اآئینہ /بیناز جان علی موریشس

مہاتما گاندھی سیکنڈری سکول فلاک میں روٹی کی نمائش

16مئی2019کو مہاتما گاندھی سیکنڈری سکول فلاک میں روٹی پر ایک نمائش کا انعقاد ہوا جس کا مقصد اسکول کے بچوں کو روٹی کی تاریخ، روزمرہ زندگی میں اس کا استعمال اور اس کے بنانے کے مختلف طریقوں سے روشناس کرانا تھا۔ کبھی کبھی دنیا کی معمولی چیزوں پر نظر نہیں جاتی حالانکہ ان کے بغیر ہمارا مشکل سے گذارا ہوپائے گا۔ ان چیزوں میں سے ایک یقینا روٹی ہے۔ عوامی شاعر نظیرؔ اکبر آبادی نے کیا خوب فرمایا ہے:
جب آدمی کے پیٹ میں آتی ہیں روٹیاں پھولی نہیں بدن میں سماتی ہیں روٹیاں
آنکھیں پری رخوں سے لڑاتی ہیں روٹیاں سینے اپر بھی ہاتھ چلاتی ہیں روٹیاں
جتنے مزے ہیں، سب یہ دکھاتی ہیں روٹیاں

روٹی کھانے سے جسم میں طاقت پیدا ہوتی ہے جس سے انسان اپنے تمام کام سرانجام دے پاتا ہے۔ روٹی کو بنانے کے لئے الگ الگ ملکوں میں ہانڈی، چولہا، توا اور تنور استعمال ہوتے ہیں۔ جتنی خوشی آدمی کو روٹی کھانے سے ملتی ہے اتنی خوشی کہیں اور نہیں ملتی۔ روٹی پانے کے لئے انسان یہاں وہاں مارا پھرتا ہے۔ چکی اور چولھے سے ہی گھر میں رونق آتی ہے اور انسان کے دن کی شروعات روٹی سے ہی ہوتی ہے۔ آٹے سے قسم قسم کی روٹیاں بنتی ہیں۔ روٹی چاہے پتلی ہو، موٹی ہو، سب کو خوش کرتی ہے۔ روٹیاں ہی پیٹ کی آگ کو بجھاتی ہے۔ اسی کے لئے بندہ خدا سے دعائیں کرتا ہے۔ خالی پیٹ سے خدا کی عبادت بھی نہ ہو۔ روٹی مذہب و ملت کی تفریق کو پھلانگتا ہوا بنیادی انسانی ضرورت کو پورا کرتا ہو۔ روٹی، نان یا ڈبل روٹی، امیر اور غریب دونوں کے دسترخوان کی زینت بنتی ہے۔

ہزاروں سال سے روٹی انسان کی خوراک کا حصّہ رہا ہے۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسی کو پسند کیا جاتا ہے۔ اس کے ذائقے اور افادیت کی وجہ سے یہ بے حد مقبول ہے۔ اس کو ساتھ میں لے جانے میں آسانی ہوتی ہے۔ روٹی قدیم ترین کھانوں میں شامل ہے۔ قریباً تین ہزار سال پہلے یورپ میں روٹی کا استعمال ہوتا تھا۔ پرانے زمانے میں گیہوں اور گندم کو پتھروں پر پیس کر اس گندھے ہوئے آٹے کو پتھر پر پھیلا کر بھٹی میں پکایا جاتا ہے۔ قریباً دس ہزار سال پہلے انسان نے کھیتی باری شروع کی۔ تب سے گندم، چاول، جو، جوار یا جئی کے دانوں کو پیس کر آٹا بنایا جاتا ہے۔ قدیم مصرمیں روٹی کے قریباً چالیس قسمیں پائی جاتی تھیں۔ عیسیٰ ؑ کی پیدائش کے آٹھ ہزار سال قبل اہلِ مصر گیہوں کے دانے کو پیس کر پانی، نمک اور گھی سے ملاتے تھے۔ الگ الگ ملکوں میں اس کو الگ الگ نام دئے گئے ہیں۔ ہندوستان میں نان، چپاتی، اٹلی میں فوکاشیا، اسرائیل میں نان پیتا اور فرانس میں باگیٹ۔

موریشس میں بھی روٹی ہماری تہذیب کا حصّہ ہے اور ہم اسے روز کھاتے ہیں۔ صبح اسی سے ناشتہ کیا جاتا ہے، اسکول میں وقفے کے دوران بچے اسی سے شکم سیر ہوتے ہیں۔ فرانسسی کھان پان سے متاثر باگیٹ رات کے کھانے میں پسند کیا جاتا ہے۔ ہوٹلوں اور طعام خانوں میں سب سے پہلے روٹی کو مکھن کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ موریشس میں روٹی کی مختلف شکلیں ہیں: گول، لمبا پتلا، ٹوسٹ، سفید رنگ کی اور پھورے دنگ کی بھی۔ ٹوسٹ کے طور پربھی اسے بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ گذشتہ زمانے میں روٹی فروش گھر گھر روٹی چھوڑنے آتا تھا۔ روٹی بیماری کی حالت میں بھی بھلی معلوم ہوتی ہے اور اس سے صحت و تندرستی بحال رہتی ہے۔ یہ ہر طرح کی سبزی، سالن، قورمہ، دال اور ترکاری کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔ اس میں توانائی، لحمیات، حیاتین، لوہا اور دیگر غذائی قدریں موجود ہیں۔

ہمارے آباؤاجداد لیٹی بنایا کرتے تھے جس سے کھیتوں میں دن بھرکی محنت و مشقت کے لئے گرمٹیا مزدور کو طاقت ملتی تھی۔ لیٹی کو کئی دنوں کے لئے رکھا جاتا ہے۔ یہ چٹپٹا اور ذائقہ دار ہوتا ہے۔مہاتما گاندھی سیکنڈری اسکول فلاک کے طلبا ء نے دیدہ زیب پوسٹروں کے ذریعے روٹی کے بنانے کے طریقے دکھائے۔ رنگین تصویروں اور تحریروں کی مدد سے انہوں نے اپنی ہنرمندی کا مظاہرہ کیا۔ ان دیدہ زیب تصاویرنے اسکول کے بچوں کو ان کے معمول پر دعوتِ فکر دی۔ اس موقعے پر فوڈ سائنس کے طلباء نے قسم قسم کے خوشبودارروٹیاں اور آٹے سے مٹھائیاں اور پیسٹری بنائیں اورپوسٹ دے فلاک کے دیوا جی۔ ریکی لیمیٹڈ نے سنہرے، خستہ اور بھورے رنگ کی گول اور لمبی پتلی بیگیٹ روٹیاں بھی فراہم کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں