ہواوے پر پابندی کے بعد چینی عوام نے امریکہ کو منہ توڑجواب دیدیا

اسلام آباد(نیوزڈیسک)اقوام عالم کی دو بڑی طاقتوں، چین اور امریکہ کی اقتصادی جنگ میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے اور اس کے اثرات دنیا کے دیگر ممالک کو بھی محسوس کئے جا رہے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے چین کی ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی ہواوے پر پابندی کے بعد چین کے باسیوں نے امریکی کمپنی ایپل کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

ٹوئٹر کی طرز پر چین کی سماجی رابطے کی مقامی ویب سائٹ پر صارفین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہواوے پر پابندی کے مسودے پر دستخط کرنے کے حوالے سے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں تمام امریکی ٹیلی کام کمپنیوں پر اجازت کے بغیر غیر ملکی ساز و سامان خریدنے اور نصب کرنے پر پابندی عائد کی ہے، ایک علیحدہ حکم نامے میں چین کی ٹیلی کام کمپنی پر امریکی مصنوعات کی خرید پر بھی پابندی لگائی گئی ہے۔

چین کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک صارف نے کہا ہے کہ ہواوے کے موبائل فونز ایپل سے قدرے بہتر ہیں تو پھر ہم لوگ کیوں ایپل کے فونز استعمال کریں؟

ایک سروے کے مطابق چینی صارفین کے بائیکاٹ کے بعد سے ایپل کی فروخت میں ۲۰ فیصد کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ہواوے کی سیل میں ۲۵ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ایک تجزیہ کار کے مطابق ایپل کو اس بحران سے نمٹنے کے لئے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 12 فیصد اضافہ کرنا پڑے گا۔

یاد رہے گزشتہ روز گوگل نے چینی کمپنی ہواوے کے ساتھ کاروبار معطل کر دیا تھا۔ گوگل کی جانب سے ہارڈ ویئر، سافٹ ویئر اور کچھ ٹیکنیکل خدمات کو معطل کیا گیا ہے۔

گوگل ترجمان کے مطابق موجودہ ہواوے اسمارٹ فونز استعمال کرنے والے صارفین کے پاس گوگل کے ذریعے ایپلیکشنز ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت موجود رہے گی جبکہ ہم ہواوے کے ساتھ کاروبار معطل کرنے کے احکامات اور اس کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔

گوگل کی جانب سے ہواوے پر پابندی کے بعد ہواوے کے صارفین گوگل پلے اسٹور استعمال نہیں کر سکیں گے بلکہ جی میل اور یوٹیوب ایپس کیکے استعمال پر بھی پابندی ہو گی۔

امکان ہے کہ رواں سال گوگل کے اگلے ورژن کے لانچ ہوتے ہی یہ ایپس ہواوے کی ڈیوائسز پر دستیاب نہیں ہوسکیں گی تاہم ہواوے اینڈرائڈ اوپریٹنگ سسٹم اوپن سورس لائسنس کے ذریعے اس نئے ورژن کو استعمال کر سکے گا۔ہواوے کے صارفین اب صرف اینڈرائیڈ کا پبلک ورژن ہی استعمال کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ ہواوے پر یہ پابندی کمپنی کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں ہے کیونکہ اس سے ہواوے کی فروخت شدید متاثر ہو گی جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فونز خریدنے والوں کو خیال رکھنا ہو گا کہ اب وہ کونسا اسمارٹ فون خریدیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں