پب جی گیم نے لڑکے کی جان لے لی

نئی دہلی(نیوزڈیسک) بھارت میں مبینہ طور پر پب جی گیم نے لڑکے کی جان لے لی۔ مقتول مسلسل 6 گھنٹے سے موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔

بھارتی شہر مدھیہ پردیش میں گیم کھیلنے کے دوران ہلاک ہونے والے لڑکے کے والد کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا فرقان قریشی مسلسل 6 گھنٹے سے پب جی گیم کھیل رہا تھا کہ اس دوران اسے مبینہ طور پر دل کا دورہ پڑا اور وہ ہلاک ہو گیا۔ 16 سالہ فرقان قریشی 12 ویں کلاس کا طالبعلم تھا۔

نوجوان کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ حادثے سے قبل فرقان قریشی اپنے اسمارٹ فون پر پب جی گیم کھیل رہا تھا کہ اچانک کہنے لگا دھماکہ کر دو، دھماکہ کر دو۔ اُن کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا انتہائی چست تھا اور وہ ہفتہ کی رات کو شروع کیا گیا گیم اتوار کی صبح تک کھیل رہا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ فرقان قریشی نے رات کو کچھ گھنٹے کی نیند کی اور صبح اٹھنے کے بعد بمشکل ناشتہ کر کے دوبارہ گیم کھیلنا شروع ہو گیا۔ فرقان کو دل کا دورہ پڑھنے کے بعد فوری طور پر اسپتال لے گئے تھے تاہم وہ جانبر نہ ہو سکا۔

فرقان قریشی راجھستان کے علاقہ نصیر آباد کا رہائشی تھا اور وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے نیومچ آیا ہوا تھا۔

کوتوالی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر اجے سروان کے مطابق نوجوان لڑکے کی موبائل پر گیم کھیلتے ہوئے ہلاکت سے متعلق انہیں آگاہ نہیں کیا گیا اسی وجہ سے تحقیقات شروع نہیں کی گئی ہیں۔

ماہر نفسیات نے بتایا کہ جب لڑکے کو اسپتال لایا گیا تو اس کے دل کی دھڑکن بند ہو چکی تھی۔ آج کل بچے ویڈیو گیمز میں دماغی طور پر بہت زیادہ ملوث ہو جاتے ہیں جو ان کی موت کی وجہ بنتے ہیں۔ اسی لیے بچوں کو اس طرح کے گیمز سے دور رکھنا چاہے۔

بھارتی ریاست گجرات کے کچھ شہروں میں موت کی وجہ بننے والے گیمز پر مکمل طور پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں