سید تاج علی نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پرتنقید کے نشتر برسادئیے

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)نائب صدرپی وائی او یواے ای سید تاج علی نے کہا کہ بلاول بھٹو کی نیب پیشی کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پارٹی کارکنان اور رہنماوں کو روکنے کے احکامات جاری کرنا حکومتی بوکھلاہٹ کی نشانی ہے، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئین و قانون کا احترام کیا اسی لیے پارٹی لیڈرشپ آج بھی اس متنازعہ نیب کے سامنے پیش ہو رہی ہے جبکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ پارٹی قیادت کے خلاف جعلی اور جھوٹے مقدمات بغض اور عناد کا تسلسل ہیں.نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتے.ملک کوانارکی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے.

حکومت غربت نہیں غریب کو ختم کررہی ہے، ایمنسٹی کو کالا دھن سفید کرنے والی اسکیمیں کہنے والے بتائیں اب کس کا کالا دھن سفید کرنے کیلئے اسکیم لائی جارہی ہے، نااہل لوگوں سے ملک نہیں سنبھل رہا، ملک کے مزدور روٹی کیلئے ترس رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا تھا قرض نہیں لیں گے، آج وزیراعظم بھیک مانگنے جاتے ہیں، کہا تھا خودکشی کرلیں گے آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے، آئی ایم ایف جانے سے پہلے ہی ان کی شرائط مان لی گئیں، بجلی مہنگی کردی گئی، ڈالر بھی مہنگا ہوگیا۔

سید تاج علی نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں اور گھر دینے کا وعدہ کرنیوالوں کے دور میں نوجوان بے روزگاری کا رونا رو رہے ہیں، تجاوزات کے نام پرغریب سے چھت چھینی گئی، انہوں نے ایمنسٹی اسکیم کو ٹیکس دینے والوں کے منہ پر طمانچہ قرار دیا تھا، کہا تھا حکومت کالا دھن سفید کرنے کیلئے یہ اسکیم لاتی ہے، خان صاحب بتاؤ اب اسکیم کے تحت کس کا کالا دھن سفید کرنا چاہتے ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں