سندھ اسمبلی،مشرف دور کا پولیس آرڈر 2002 بحال کرنے کا بل منظور

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ اسمبلی نے پولیس آرڈر 2002 بحال کرنے کا بل منظور کرلیا جبکہ اپوزیشن احتجاج ہوئے کرتے ہوئے واک آؤٹ کرگئی۔

اسپیکر آغا سراج درانی کی زیر صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر پارلیمانی امور مکیش کمار چاولہ کی جانب سے پیش کردہ بل کی منظوری کا عمل شروع ہوا تو اپوزیشن اس نئے قانون کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کرگئی۔

اپوزیشن ارکان نے پولیس آرڈر 2002 بحالی بل کےخلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان میں نعرے لگائے اور بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے ارکان نے اسپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا اور اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نے دھرنا دے دیا جس کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے۔

حزب اختلاف کی غیر موجودگی میں سندھ حکومت نے بل کو منظور کرالیا۔ پولیس آرڈر 2002 بحالی بل اب توثیق کےلیےگورنر سندھ کوبھیجا جائےگا۔ مکیش کمار نے کہا کہ اپوزیشن سے مشاورت کے بعد بل پیش کیا اس کے باوجود وہ بائیکاٹ کرگئی یہ لوگ اصل میں بھاگنا چاہتے ہیں۔

شہریار مہر نے کہا کہ پولیس ایکٹ غیرقانونی اور غیرآئنی ہے، میں حکومت کو مبارک دیتا ہوں آج ایک آمر کا قانون بحال کیا ہے۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ یہ جمہوریت نہیں ہے ڈکٹیٹرشپ ہے، نیب زدہ اسپیکر کو شرم نہیں آتی، اسمبلی قواعد وضوابط کے خلاف چلائی جارہی ہے، اگر غیرت ہوتی تو اسپیکر کا عہدہ چھوڑ کر جاتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں