نقطہ نظر/سردارعلی شاہنواز خان

حادثات کیوں ہوتے ہیں؟

آج باغ سے راولپنڈی جاتے ہوئے ایک کوسٹر حادثے کا شکار ہوئی جس میں درجنوں سوار زخمی ہوئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہ ہوا ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ حادثات کیوں ہوتے ہیں ان کی وجوہات کیا ہیں؟

عید کے موقع پر جب لوگ اپنے پیاروں سے ملنے جا رہے ہوں اور گھر والوں کو اطلاع ملے کے ان کے عزیز کا حادثہ ہوا اور وہ شدید زخمی ہے یا اس کی موت واقع ہو گئی تو سوچیں اس خاندان پر کیا گزرے گی؟ جس خوشی کو سب ملکر بنانے کی سوچ رہے ہوتے ہیں وہاں ماتم ہو گا تو کیسا لگے گا؟

یہ تو ایک احساس کی بات کی لیکن آج کے حادثے کو دیکھ کر یہ سوال تو اٹھتا ہے کہ حادثے کیوں ہوتے ہیں؟اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں تاہم ہمارے ہاں اسے ”اللہ کا لکھا ” کہہ کر بھول جاتے ہیں ۔ کوئی ان وجوہات پر بات نہیں کرتا۔ اس کی بڑی وجوہات میں سڑکوں کی ناگفتبہ صورتحال ، ڈرائیورز کی غفلت، گاڑی کی خرابی ، سیفٹی وال کا نہ ہونا، اوور اسپیڈ اور اوور لوڈنگ ہو سکتی ہیں۔ آج کے حادثے کی وجوہات پر غور کیا جائے تو اس میں ڈرائیور کی غفلت اور سیفٹی وال کا نہ ہونا نظر آتا ہے کیونکہ اگر سیفٹی وال ہوتی تو گاڑی روڈ میں ہی رہتی اور اس قدر بڑی تعداد میں لوگ زخمی نہ ہوتے۔

پاکستان میں کراچی کے بعد روڈ ایکسیڈنٹ کی سب سے زیادہ شرح آزاد کشمیر میں ہے۔ حالیہ ایک دو سالوں میں ان حادثات میں کمی آئی ہے تاہم ابھی بھی بہت کام کرنا باقی ہے۔ سب سے زیادہ حادثات پبلک ٹرانسپورٹ کے ہوتے ہیں جن میں عام لوگ سفر کرتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں کئی خرابیاں سامنے آئی ہیں جن میں گاڑیوں کی مینٹینینس کا چیک نہ ہونا ہے جس سے حادثات کی شرح میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور شاہرات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

اسی طرح اوور لوڈنگ دوسری بڑی وجہ ہے ایک ویگن کی سیٹ پر ٹریفک قوانین کے مطابق تین سواریوں کے بیٹھنے کی اجازت ہے لیکن ہمارے ہاں ہر سیٹ پر چار سواریاں بٹھائی جاتی ہیں اور اس طرح ہر ویگن چار سے پانچ لوگوں کو ایکسٹرا بٹھایا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ اوور اسپیڈ بھی ایک بڑی وجہ ہے ۔ جو اب شاہرات کی بہتری اور ٹریفک پولیس کی وجہ سے کسی حد تک کنٹرول ہو رہا ہے۔

آزاد کشمیر میں حادثات کی شرح کو کم کرنے کیلئے ٹریفک پولیس کی تعداد میں معقول اضافہ کرنا چاہئیے تاکہ پولیس فرض شناسی سے کام کرے ۔ ایک دوست نے بتایا کہ آج سے تین چار سال قبل آزاد کشمیر ٹریفک پولیس میں صرف درجن بھر ملازم تھے حالیہ ایک دو سالوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا جس سے کافی بہتری دیکھنے کو ملی۔

حادثات کی روک تھام کیلئے ٹریفک پولیس کو ڈرائیونگ لایسنس کے اجراء کیلئے سخت اقدامات کرنے ہونگے۔تاکہ گاڑی چلانے کا اختیار صرف ان کو ہو جو قوانین پر عمل کرنا جانتے ہوں۔ اس کے علاوہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت جرمانے کرنے چاہئیں اور لائسنس معطل یا منسوخ کرنے چاہئیں۔ جب قوانین پر عملدرآمد ہو گا تو ہمیں ایسے مواقع کم ملیں گے کہ کہہ سکیں ”یہی اللہ کا لکھا تھا”

نوٹ:سردارعلی شاہنواز خان سکینڈینیوین کونسل ناروے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔تنازعہ کشمیر پر جاندار کردارکےباعث انہیں کشمیریوں کا بین الاقوامی سفیر بھی کہا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں