شاہ غلام قادرکاوفاقی حکومت کو بھارت سےبامقصد مذاکرات کیلئے انتظارکامشورہ

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، سٹاف رپورٹر)آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر و مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری جنرل شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ہندوستان سے مذاکرات کرنے کی بھیک کبھی نہ مانگے، ہندوستان اور پاکستان ایٹمی پاورز ہیں دونوں کے درمیان جنگ ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، پلوامہ کے بعد پاکستان نے بھارتی فضائیہ کو کیسے شکست دی یہ تو انہوں نے دیکھ ہی لیا ، ہندوستان کے تمام حربے ناکام ہو چکے ہیں، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر خارجہ 14 جون کو شنگائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں جارہے ہیں، وہاں اگر ان کی بھارتی لیڈرشپ سے سائیدڈپر ملاقات ہوتی ہے تو ٹھیک وگرنہ دفتر خارجہ منتیں کر کے مودی سے ملاقاتیں کرانے سے گریز کرے۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ جتنی امن کی ضرورت کشمیر اور پاکستان کو ہے اس سے زیادہ امن کی ضرورت ہندوستان کو ہے، ہندوستان کے پاس دوسرے ممالک کی سرمایہ کاری زیادہ آرہی ہے، جتنا جنگ کا ماحول ہوگا سرمایہ کاری ہندوستان کی متاثرہو گی، اس لیے اس کی مجبوری بھی ہے کہ ملک میں امن قائم رہے۔ شاہ غلام قادر نے کہا کہ پورے ہندوستان میں دو قومی نظریہ ایک بار پھر زندہ ہو گیا ہے، ہندوستان کے انتہا پسند الیکشن جیت چکے، مسلمانوں پر ظلم وتشدد کے واقعات اب مزید تیزی سے بڑھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان انتہا پسندی سے نکل رہا ہے جبکہ بھارت انتہا پسندی کی دلدل میں تیزی سے دھنسے جا رہا ہے، ہندوستان بہت جلد کمزور پوزیشن پر چلا جائے گا، اس لیے ہمیں ہندوستان سے مذاکرات کیلئے کبھی بھی بھیک نہیں مانگنی چاہیے، بھیک مانگ کر ہم کشمیریوں کی دل آزاری کر رہےہیں، با مقصد مذاکرات جب تک نہیں ہوتے تو پاکستان کو بہتر وقت کا انتطار کرنا چاہیے۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزادکشمیر میں صحافی و سیاسی کمیونٹی آپسی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، قومی ایشوز پر ایک ہوجاتے ہیں، کوئی حکومت کے حق میں ہوتا ہے کوئی مخالفت کرتا ہےلیکن عزت و احترام کے رشتے بھی برقرار رہتے ہیں، صحافی الگ الگ اداروں سے منسلک ہونے کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں، سیاستدان الگ الگ سوچ اور اختلاف رکھتے ہیں لیکن ایک دوسرے کا احترام بھی کم نہیں ہونے دیتے، یہی آزاد کشمیر کی سیاست و صحافت کا حسن اور خوبصورتی ہے۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزادکشمیر میں مروت اور احترام کی سیاست کو گالم گلوچ کی سیاست نےنقصان پہنچایا ہے، آزادکشمیر گالم گلوچ والی سایست کا متحمل نہیں ہو سکتا، تحریک آزادی کے بیس کیمپ میں ہم ایک دوسرے کو گالیاں نکالنی شروع کر دیں گے تو اس سے مقبوضہ کشمیر میں اچھا پیغام نہیں جاتا، کشمیری دنیا بھر میں جہاں بھی رہتے ہیں وہ یہاں کے اخبارات پڑھتے ہیں، سوشل میڈیا دیکھتے ہیں، ان کو یہ گالم گلوچ کی سیاست پڑھنے اور سننے کو ملے تو یہ اچھا نہیں ہے، ہمیں بہتر معاشرہ تشکیل دینا ہوگا۔ سیاست ضرور کریں ، اختلافات ضرور کریں لیکن گالم گلوچ کسی کو بھی زیب نہیں دیتی۔ شاہ غلام قادر نے کہا کہ آزادکشمیر چھوٹا سا خطہ ہے یہاں چیز چھپتی نہیں، یہاں معلوم ہو جاتا ہے کہ کون آدمی کس کے کہنے پر کیا گفتگو کرتا ہے لیکن اگر ہم بھی وہی رویہ اپنائیں گے تو دوسروں میں اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا۔ شاہ غلام قادر نے کہا کہ جو گالیاں دیتا ہے وہ اپنی خصلت ظاہر کرتا ہے اس لیے نہ ہم گالی دیتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔

شاہ غلام قادر نے کہا سوشل میڈیا ، اخبارات کے ذریعے با شعور طبقے نے گالم بلوچ کی سیاست کی بھرپور مذمت کی ہے ہمیں ان لوگوں کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان حالات میں بھی چند لوگ ایسے موجود ہیں جو صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہتے ہیں۔ سپیکر شاہ غلام قادر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت اور پارٹی کے اندر جو ایشوز ہیں ان کو حل کرنے کی ذمہ داری وزیر اعظم پر ہے، جلد مسائل حل کریں گے تو پارٹی اور حکومت مضبوط ہوں گی۔ ہر دور میں حکومت اور پارٹی کے درمیان چند مشیریوں کا ایسا طبقہ ضرور موجود ہوتا ہے جوخرابیاں پیدا کرتا ہے، اس طبقے سے جتنی جلد جان چھڑا لی جائے تو پارٹی اور حکومت بہتر کام کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم کے مشیروں کیلئے آزادکشمیر چھوٹی سی جگہ ہے ان کو ٹرمپ کا مشیر ہونا چاہیے۔ ہم اتنے بڑے مشیروں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔افطار ڈنرمیں رکن اسمبلی اسد علم شاہ سمیت راولپنڈی اسلام آباد میں مقیم کشمیری صحافیوں اور اخباری مالکان کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں