافی تنظیموں میں اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے اب صحافیوں کو نشانہ بنانہ آسان ہوتا جا رہا ہے، ایسے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، ایک طرف تو میڈیا ہاوسز کے مالکان ورکر کش پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں تو دوسری طرف صحافیوں کی تنظیمیں تقسیم در تقسیم ہیں ۔ بشیر احمد عثمانی نے کہا کہ وہ اس صورتحال پر پریشان ہیں کیونکہ شیراز گردیزی جیسے متحرک میڈیا کارکنان کو جب ضرورت پرنے پر تعاون نہیں دیا جائے گا تو ایک عام ورکر انصاف اور سپورٹ کیلئے کس کے پاس جائے گا ۔بشیر عثمانی نے کہا کہ پریس کلب کے پلیٹ فارم سے ہم کوئی قدم نہیں اٹھا سکے ، لیکن اس مسلے کو اب ہم پریس کلب کی انتظامی باڈی کے اجلاس میں اٹھائیں گے۔

صدر آر آئی یو جے کا موقف
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر عامر سجاد سید نے بتایا کہ گزشتہ سالوں میں درجنوں صحافیوں پر تشدد کیا گیا انہیں دھمکیاں دی گئیں لیکن ہمارے پاس ابھی مکمل ڈیٹا نہیں بن سکا لیکن میری کوشش ہو گی کہ ایسے واقعات بارے ڈیٹا جمع کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی مدد کیلئے یونین نے 20 رکنی وکلا ٹیم کی معاونت حاصل کر رکھی ہے جس بھی میڈیا ورکر کو معاونت درکار ہو یونین پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے۔عامر سجاد سید نے کہا کہ شیراز گردیزی پر تشدد کیا گیا تو مبارک زیب اور علی رضا علوی کی صدارت میں آر آئی یو جے نے احتجاج کیا، اب اس کیس کو ہم فیلڈ مین بھی لڑیں گے اور عدالتوں میں بھی۔

وفاقی مشیر اطلاعات کا موقف
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما و وفاقی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ میں نے ہمیشہ صحافیوں کو ترجیح دی اور موجودہ حکومت کی پالیسی بھی یہی ہے کہ ورکنگ جرنلسٹس کو مضبوط کیا جائے، صحافتی اداروں کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے میں مدد دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کارکنان پر تشدد کرنا اور دھمکیاں دینا نا قابل معافی جرم ہے، ہم آزادی اظہار کے حامی ہیں،صحافیوں کیلئے سیفٹی ایکٹ پر کام ہو رہا ہے جلد ہی صحافتی تنظیموں سے مشاورت کے ساتھ اس پر کام مزید آگے بڑھائیں گے، صحافی شیراز گردیزی کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے اور ملزم نامزد ہو چکے ہیں۔

جیو ٹی منیجمنٹ کا موقف
صحافی شیراز گردیزی گزشتہ پانچ سال سے جیو ٹیلی ویثرن کیلئے کام کر رہے ہیں، ان پر تشدد کے دو واقعات ہوئے جن میں جیو ٹیلی ویثرن نے کھل کر شیراز کا ساتھ نہیں دیا۔ 20 مارچ کو ہونے والے تشدد پر ابتدا میں چند ٹکر اور خبریں چلائی گئیں اور اس کے بعد خاموشی اختیار کر لی گئی۔ جیو نیوز کے اینکر اپنے پروگرامات میں اور اپنے ٹویٹر اکاونٹ کے ذریعے ملک بھر میں پیش آنے والے ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن ان کے اپنے اسلام آباد آفس کےویڈیو جرنلسٹ پر تشدد ہوا تو وہ بھی بلاول اور آصف علی زردای کو ناراض کرنے سے باز رہے۔ جیو ٹیلی ویثرن اسلام آباد کے ڈائیریکٹر نیوز رانا جواد سے بار ہا رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن بات نہیں ہوسکی جبکہ ایک سوال نامہ بنا کر انہیں واٹس ایپ بھی کیا گیا لیکن ان کی طرف سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

سنیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا موقف
پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر سے جب میڈیا نے شیراز گردیزی پر تشدد اور دائر کیس کے حوالے سے موقف جاننے کیلئے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ شیراز گردزیزی پر تشدد کرنے والے ملزمان کی تلاش میں ہم مدد کر رہے ہیں ، وہ کیس عدالت میں زیر سماعت ہے اور مجھ سمیت 22 لوگوں کے خلاف پولیس نے چالان عدالت میں جمع کرا رکھا ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ شیراز گردیزی جب زخمی ہوئے تو پارٹی قیادت نے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر صاحب کو عیدات کیلئے بھیجا تھا، پارٹی کی طرف سے وہی شیراز گردیزی ، جیو انتظامیہ اور دیگر فریقین سے رابطے میں ہیں۔ اس حوالے سے فرحت اللہ بابر سےموقف جاننے کی کئی بار کوششیں کی گئیں لیکن انہوں نے کال ایٹنڈ نہ کی اور نہ ہی واٹس ایپ کے ذریعے بھیجے گئے سوال نامے پر کوئی جواب دیا۔

شیراز گردیزی کیس میں پیش رفت
20 مارچ 2019 کو نیب کورٹ کے باہر پولیس کے ساتھ تصادم کرنے والے اور جیو نیوز کے ویڈیو جرنلسٹس شیراز گردیزی پر تشدد کرنے والے پیپلز پارٹی کے 22 کارکنوں کی اسلام آباد پولیس نے شناخت کر لی ہے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی عدالت میں جن 22 افراد کو پولیس نے ملزم قرار دے کر چلان پیش کیا ہے ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نوز کھوکھر ،راجہ شکیل عباسی ،سید حسین علی ، منصور اکرم عباسی ، بشیر حسین ، شفیق خان ، اشرف سائیں ، عمر خیام ، قمر نواز ، بلال الرحمان ، نسیم گل بلال ارشد، علیم اللہ ، محمد زمین خان ، ضیا اللہ آفریدی ، خالد حبیب ڈار، عبدالباسط، یونس، ہاشم، محمد اسحاق، سید حیدر علیشاہ اور کیبت خان شامل ہیں۔

پولیس کا موقف
ایس ایچ او سیکرٹریٹ تھانہ اسجد محمود نے میڈیا کو بتایا کہ صحافی شیراز گردیزی اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ تصادم کے کیس میں نامزد افراد کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور احتجاج کے دن پیپلز پارٹی کے رہنما و سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور پی پی پی اسلام آباد کے صدر راجہ شکیل عباسی ان کے احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔ان نامزد ملزمان میں سے 8 کا تعلق راولپنڈی اسلام آباد، 11 کا تعلق خیبر پختونخواہ سے ہے۔ ایس ایچ او سیکرٹریٹ تھانہ اسلام آباد کے مطابق پولیس نے تحقیقات کے بعد 22 افراد کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلانے کیلئے چلان پیش کردیا ہے، اب عدالت کی ہدایت کی روشنی میں کیس آگے بڑھے گا، اب عدالت میں شہادتیں ہوں گی ، ہم ثبوت پیش کریں گے، پھر فیصلہ عدالت نے کرنا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں