نان ریزیڈنٹ پاکستانی ٹیکس فائلر بنے بغیر فارن کرنسی اکاونٹ اوپن کراسکتے ہیں،سٹیٹ بینک

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)سٹیٹ بینک آف پاکستان کے غلط سرکلر نے ملک و قوم کو سمندر پار پاکستانیز کے اربوں روپے کے زرمبادلہ سے محروم کر دیا،وفاقی ٹیکس محتسب نے سٹیٹ بنک کا سرکلر منسوخ کرتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ نان ریزیڈنٹ پاکستانی ٹیکس فائلر بنے بغیر فارن کرنسی اکاونٹ اوپن کراسکتے ہیں…

تفصیلات کے مطابق سٹیٹ بینک کی طرف سے گذشتہ سال اپریل 2018 میں ایک سرکلر جاری کیا گیا جس میں قانون کی غلط تشریح کرتے ہوئے بنکوں کو ہدایت کی تھی کہ نان ریزیڈنس پاکستانیوں کا فارن کرنسی اکاونٹ اوپن اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک یہ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں فائلر نہ ہوں حالانہ نہ صرف سٹیٹ بینک بلکہ انکم ٹیکس کے قانون میں اس حوالہ سے کچھ موجود نہیں ،سٹیٹ بینک کے سرکلر کے بعد بنکوں نے نان ریزیڈنس کے فارن کرنسی اکاونٹ اوپن کرنے سے معذرت کر لی تھی..

فارن کرنسی اکاونٹ اوپن نہ ہونے کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے وطن عزیز میں اپنے پیاروں کو اربوں روپے کے زرمبادلہ کے زخائر نہ بھیج سکے اور ان کے مسائل میں اضافہ ہوگیا، اوورسیز پاکستانیز نے سٹیٹ بینک کے سرکلر کے خلاف وفاقی ٹیکس محتسب کو درخواست دی تھی کہ بینک نان ریزیڈنٹ پاکستانیوں کے فارن کرنسی اکاوئنٹ اوپن نہیں کر رہے جس پر ایف ٹی او نے سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا ایف ٹی او نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے تاریخی فیصلہ دیا کہ نان ریزیڈنٹ پاکستانی ٹیکس ریٹرن فائل کیے بغیر فارن کرنسی اکاونٹ اوپن کرواسکتے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق وفاقی ٹیکس محتسب کے آرڈر کے مطابق اسٹیٹ بنک کی خود ساختہ قانون کی تشریح کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو فارن کرنسی اکاونٹ اوپن کروانے کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ سٹیٹ بینک نے بنکوں کو ہدایت کی تھی کہ جب تک کوئی شخص ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتا اس وقت تک فارن کرنسی اکاونٹ نہ اوپن کیا جائے ،

سٹیٹ بنک کی تشریح قانون انکم ٹیکس آرڈیننس کے بھی خلاف تھی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کا سیکش 14 کے مطابق نان ریزیڈنس پاکستانی اپنی غیر ملکی انکم کے حوالے سے ریٹرن فائل کرنے کے پابند نہیں ہیں

وفاقی ٹیکس محتسب نے سیکرٹری ریونیو ڈویژن سے بھی اس حوالے سے استفسار کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ نان ریزیڈنس کے لیے فائلر ہونا لازمی نہیں ۔ بینک حکام کا کوئی اندرونی انتظامی معاملہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے اپریل 2018میں آرڈر جاری کیا گیا۔

مزید براں دستایزات کے مطابق سٹیٹ بینک کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے 19اپریل 2019 کو ایف ٹی او کے خط کے جواب میں اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے تمام بینکوں کو مراسلہ جاری کیا کہ سٹیٹ بنک کے علم میں بات آئی کہ بنک نان ریزیڈنس پاکستانیوں کا فارن کرنسی اکاونٹ اس بات پر اوپن نہیں کرتے کیونکہ ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں یہ فائلر نہیں ہوتے ،سٹیٹ بنک کا کہنا تھا کہ قانون کا اطلاق نان ریزیڈنس پاکستانیوں پر نہیں ہوتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں