پاکستان کی وہ وادی جہاں مرُدوں کو کھلے آسمان تلے چھوڑ دیا جاتا تھا

ہزاروں سال پرانی ثقافت کی حامل وادی کیلاش میں 90ء کی دہائی تک مُردوں کو ان کے روزمرہ کی زیر استعمال اشیاء کے ساتھ تابوت میں ڈال کر قبرستان میں چھوڑ دیا جاتا مگر قبرستان کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث یہ رسم ماند پڑ گئی اور مردوں کو دفنایا جانے لگا۔

کیلاش کے قبرستان سمیت دیگر تاریخی مقامات کی بحالی، علاقے کی خوبصورتی اور تاریخ کومحفوظ بنانےکے لئے صوبائی حکومت نے سات کروڑروپے مختص کیے ہیں۔

وادی کیلاش بیوٹیفیکیشن پروجیکٹ کے تحت پہلے مرحلے میں 145 پرانے گھروں کی تزہین و آرائش کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں