دھونس،دھمکیاں اور تشدد، آزادکشمیر کے میڈیا ورکرزعدم تحفظ کا شکار

رپورٹ :خواجہ کاشف میر
اسلام آباد :سٹیٹ ویوز
پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کی طرح آزادکشمیر میں بھی میڈیا ورکرز کو فیلڈ میں کام کے دوران مختلف گروہوں، پارٹیوں اور اداروں کی طرف سے تشدد کا سامنا اور دھمکیاں ملنا معمول کا حصہ بن چکا ہے،سینٹرل یونین آف جرنلسٹس کے مطابق آزادکشمیر کے 10 اضلاع میں 7 سو میڈیا ورکرزکام کرتے ہیں ،جن میں سب سے زیادہ تعداد میں میرپور اور مظفرآباد میں میڈیا ورکرز کام کرتے ہیں۔آزادکشمیر میں سرکاری سطح پر صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے قائم ادارے پریس فاونڈیشن کے مطابق ہر سال 15 سے 20 ایسے کیس ان کے سامنے آتے ہیں جن میں صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں یا ان پر جسمانی تشدد یا ان کے دفاتر پر حملے کیے جاتے ہیں ، ان واقعات کا ریکارڈ تو پریس فاونڈیشن سمیت کسی بھی دیگر ادارے کے پاس موجود نہیں تاہم ایسے واقعات کی تصدیق صحافتی تنظیمیں سنٹرل یونین آف جرنلسٹس آزادکشمیر، اور یونین آف جرنلسٹس بھی کر رہی ہیں۔ دوسری جانب آزادکشمیر میں صحافیوں کے تحفظ، معلومات تک رسائی کے حوالے سے قانون سازی پر کبھی بھی حکمرانوں اور میڈیا تنظیموں نے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جبکہ محکمہ اطلاعات، پریس فاونڈیشن، صحافتی یونیز اور پریس کلبز کے پاس صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں، تشدد کے واقعات ، ایف آئی آر کے اندراج کا ڈیٹا تک موجود ہی نہیں ہے۔

سردار نعیم چغتائی کا تعلق آزادکشمیر کے شہر کوٹلی سے ہے ، یہ گزشتہ 10 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، ابتدائی 4 سال کوٹلی میں ہی اخبارات کے ساتھ بطور رپورٹر کام کرتے رہے پھر سال 2013 کے ماہ مئی میں کیریئر بنانے کیلئے آزادکشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کا رخ کیاجہاں علاقائی اخبار روزنامہ خبر نامہ کے ساتھ بطور چیف رپورٹر منسلک ہو گئے، سال 2014 کے اوائل میں راولپنڈی سے شائع ہونے والے روزنامہ کشمیر ایکسپریس کے ساتھ بطور بیوروچیف منسلک ہو گئے۔

سردار نعیم چغتائی نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ سال 2014 کے ابتدائی عرصے میں ہی مظفرآباد شہر کے علاقے سنٹرل پلیٹ میں زبیر شاہ نامی ایک شخص کو قتل کردیا گیا تو پولیس نے اس پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، اس واقعہ کی معلومات لینے اور حقائق جاننے کیلئے ہم تین صحافی پریس کلب سے سنٹرل پلیٹ کے علاقے میں پہنچے جہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی، میرے ساتھ نصیر چوہدری اور احتشام مغل رپورٹنگ کیلئے گئے تھے،اس وقت موقع پر ایس ایس پی مظفرآباد عرفان مسعود کشفی ، ڈی ایس پی ظفراعوان و دیگر پولیس آفیسران اور ضلعی انتظامیہ کے ذمہ داران بھی موجود تھے.

انتظامیہ نے ہمیں ایک عمارت کی چھت سے اپنے ساتھ لیا اور ان گھروں تک لے گئے جہاں مجرموں کے چھپ جانے کی اطلاعات تھیں، کچھ ہی دیر کے بعد ایک گھر میں موجود مسلحہ افراد نے پولیس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی تو ڈی ایس پی ظفراعوان کا گارڈ ان گولیوں کی زد میں آ کر موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا، پولیس نے اشتعال میں آکر توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراؤ شروع کردیا ۔ ہمارے سامنے پولیس کے اے ایس آئی واجد علوی نے کالا باوہ نامی شخص کی گاڑی پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی ۔ گاڑی جلانے کی فوٹیج میں نے موبائل میں ریکارڈ کر لی تو اے ایس ٓئی کو فوری طور پر اس ریکارڈنگ کا علم ہوگیا، واجد علوی اور اس کے دیگر پولیس اہلکاروں نے ہم پر تشدد شروع کردیا ، میرے ساتھ رپورٹنگ کیلئے جانے والے دیگر دو ساتھیوں چوہدری نصیر اور احتشام مغل پر قدرے کم تشدد ہوا لیکن پولیس نے مجھ سے موبائل بھی چھین لیا اور تشدد کی بھی انتہا کر دی۔

نعیم چغتائی کے مطابق وہ جب سنٹرل پریس کلب پہنچے تو دیگر صحافیوں اور کلب انتظامیہ نے ہمارا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ،جبکہ پولیس کے ایس ایس پی کی موجودگی میں مجھ پر تشدد کیا گیا تھا اس لیے میں نے تھانے میں رپورٹ درج کرانا ایک غیر ضروری کام سمجھا، سنٹرل پریس کلب کے صدر اس وقت سہیل مغل تھے جنہوں نے اپنے تئیں ہی پولیس سے معاملہ نمٹا لیا جبکہ مجھے اعتماد میں نہیں لیا گیا، ہمارے درمیان نہ مذاکرات ہوئے نہ ہی کوئی صلح یا پولیس کی طرف سے معافی نامہ بھی نہ دیا گیا، میں چونکہ مظفرآباد میں نیا نیا صحافی تھا اس لیے پریس کلب کی طرح صحافیوں کی یونینز نے بھی میرا ساتھ نہ دیا اور معاملہ دبا لیا گیا۔ نعیم چغتائی نے بتایا کہ اس وقت ڈپٹی کمشنر سہیل اعظم تھے ان کو واقعے کا پورا علم تھا لیکن انہوں نے بھی میرا ساتھ نہ دیا، اس صورتحال میں، میں نے خاموشی میں ہی بہتری سمجھی ، لیکن آج مجھے افسوس ہوتا ہے کہ کاش میں اپنے حق کیلئے لڑا ہوتا تو مجھے انصاف مل جاتا ، تاکہ اس کے بعد پولیس اہلکارو ں کو ہمت نہ ہوتی کے دوران ڈیوٹی صحافیوں پر تشدد کریں۔

سنٹرل پریس کلب مظفرآباد کے سال 2014 میں صدر کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے والے سہیل مغل نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نعیم چغتائی اور دیگر دو صحافی ہمارے پاس آئے اور بتایا کہ پولیس نے ہم پر تشدد کیا تو ہم نے انتظامیہ کے سامنے احتجاج کیا تو انتظامیہ نے ایک کمیٹی بنا دی۔ کمیٹی نے تحقیق کے بعد فریقین کے درمیان صلح کرا دی اور ایک صحافی کو موبائل بھی واپس لیکر دیا۔سہیل مغل کا کہنا ہے کہ بطور صدر پریس کلب میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ انتظامی اداروں ، سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے درمیان تعلقات بہتر رکھوں لیکن جب بھی میڈیا کمیونٹی کے حوالے سے آواز اٹھانے کی بات آئے تو کمیونٹی کا بھرپور ساتھ دیا اور دیتے رہیں گے۔ سہیل مغل نے کہا کہ تشدد کے واقعات یا دھمکیوں کے حوالے سے ہمارے ورکرز کی بھی بعض اوقات غلطی ہوتی ہے جس کو ہمیں سدھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ہٹیاں بالا کے ایم ڈی مغل بول ٹی وی کے مظفرآباد سے کیمرہ مین ہیں اور گزشتہ 15 سال سے شعبہ صحافت سے منسلک اور مختلف ٹی وی چیلنز کے ساتھ کام کر چکے ہیں ، 22 جون 2016 کو مظفرآباد میڈیکل کالج میں طلبہ و طالبات کے ایک احتجاجی دھرنے میں ضلعی انتظامیہ نے پولیس کے ذریعے دھرنا کرنے والوں کو منتشر کیا تو پولیس نے وہاں موجود صحافیوں پر بھی لاٹھی چارج کر دیا ، پولیس کے تشدد سے زخمی ہونے والوں میں ایم ڈی مغل بھی شامل تھے۔ایم ڈی مغل پر تشدد کے بعد پریس کلب کی انتظامیہ اور صحافیوں نے احتجاج کیا تب ضلعی انتظامیہ پریس کلب آئی اور مذکورہ صحافی کے ساتھ صلح کر لی۔

ثاقب علی حیدری مظفرآباد میں کام کرنے والے نوجوان صحافی ہیں ، رواں سال ثاقب علی حیدری کو بھی مقامی افراد نے زدوکوب کیا۔ ثاقب نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ صحافتی ذمہ داریوں کے پیش نظر وہ عوامی آگاہی کیلئے ٹرانسپورٹ پالیسی کی خلاف ورزی کرنے، سرکاری گاڑیوں کے نا جائز استعمال کے خلاف میں نے سوشل میڈیا پر مہم چلا رکھی ہے۔

رواں سال 3 فروی کو سیاحتی مقام پیر چناسی سے واپس آتے ہوئے میں نے ایک سرکاری گاڑی کی تصویر لی اور شام کو پوسٹ کر دی اور پوچھا کہ یہ گاڑی چھٹی کے دن کس کی اجازت سے تفریحی مقام پر گئی تھی اور اس حوالے سے رولز کیا کہتے ہیں تو مظفرآباد کے سرکاری ملازم نے میرے خلاف سوشل میڈیا پر نا زیبہ الفاظ استعمال کرنے شروع کر دیئے، معلوم ہوا کہ سرکاری ملازم محسن کیانی ہی وہ گاڑی لیکر تفریح کرنے گیا تھا، 4 فروری کی شام ایک نمبر سے اس سرکاری ملازم کی کال آگئی جس نے مجھے دھمکیاں دینی شروع کر دیں میں نے دھمکیوں کا ذکر پریس کلب کے ساتھیوں سے کیا تو انہوں نے محسن کیانی کو پریس کلب بلا دیا، جب وہ پریس کلب آیا تو وہ نشے کی حالت میں محسوس ہورہا تھا، اس نے پھر سے نازیبہ الفاظ استعمال کیے اور چلا گیا۔ دوسرے دن اس نے میرے خلاف پریس کلب میں ایک درخواست بھی دے دی۔

یہ صورتحال دیکھتے ہوئے پریس کلب انتظامیہ نے ایس ایس پی اسلام آباد کو تحریری درخواست دی، پولیس نے تحقیق شروع کی ، پریس کلب انتظامیہ اور صحافی دوستوں کے تعاون سے ایک ہفتے بعد ایف آئی آر درج ہو گئی ، ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ملزمان نے پولیس سے استدعا کی کہ وہ صلح کرنا چاہتے ہیں، پولیس نے ہمارے درمیان مذاکرات کرائے تو محسین کیانی نے تحریری معذرت کر لی جس کے بعد ہمارے درمیان صلح ہو گئی اور کیس وہیں ختم ہو گیا۔

سردار ذولفقار علی

وائس چیئرمین پریس فاونڈیشن سردار ذوالفقارعلی نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آزادکشمیر میں حکومت نے کبھی بھی صحافیوں کے تحفظ یا ان کی معاشی حالت بہتر کرنے کی طرف توجہ نہیں دی،اس حوالے سے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نے کبھی ان مسائل کے حل کیلئے حکومت سے بات چیت کی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم وفود کی صورت میں بارہا حکومتوں سے ملتے رہے ہیں، موجودہ وزیر اطلاعات مشتاق منہاس خود ایک صحافی رہے ہیں لیکن انہوں نے بھی آزادکشمیر کے صحافیوں کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی کوشش نہیں کی، حکمرانوں سے بات چیت ہوتی رہتی ہے لیکن حکمران طبقہ اور بیوروکریسی ان امور پر توجہ دینے سے قاصر ہے۔

سردار ذوالفقار کے مطابق حکومتی سرپرستی میں پریس فاونڈیشن کا ادارہ قائم ہے جس کے رولز میں یہ شامل کیا گیا ہے کہ میڈیا ورکرز کی کم از کم آمدن ایک مزدور کے برابر ضرور ہونی چاہیے۔سردار ذوالفقار کے مطابق مظفرآباد، میرپور، کوٹلی، بھمبر، راولاکوٹ ، باغ سمیت تقریبا تمام ہی شہروں میں میڈیا ورکرز کو خطرات درپیش ہوتے ہیں ، آزادکشمیر میں بعض صحافیوں کو انکی رپورٹنگ کی وجہ سے قتل کے مقدمات میں بھی پھنسایا جاتا رہا ہے ، کچھ صحافیوں پر جھوٹے مقدمات قائم کر کے انہیں جیل تک بھیج دیا گیا۔

روزنامہ سیاست، روزنامہ دومیل، روزنامہ جموں کشمیر ٹائمز ، روزنامہ کشمیر ابزرور جو مظفرآباد سے چھپتے ہیں ان کے دفاتر پر گزشتہ چند سالوں کے دوران نا معلوم افراد حملے کر چکے ہیں،اسی طرح کچھ صحافیوں کے دفاتر پر بھی حملے کیے جاتے رہے ہیں لیکن پولیس کے پاس رپورٹ درج کرانے کے باوجود ملزمان کبھی نہیں سامنے آسکے۔ اس کیسز کے حوالے سے جب پریس فاونڈیشن کے پاس تحریری ریکارڈ موجود نہیں۔ ریکارڈ موجود نہ ہونے ہونے کے سوال پر سردار ذولفقار کا کہنا تھا کہ بد قسمتی سے ہم سمیت کسی نے بھی اس طرف توجہ نہ دی کہ ریکارڈ ہی جمع کر لیا جاتا لیکن اب ہم اپنے اگلے اجلاس میں ایسے واقعات کے ریکارڈ اور حکمت عملی بارے مشاورت کریں گے۔

سردار ذوالفقار جو مظفرآباد کے مقامی اخبار روزنامہ سیاست کے ایڈیٹر بھی ہیں نے مزید بتایا کہ پریس فاونڈیشن کے چیئرمین چونکہ ہائی کورٹ کے جج ہوتے ہیں اس لیے اب ہمارے لیے قدرے یہ آسان ہو گیا ہے کہ فاونڈیشن کے ممبر صحافیوں پر اگر کوئی جھوٹا مقدمہ قائم کرے تو اس کے ساتھ تعاون کر سکیں،وگرنہ آزادکشمیر میں کسی بھی حکومت نے میڈیا ہاوسز اور انکے ورکر کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔سردار ذولفقار کا مزید کہنا تھا کہ پریس فاونڈیشن چونکہ صحافیوں کا ایک فلاحی ادارہ ہے اس لیے ہم مشکلات کے وقت میڈیا ورکرز کی مالی اور قانونی مدد ہی کر سکتے ہیں۔

وائس چیئرمین پریس فاونڈیشن آزادکشمیر سردار ذوالفقار نے مزید بتایا کہ ہمارے میڈیا کے لوگ سیاسی جماعتوں، سیکیورٹی اداروں سے زیادہ اخباری و ٹی وی چینلز مالکان کے ذہنی تشدد کا شکار ہیں ، کیونکہ زیادہ تر ورکرز کو تنخواہیں اور دیگر سہولیات نہیں دی جاتیں ، میڈیا کے ان لوگوں کو میڈیا ہاوسز نے سیلز ایجنٹ، مارکیٹنگ ایگزیکٹو، نیوز ایجنٹ بنا رکھا ہے اس لیے ہمیں تلاش کر کے جرنلسٹ کو سامنے لانا پڑتا ہے۔

پریس فانڈیشن کے سیکرٹری بشارت کاظمی نے سٹیٹ ویوز کو بتایا ہے کہ آزادکشمیر پریس فاونڈیشن کا سالانہ بجٹ 30 لاکھ روپے ہے جس میں سے 14 لاکھ روپے رواں سال صحافیوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا گیا ہے۔ ممبر صحافیوں کی وفات پر ہم ان کے اہل خانہ کو 3 لاکھ روپے، شادی پر 20 ہزار روپے ، علاج اور تعلیم پر ان کے مطابق مدد کرتے ہیں۔ جن صحافیوں کی ہم مدد کرتے ہیں ان کا ریکارڈ ہم کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتے کیونکہ یہ ہمارے رولز میں شامل ہے انہوں نے بتایا کہ ہم نے کوشش کی ہے کہ اگلے مالی سال کیلئے 30 لاکھ روپے کے بجٹ کو بڑھا کر 60 لاکھ روپے کر دیا جائے۔

اس حوالے سے سٹیٹ ویوز نے آئی جی پولیس دفتر سے صحافیوں اور میڈیا ہاوسز پر حملوں بارے تفصیلات فراہم کرنے کا بارہا کہا لیکن آئی جی پولیس کے پی آر او کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات یا رجسٹرڈ کیسز کی مکمل تفصیل دستیاب نہیں ہے کیونکہ مختلف شہروں میں جب واقعات رجسٹرڈ ہوتے ہیں تو وہاں کے تھانے ان کیسز کو دیکھتے ہیں، ہمارا ریکارڈ مینول ہے اس لیے فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکتا کہ صحافیوں کے خلاف کتنے مقدمات درج ہوئے اور ان پر کیا پیش رفت ہوئی تاہم اگر کسی مخصوص کیس بارے تفصیلات چاہیے ہوں تو ہم مختصر وقت میں وہ معلومات دے سکتے ہیں۔

ارشد ثانی

راولپنڈی سے شائع ہونے والے روزنامہ کشمیر ٹائمز کے ایڈیٹر ارشد ثانی نے اس حوالے سے بتایا کہ آزادکشمیر میں ریاستی میڈیا مشکلات کا شکار رہا ہے۔ میڈیا کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت سال 2000 کے بعد اخبارات شروع کیے، حکومت نے اخبارات کے مالی استحکام کی طرف توجہ نہ دی اس لیے زیادہ تر اخبارات کو فیلڈ میں ایسے لوگ اپنے ساتھ منسلک کرنے پڑے جو خبروں کے ساتھ ساتھ اشتہارات بھی حاصل کر سکیں ، ارشد ثانی نے کہا کہ اخبارات مالکان اور منیجمنٹ کیلئے ایسا فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن جب ادارے خود بقا کی جنگ لڑ رہے ہوں تو ہم معیاری صحافت اور رپورٹرز کی طرف توجہ نہیں دے پاتے۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارا اخبار آزادکشمیر میں محکمہ اطلاعات کی میڈیا لسٹ میں شامل ہے لیکن اشتہارات کی مد میں ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے بھی مہینے کے نہیں ملتے جبکہ ہمارے سٹاف اور پرنٹنگ کے اخراجات ماہانہ کئی لاکھ ہیں دوسری طرف سوشل میڈیا کی وجہ سے پرائیویٹ اشتہارات کی تعداد بھی انتہائی کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اخبارات کیلئے مالی مشکلات زیادہ رہتی ہیں۔

سنٹرل پریس کلب مظفرآباد کے صدر طارق نقاش کے مطابق معاشرے میں عدم برداشت تیزی سے بڑھ رہی ہے، خاص کر سائبر کرائم بڑھ رہا ہے، پسند نا پسند کی بنیاد پر یا سیاسی وابستگی کو لیکر کارکنان تنقید کرنے والے صحافیوں کی کردار کشی پر اتر آتے ہیں، سوشل میڈیا نے جہاں آسانیاں پیدا کی ہیں وہ معاشرے کو بے لگام بھی کردیا ہے۔طارق نقاش نے بتایا کہ گزشتہ دنوں صحافی ثاقب حیدری کو سرکاری گاڑیوں کے غلط استعمال کے خلاف مہم چلانے پر بعض مقامی افراد نے زدوکو ب کرنے کی کوشش کی، پریس کلب کی طرف سے ایف آئی آر درج ہوئی لیکن بعد ازاں معاملہ صلح صفائی پر منتج ہوا.

طارق نقاش نے کہا کہ ایسے واقعات اب آئے روز ہونے لگے ہیں کہ کسی میڈیا ورکر پر تشدد کردیا گیا ، کسی اخبار کے دفتر پر نا معلوم افراد نے حملہ کر دیا ۔ہم پریس کلب کے پلیٹ فارم سے سول سوسائیٹی، حکومتی اداروں ، سیاسی و مذہبی تنظیموں سمیت ہر مکتبہ فکر سے رابطہ رکھے ہوئے ہوتے ہیں لیکن معلوم نہیں ہوتا کہ کس گروپ کو ہماری خبر سے پریشانی ہوگئی اور وہ اس کا تدارک کیسے کرنا چاہتا ہے اس لیے ہمیں الرٹ رہنا پڑتا ہے۔ طارق نقاش نے مزید بتایا کہ آزادکشمیر کے ایکٹ میں ترمیم کے بعد اب میڈیا سے متعلق قانون سازی کرنا اور پالیسی بنانا آزادکشمیر کے اختیار میں آگیا ہے لیکن حکومت اس حوالے سے کوئی کام نہیں کر سکی ہے۔ ہم اب حکومت پر دباو ڈالیں گے تاکہ صحافیوں کی سیفٹی کیلئے قانون سازی کی جا سکے جبکہ میڈیا کیلئے ویج بورڈ متعارف کرایا جا سکے۔ طارق نقاش نے کہا کہ میڈیا میں موجود خرابیوں کو تو ہم دور کر رہے ہیں لیکن ریاست کو طے کرنا پڑے گا کہ میڈیا کو کیسے چلانا ہے۔ طارق نقاش نے یقین دلایا کہ ہم پریس کلب کے وفد کی صورت میں وزیر اطلاعات سے جلد ملاقات کریں گے اور صحافیوں کی سیفٹی بارے قانون لانے کیلئے دباو ڈالین گے۔

محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر جنرل راجہ اظہر اقبال نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ورکرز کو سہولیات دینا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت کی ہمیشہ سے کوشش رہتی ہے کہ جب بھی کسی میڈیا ورکر کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آتا ہےتو فوری طور پر اس کو انصاف دلایا جائے۔ راجہ اظہر کا کہنا ہے کہ آزادکشمیر بھر سے کسی بھی میڈیا ورکر کو اگر تشدد کا سامنا ہو یا دھمکیاں مل رہی ہوں تو محکمہ اطلاعات فوری طور پر ایکشن میں آ جاتا ہے، ہم انتظامی اور سیکیورٹی کے اداروں سے رابطہ کرتے ہیں اور میڈیا ورکرز کو انصاف دلانے میں تعاون کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ جن صحافیوں کے ساتھ واقعات پیش آئے اور محکمہ اطلاعات نے انکی مدد کی تو کیا ان کی مکمل تفصیلات فراہم کر سکتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ تفصیلات تو اکٹھی نہیں کی گئیں لیکن جب بھی جہاں ایسا کیس سامنے آتا ہے تو وہاں کی یونین، پریس کلب کے لوگ فوری طور پر ہامرے ساتھ رابطہ کرتے ہیں اور ہم انتطامی اداروں کے ساتھ ملکر ان کی مدد کر دیتے ہیں۔

راجہ اظہر نے بتایا کہ میڈیا کو سب سے بڑی مشکل معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں ہوتی ہے، حکومت میڈیا کو معلومات تک رسائی دینے کیلئے سنجیدہ ہے اور اس حوالے سے وزارت قانون میں مسودے کو حتمی شکل دی جارہی ہے جس کے بعد اس مسودے کو کیبنٹ میں پیش کر کے منظوری لی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں