(پکار/ شیراز خان (لندن
پکار/ شیراز خان (لندن)

وزیراعظم عمران خان کا او آئی سی سے خطاب

مسلمان ممالک کی تنظیم او آئی سی کے اجلاس سے وزیراعظم نے پاکستان اور مسلمہ امہ کی بھرپور ترجمانی کرتے ہوئے کوئی دس منٹ تک کا خطاب کیا ہے ایسے فورموں پر وہی باتیں کی جاتی ہیں جو وزیراعظم نے کی ہیں ہر فورم کا ایک اپنا ڈیکٹورم ہوتا ہے اور او آئی سی مسلمان ممالک کی تنظیم ہے وزیراعظم نے مسلم آمہ کے ایک لیڈر کے طور پر کہا ہے کہ آقا علیہ صلواۃ و سلام نبی آخر الزماں کی محبت کے تقاضے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو اپنی جان و مال پر مقدم رکھیں اور مغربی دنیا میں حضرت محمد صلم کے بارے میں جانے انجانے میں جو منفی خبریں شائع ہوتی ہیں مغرب کو بتائیں کہ وہ اس کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائیں انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی ممالک کے سربراہان مملکت کی اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ نبی کریم کی ناموس کا تحفظ کریں حضرت محمد صلی الله عليه وسلم کی محبت ہم مسلمانوں کے لئے سب کچھ ہے اور ہم توہین رسالت کو برداشت نہیں کرسکتے

وزیراعظم نے مغرب میں اسلام کے خلاف مغربی میڈیا میں منفی رحجانات پر مبنی خبروں کے شائع ہونے اور اسلامو فوبیا کے خلاف مسلمان ممالک کے لیڈروں کو سخت اقدامات اٹھانے اور اس ایشو کو یورپین یونین کے ساتھ اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارموں پر آٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے – انہوں نے کہا کہ 9/11 کے بعد اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح استعمال ہوئی اور اسی کو عام کیا گیا جبکہ ہم دنیا کو سمجھانے میں ناکام رہے ہیں کہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے سب سے زیادہ 80 فیصد خوکش حملے تامل ٹائیگرز نے کیے اور کسی نے اسے ہندو دہشت گردی سے تعبیر نہیں کیا جبکہ جاپان کے پائلٹوں نے امریکن بہری بیڑون پر خود کش حملے کیے تھے کسی نے جاپان کے مزہب کو ان حملوں کا تعلق نہیں جوڑا جبکہ مغرب کو آزادی اظہار رائے کی آڑ میں مسلمانوں کے جزبات کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ 9/11 کے بعد فلسطین اور کشمیر کی جائز سیاسی تسلیم شدہ جدوجہد کو بھی اسلامی دہشت گردی کا رنگ دے دیا گیا اور فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں پر مظالم بڑھا دئیے گئے. انہوں نے مطالبہ کیا 1948 کی اقوام متحدہ کی کشمیر کے بارے میں حق خودارادیت کی قرار دوں پر عملدرآمد کیا جائے اور او سی سی ممالک کو اس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا وزیراعظم نے مقبوضہ بیت المقدس فلسطین اور مشرقی یروشلم فلسطین کا دارالخلافہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا اور گولان ہائٹس کو 1967 کی اصلی حالت میں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق شام کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا -وزیراعظم نے مسلمان ممالک کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ اپنے وسائل یونیورسٹیوں کی سطح پر معیاری تعلیم پر خرچ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سائسن اور ٹیکنالوجیز میں مسلم دنیا اپنا مقام پیدا کرے .

وزیراعظم نے تمام تر مسلمانوں کو درپیش چیلنجز اور مشکلات کا زکر کیا لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وزیراعظم ایران اور سعودی عرب کے درمیان سرد جنگ کے خاتمے اور ان دونوں کو اپنے اختلافات ختم کرنے کے لئے بھی اس فورم پر آواز آٹھاتے اور یمن میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے اور غریب مسلمانوں کی نسل کشی کی روک تھام کیلئے بھی مسلمان ممالک کو آئینہ دکھاتے عمران خان اس حد تک تو کامیاب ہوئے کہ او آئی سی ممالک اب مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لئے آواز آٹھانے لگے اس سے پہلے تو عرب کشمیریوں کے لئے آواز نہیں آٹھاتے تھے پاکستان کی دفتر خارجہ کو چاہیئے کہ کشمیریوں کی نمائندگی کے لئے آزادکشمیر کو بطور مبصر او آئی سی کی مستقل رکنیت کی راہ ہموار کرے تاکہ کشمیری بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف براہ راست آواز آٹھا سکیں .

وزیراعظم عمران خان نے ڈٰیڑھ عرب مسلمانوں کی بھرپور نمائندگی کی لیکن پاکستان میں شاید کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سعودی عرب جاکر عمران خان کو توری، ٹماٹر اور بھنڈیوں کی قیمتوں کی بات کرنی چاہیے تھی ایسے لوگ پیٹ سے سوچتے ہیں جبکہ آج ہمیں فخر کرنا چاہیے کہ ہمارا وزیر اعظم نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی بھلائی کی بات کر رہا ہے ۔ وہ مغرب میں زیر عتاب مسلمانوں اور اسلام کی بات کر رہا ہے اور اسی زبان میں ردیف، قافیے اور ہجوں کے ساتھ سمجھا رہا ہے جو مغربی دنیا سمجھتی ہے اسکو پوری مسلم دنیا میں سراہا جا رہا ہے۔ لیکن کچھ میرے جیسے چھوٹے موٹے لوگ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر عمران خان کی مخالفت میں دن رات پراپیگنڈہ کرنے اور اپنا اپنا منجن بھیجنے میں مصروف عمل ہیں سوشل میڈیا پر جھوٹ کی فیکٹریاں چلا جارہی ہیں جن کا کام عمران خان کو ناکام دیکھنا ہے یہ سراسر جہالت ہے قابل شرم بات یہ ہے کہ وہ کوئی متبادل بھی پیش کرنے سے قاصر ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں