سید اویس کاظمی/نقطہ نظر

تربیت اولاداوروالدین کے فرائض

تعلیم اور تربیت میں فرق ہے. تعلیم کا معنی ہے آموزش، سکھانا یا کسی مطلب کو یاد کرانا. جب کہ تربیت کا مطلب ہے شخصیت کی تعمیر اور پرورش.بچے کی تربیت کوئی ایسی سادہ اور آسان بات نہیں ہے کہ جسے ہر ماں باپ آسانی سے انجام دے سکیں. بچے کی دنیا ایک اور ہی دنیا ہے اور اس کے افکار ایک اور ہی طرح کے افکار ہیں. اس کی سوچوں کا انداز مختلف ہے. جس کا بڑوں کے طرز فکر سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا.

بچے کی روح نہایت ظریف اور حساس ہوتی ہے اور ہر نقش سے خالی ہوتی ہے اور ہر طرح کی تربیت قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتی ہے. بچہ ایک چھوٹا سا انسان ہوتا ہے جس نے ابھی مستقل شکل اختیار نہیں کی ہوتی. جب کہ ہر طرح کی شکل قبول کرنے کی اس میں صلاحیت ہوتی ہے.

بچے کے مربی کو انسان شناس اور بالخصوص بچوں کا شناسا ہونا چاہیے. تربیت کے اسرار اور رموز پر اس کی نظر ہونی چاہیے. انسانی کمالات اور نقائص پر اس کی نگاہ ہونی چاہئے. اسے صابر اور حوصلہ مند ہونا چاہیے.

بہت سے ماں باپ ایسے ہیں جو تربیت کے لئیے وعظ و نصیحت اور زبانی امر و نہی کافی سمجھتے ہیں. وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بچے کو امر و نہی کر رہے ہوتے ہیں. اسے زبانی سمجھا بجھا رہے ہوتے ہیں. تو گویا وہ تربیت میں مشغول ہیں اور باقی امور حیات میں وہ تربیت سے دست بردار ہو جاتے ہیں.

یہی وجہ ہے کہ ایسے ماں باپ ننھے بچے کو تربیت کے قابل نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ابھی بچہ ہے کچھ نہیں سمجھ سکے گا. جب بچہ رشد و تمیز کی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ تربیت کا آغاز کرتے ہیں. جبکہ یہ نظریہ بالکل غلط ہے. بچہ اپنی پیدائش کے روز ہی سے تربیت کے قابل ہوتا ہے. وہ لحظ لحظ تربیت پاتا ہے اور ایک خاص مزاج میں ڈھلتا چلا جاتا ہے. ماں باپ متوجہ ہوں یا نہ ہوں بچہ تربیت کے لئے اس امر کا انتظار نہیں کرتا کہ ماں باپ اسے کسی کام کا حکم دیں گے یا کسی کام سے روکیں گے. وہ ان کی باتوں پر عمل کرے گا. پانچ چھ سالہ بچہ تعمیر شدہ ہوتا ہے اور جو ایک خاص صورت اختیار کر چکا ہوتا ہے. اور جو کچھ اسے بننا ہوتا ہے وہ بن چکا ہوتا ہے. اچھائی یا برائی کا عادی ہو چکا ہوتا ہے.

لہٰذا بعد کی تربیت بہت مشکل اور کم اثر ہوتی ہے بچہ تو بالکل مقلد ہوتا ہے. وہ اپنے ماں باپ اور ادھر ادھر رہنے والے دیگر لوگوں کے اعمال، رفتار، اور اخلاق کو دیکھتا ہے اور اس کی تقلید کرتا ہے. وہ ماں باپ کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے اور انہیں کے طرز حیات اور کاموں کو اچھائی اور برائی کا معیار قرار دیتا ہے اور پھر اسی کے مطابق عمل کرتا ہے. بچے کا وجود کسی سانچے میں نہیں ڈھلا ہوتا وہ ماں باپ کو ایک نمونہ سمجھ کر ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا ہے. ذمہ دار اور آگاہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ ابتدا میں ہی اپنی اصلاح کریں. اگر ان کے اعمال، کردار اور اخلاق عیب دار ہیں تو ان کی اصلاح کریں. اچھی صفات اپنائیں. نیک اخلاق اختیار کریں. اپنے آپ کو ایک اچھے اور کامل انسان کی صورت میں ڈھالیں.

مرد اور عورت کو چاہیے کہ ماں باپ بننے سے پہلے بچے کی تعلیم و تربیت کے طریقے سے آگاہی حاصل کریں.ماں باپ کو پہلے سوچنا چاہیے کہ وہ کس طرح کا بچہ معاشرے کے سپرد کرنا چاہتے ہیں اگر انہیں یہ پسند ہے کہ ان کا بچہ خوش اخلاق، مہربان، انسان دوست، خیرخواہ، دیندار، با ہدف، شریف، آگاہ، حریت پسند، شجاع، مفید، فعال اور فرض شناس ہو تو خود انہیں بھی ایسا ہونا چاہیے تاکہ وہ بچے کے لیے نمونہ عمل قرار پائیں.

آج ماں باپ جس انداز سے بچے کی تربیت کریں گے کل کو بچہ ویسا ہی بنے گا.
بچوں کی اس انداز سے تربیت کی جائے کہ مستقبل میں وہ ایک مکمل کامل اور فرض شناس انسان بن کر زندگی گزارئیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں