اپوزیشن لیڈر چوہدری یٰسین نے فرینڈلی اپوزیشن کے الزام کے جواب سمیت پارٹی امور پر اپنی پالیسی واضح کردی

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز، سٹاف رپورٹر)آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یٰسین نے سٹیٹ ویوز کے ایڈیٹر سید خالد گردیزی اور کنٹرولر نیوز خواجہ کاشف میر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پر فرینڈلی اپوزیشن کرنے کا الزام درست نہیں،عوامی ایشوزسمیت ہر اہم معاملے میں ہم ایوان کے اندر اور باہر حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔چوہدری یٰسین نے کہا کہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کرنا ارکان اسمبلی کا جمہوری و آئینی حق ہے، اگر حکمران جماعت میں فارورڈ بلاک بنتا ہے یا عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو ہم صورتحال کا جائزہ لیکر فیصلہ کریں گے کہ ہم نے کیا کرنا ہے۔

Chaudhary Interview

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی آڈیو لیکس اپنی جگہ لیکن وہ ہر جگہ اور ہر محفل میں سر عام لوگوں کو گالیاں نکالتے ہیں انہوں نے سردار سکندر حیات خان صاحب کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے وہ انتہائی نا مناسب تھے اور ہم نے ان پر تنقید کرتے ہوئے مستعفیٰ ہونے کا مشورہ بھی دیا۔چوہدری محمد یٰسین نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر خان اول دن سے ہی ون مین شو کر رہے ہیں، ان کے وزرا کے پاس اختیارات نہیں، پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وزرا بہت زیادہ با اختیار ہوتے تھے، ضلعی انتظامیہ اور سیکرٹری اپنی مرضی کا لگواتے تھے، پیپلز پارٹی نے ہر دور میں اپنے وزرا کو مکمل با اختیار رکھا۔چوہدری یٰسین نے کہا کہ سردار سکندر حیات خان اپنے وزرا کو اختیارا نہیں دیتے تھے اور تمام پاورز اپنے پاس
رکھتے تھے-

سردار سکندر حیات کی حکومت و سیاست میں خامیاں اپنی جگہ لیکن بطور ایڈمنسٹریٹر وہ مضبوط شخصیت تھے، انہوں نے کہا کہ میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ راجہ فاروق حیدر خان تمام خامیوں اور سیاسی اختلافات کے باوجود ایک مضبوط ایڈمنسٹریٹر ہیں اور ایڈمنسٹریڑ کو مضبوط ہی ہونا چاہیے تا کہ صبح کیا ہوا فیصلہ شام کو پریشر پڑنے پر واپس نہ لینا پڑے۔ چوہدری یٰسین نے کہا کہ اقتدارکو کوئی نہیں چھوڑتا، راجہ فاروق حیدر خان نے جب یہ دیکھا کہ وزرا کی تعداد 12 سے نہ بڑھائی تو ان کا اقتدار جا سکتا ہے تو انہوں نے سیاسی فیصلہ کرتے ہوئے وزرا کی تعداد بڑھا دی لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم نے اہم اختیارات اپنے پاس ہی رکھے ہیں جبکہ وزرا کے پاس کوئی اختیار نہیں۔

چوہدری محمد یٰسین نے کہا کہ راجہ فاروق حیدر خان کے تین سالہ دور حکومت میں گڈ گورننس نام کی چیز نہیں دیکھی، موجودہ حکومت ان تین سالوں میں کوئی بھی بڑا ترقیاتی منصوبہ سامنے نہیں لا سکی، ہم نے اپنے دور میں تین میڈیکل کالجز ، پانچ یونیورسٹیاں ، ایجوکیشن پیکیج اور ہیلتھ پیکیج دیا جو ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ ہم نے تمام اضلاع میں سڑکوں کے بڑے منصوبے دیئے، کوہالہ سے دھیر کوٹ ، دھیر کوٹ سے راولاکوٹ، راولاکوٹ سے کوٹلی روڈ براستہ ہجیرہ ، تتہ پانی، میرپور تو کوٹلی ، کوٹلی ٹو کھوئی رٹہ،کوٹلی تو ہولاڑ، دھان گلی، منگلا میرپور، باغ سے سدھن گلی، راولاکوٹ سے حویلی سڑک سمیت تمام شہروں میں سڑکیں دیں، زیادہ تر سڑکیں ہمارے دور میں مکمل بھی ہو چکی تھیں، موجودہ حکومت نے یہ بہتر کام ضرور کیا کہ ہماری شروع کی ہوئی سڑکوں کے فنڈز نہیں روکے لیکن یہ حکومت اپنا کوئی ایک بھی بڑا منصوبہ سامنے نہیں لا سکی۔

مسلم کانفرنس اور موجودہ مسلم لیگ کے لوگ 50 سال اقتدار میں رہے یہ ایک بھی یونیورسٹی یا میڈیکل کالج نہیں دے سکے، مظفرآباد یونیورسٹی کی بنیاد صدر جنرل حیات خان نے رکھی اور باقی میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیاں پیپلز پارٹی نے اپنی مختصر مدت میں قائم کیں۔ موجودہ حکمران ٹھیکیدار لوگ ہیں ، مال بٹورتے ہیں، میڈیا میں آیا ہے کہ ان حکمرانوں نے دو، تین کمپنیاں رکھی ہوئی ہیں جن کو ٹھیکے دیتے ہیں اور ان کے ذریعے لوٹ مار جاری ہے۔ چوہدری یٰسین نے انکشاف کیا کہ سینئر وزیر اور وزیر اعظم کی لڑائی قانون ساز اسمبلی کی عمارت تعمیر کرنے کے ٹینڈر پر ہوئی۔ سینئر وزیر چاہتا تھا کہ ٹھیکہ اس کی مرضی کی کمپنی کو جائے لیکن وزیر اعظم نے متعلقہ محکمے میں اپنی مرضی کا سیکرٹری لگا کر ٹھیکہ اپنی من پسند پارٹی کو دیدیا، حکمران جماعت میں لڑائی وہیں سے شروع ہوئی۔

چوہدری محمد یٰسین نے پیپلز پارٹی کی پارٹی صدارت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ پیپلز پارٹی وہ جماعت ہے جس نے ہر ایک کو عزت دی، اسی جماعت نے بیرسٹر سلطان محمود کو پارٹی صدر اور وزیر اعظم بنایا لیکن انہوں نے احسان فراموشی کی، چوہدری یٰسین نے کہا کہ سیاست چھوڑ سکتا ہوں لیکن پیپلز پارٹی نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ اس جماعت نے مجھے عزت دی ہے۔ چوہدری یٰسین نے بتایا کہ گزشتہ الیکشن کے بعد چوہدری مجید سے بطور صدر پارٹی استعفیٰ لے لیا گیا تھا، انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کا اصول رہا ہے کہ یہاں حکومتی عہدہ اور سیاسی عہدہ ایک ساتھ نہیں رکھا جا سکتا۔ بی بی شہید نے 2006 میں صاحبزادہ اسحاق ظفر کو کہا تھا کہ آپ فیصلہ کریں کہ پارٹی صدر رہیں گے یا اپوزیشن لیڈر تو انہوں نے پارٹی کا عہدہ چھوڑ کر اپوزیشن لیڈر کا عہدہ قبول کیا تھا-

لیکن اس فیصلے سے پہلے انہوں نے مجھ سے مشورہ مانگا تو میں نے انہیں کہا کہ آپ پارٹی صدارت رکھیں یہ زیادہ اہم ہے لیکن انہوں نے اپنے بیٹوں کے کہنے پر اپوزیشن لیڈر کا عہدہ رکھ لیا۔ تب چوہدری مجید سینئر نائب صدر تھے ان کو پارٹی صدر بنا دیا گیا ، میں ان کے ساتھ سیکرٹری جنرل تھا تو مجھے سینئر نائب صدر بنا دیا گیا۔ گزشتہ الیکشن کے بعد میں قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن گیا اور پارٹی قیادت نے پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری لطیف اکبر پارٹی صدر کو پارٹی صدر نامزد کر دیا اور اب چوہدری لطیف اکبر صاحب کی جب مدت صدارت ختم ہو گی تو پارٹی کی مرکزی قیادت فیصلہ کرے گی کہ کس کو پارٹی صدر بنانا ہے لیکن میں پارٹی صدارت کی دوڑ میں شامل نہیں ہوں گا کیونکہ میرے پاس اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ہے۔

چوہدری محمد یٰسین نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے علم نہیں کہ سردار قمر زمان خان کے ساتھ پارٹی کی مرکزی لیڈرشپ نے اگلا صدر بنانے کا کوئی وعدہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے پوچھ کر پیپلز پارٹی کا صدر نہیں بنایا جاتا ، یہاں نامزدگیاں ہوتی ہیں جو سب کو قبول ہوتی ہیں، پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ سنٹرلائزڈ ہے یہاں اوپر سے جو فیصلے ہوتے ہیں وہ سب کو قبول ہوتے ہیں۔ ابھی مسلم لیگ نواز میں بھی نامزدگیوں کے ذریعے مرکزی عہدے دیئے گئے ہیں اور پاکستان سمیت دیگر دنیا میں بھی پارٹی کے اہم عہدوں پر نامزدگیاں ہی ہوتی ہیں۔اپوزیشن لیڈر کی سٹیٹ ویوز ٹیم کے ساتھ ہونے والی اس نشست میں سابق مشیر اطلاعات مرتضیٰ درانی سمیت کشمیر ٹائمز کے چیف ایگزیکٹو بنارس علی چوہدری، ایڈیٹر ارشد ثانی سمیت چوہدری شاہنواز یٰسین اور چوہدری معروف انجم بھی موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں