صحافی کو سچ لکھنے کی کیا سزا ملتی ہے؟

رپورٹ: عاصم صدیق رحیم یارخان

ایک صحافی کو سچ لکھنے کی سزا کیا ملتی ہے؟ سچ بولنے والا نقصان کیوں اٹھاتا ہے؟ اس کی ہی زندگی کو کیوں خطرہ ہوتاہے؟ یہ وہ سوال تھے جو آزادی صحافت کے حوالے سے میرے ذہن میں ابھرے۔ ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی تو پاکستان پریس فائونڈیشن کی جمع کردہ صحافت کی تلخ تاریخ سے ایک کردار بہاولپور کے صحافی احمد نواز عباسی سامنے آیا۔ احمد نواز عباسی کا میرے ہی ڈویژن بہاولپور سے تعلق ہونے پر مجھے ذاتی طورپر اس سے دلچسپی ہوئی کہ آیا احمد نواز عباسی کا قصور کیا تھا کہ اس کا بھی ان افراد میں شمار ہوا جو ہمیشہ سچ لکھنے یا بولنے کی سزا پاتے ہیں۔ ویسے تو دھمکیاں،مارپیٹ کا نشانہ بننا اور قتل جیسے سنگین واردات کا ہمیشہ صحافی اپنے سچ کی بناء پر نشانہ بنتے رہتے ہیں۔ احمد نواز عباسی کی کہانی کاسرا تلاش کرنے کے لیے بہاولپور کے صحراء کی ریت چھاننے کی ضرورت تھی۔

احمد نواز عباسی جو ایک قومی اخبار سے وابستہ تھا کہ 4مئی 2001کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس کا پر الزام یا قصورصرف اتنا تھا کہ اس نے چولستان کے بیابان علاقے میں ایک شخص کی مرنے کی خبر اور تصویر شائع کی تھی اور انٹرنیشنل میڈیا کو دینے کا الزام تھا۔ احمد نواز عباسی دو بچیوں کا باپ تھا جب اسے گرفتار کیاگیا۔ یہاں سے احمد نواز عباسی کی زندگی کامشکل سفر شروع ہوگیا۔۔ احمد نواز کے چھوٹے بھائی اللہ وسایا عباسی سے رابطہ کیا تو اس کے لہجے میں آج سے 18سال قبل ہونے والی تلخی اب بھی لہجے میں اب بھی ہے۔

اللہ وسایا عباسی نے بتایا کہ بھائی کی رہائی کے لیے صرف ایک مقامی صحافی تیمور نے ساتھ دیا باقی صرف بھائیوں کی بھاگ دوڑ تھی،، کسی صحافتی تنظیم، ادارے، سیاسی جماعت نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ صرف بھائی اور احمد نواز کا ایک ہی صحافی ساتھی ان کے ساتھ اس پریشان مرحلے میں ساتھ تھے۔18 دن بعد احمد نواز عباسی کو جیل سے رہائی ملی اورپھر اس کا صحافت کے ساتھ چند ماہ ہی رہا۔ خوف نے اس کو ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ دوسال عبد جنوبی افریقہ چلاگیا، بیوی بچے بلوالیے اور سب کچھ وہاں ہے۔ ماضی کی تلخ حقیقت اس کے لیے آج بھی اتنی ہی تکلیف دے جتنی آج سے 18 سال قبل تھی۔ بہاولپور کے صحافتی ایوانوں میں آج بھی اس تلخ حقیقت کی بازگشت موجود ہے۔

سابق صدربہاولپور پریس کلب شاہد بلوچ کا کہنا تھا کہ صحافت میں مشکلات ہی مشکلات ہیں۔ صحافیوں کہ نہ ہی سیکورٹی ہے اور نہ شناخت ہے۔ صحافی کسی طاقت ور کے خلاف لکھ دے تو اس کے ساتھ جو بیتی ہے کوئی بھی اس کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہوتا۔ صحافیوں کی نہ سیکورٹی ہے اور نہ ہی انشورنس، اپنے بچوں کو پالنا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج حقائق پر مبنی خبروں کی اشاعت میں بہت زیادہ کمی ہوچکی ہے اور خوشامدانہ خبروں کا راج ہے۔ شاہد بلوچ کا کہنا تھا کہ پریس کلب وہ واحد فورم ہے جو صحافیوں کے تحفظ کے لیے مئوثر اقدمات کرسکتا ہے، بحیثیت صدر ان کے دور میں بہاولپور پہلا پریس کلب ہے جس نے صحافیوں کے انشورنس کرائی۔ ان کے دور میں صحافیوں پر ہونے والے تشدد یا دھمکیوں پر سب کو اکٹھا کرکے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ انتظامیہ میں ان کو انصاف بھی دلوایا گیا۔

صدربہاولپور پریس کلب نصیر احمد ناصرنے بھی صحافیوں کے لیے تحفظ کے آئین سازی کی آواز بلند کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سچ چھپانے کے لیے سچ بیان کرنے والے کے لیے تحفظ کی ضرور ت ہے۔ صحافیوں کے تحفظ کے لیے پریس کلب کے اجلاس میں قرارداد بھی منظور کرائی گئی ہے۔ مختلف فورمز پر ہونے والی تقریبات اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے اجلاس میں بھی یہ آواز اٹھائی گئی ہے کہ صحافتی تنظیمیں صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اداروں کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی آواز کو بلند کیاگیا، صدر پریس کلب بہاولپور نے صحافیوں کے تحفظ کے ضمن میں پارلیمینٹرین کو بھی خطوط لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا تاکہ پارلیمنٹ کے فورم پر صحافیوں کے تحفظ کے لیے جامع پالیسی مرتب ہوسکے۔

بہاولپور کے سینئر صحافی محمود ظہیرنے بھی صحافتی ذمہ داریوں کے درپیش مسائل میں سب سے اہم نکتہ سیکورٹی کا اٹھایا ہے صحافی جب بھی کسی بھی جگہ انوسٹی گیشن رپورٹنگ کے لیے جاتا ہے تو سب سے پہلے اپنی جان ہی کا خطرہ ہوتا ہے۔ سر عام بکنے والی منشیات فروشی کی خبر بنانا ہی مشکل ہوجاتی ہے۔ پولیس کے منشیات فروشوں کے ساتھ تعلقات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ منشیات فروشوں کے خلاف خبر بنانے والا خود خبر بن جاتاہے۔ اس کی ذاتی مثال انہوں نے 2015میں ان کے ساتھ جنگلات میں لکڑ چوری کرنے والے مافیا کو بے نقاب کرنے کوشش میں ان پر فائرنگ کا واقعہ پیش آنا اور پھر 4 ماہ کی تگ و دو کے بعد مقدمہ درج ہونا اور آج تک فیصلہ نہ ہونا قانون شکنوں کی طاقت اور صحافی کی کمزوری کو ثابت کرتاہے۔

صحافیوں کی ذاتی چپلقش بھی آپس میں اتحاد پیدا نہیں ہونے دیتی یہی وجہ ہے جب کوئی صحافی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آجائے تو وہ صحافی خود کو اکیلا محسوس کرتاہے.کمشنر بہاولپور نیئر اقبال کا کہنا ہے کہ بہاولپور میں ان کی پوسٹنگ کید وران صحافیوں کے ساتھ ایک بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ مقامی انتظامیہ صحافیوں کے مسائل کو دور کرنے پر توجہ دیتی ہے۔ صحافتی ذمہ داریوں کے ادا کرنے پر صحافیوں کوانتظامیہ اور پولیس کی مدد بھی حاصل ہوتی ہے جن میں ان کی سیکورٹی اور دوران صحافت ان کی پروٹیکشن بھی ہے۔

صدر پی ایف یو جے برنا افضل بٹ کا صحافیوں کا تحفظ کے معاملے میں اقدامات نہ ہونے کو حکومتی ایوانوں اور سیاسی پارٹیوں کی غیر سنجیدگی قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان ان پانچ ممالک میں شامل ہے جو صحافیوں کے لیے خطرناک قرار دئیے جاچکے ہیں۔ مگر اس خطرناک حیثیت کا ادارک کسی بھی حکومت یا سیاسی پارٹی نے سنجیدگی سے نہیں کیا۔ آئی ایف ج اور پی ایف یو جے نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں سے گزارش کی وہ قتل ہونے والے صحافیوں کے لیے ٹربیونل کا اعلان کردیں مگر وعدوں کے باوجود دونوں حکومتوں نے عمل نہیں کیا۔ حکمرانوں کا اندازہ ہی نہیں کہ آزادی صحافت کے لیے کیا قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ مسلم لیگ ن کے دور میں جرنلسٹ پروٹیکیشن بل پیش کیا گیا مگر جو تاحال منظور نہ ہوسکا ہے۔ پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں سے مطالبیاور مظاہرے بھی کیے گئے مگر لگتا ہے کہ صحافیوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کوئی خفیہ ہاتھ نہیں ہونے دیتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں