نقط نظر/توصیف احمد راجہ

پولیس پر بے جا تنقید

ایک دن کہہ لیجیے جوکچھ ہے دل میں آپ کے
ایک دن سُن لیجیے جو کچھ ہمارے دل ہیں ہے
میں اپنی بات کا آغاز جوش ملیح آبادی کے اس شعر سے کر رہا ہوں دور حاضر میں سب سے آسان کام ہے تو وہ کسی پر تنقید کرنا ہے،سوشل میڈیا نے تو یہ کام ذیادہ سہل بنا دیا ہے جس کی مدد سے چند روپوں کا ماہانہ انٹرنیٹ پیکج کروا کر آپ اپنی رضائی کے اندر سے ہی جب چاہیں جس وقت چاہیں اور جس کی چاہیں،کسی بھی شخص،تنظیم یا ڈیپارٹمنٹ کی پگڑی اچھال سکتے ہیں۔کاپی پیسٹ اور shareکے آپشن نے تو یہ کام اور بھی آسان پیدا کر دیا ہے۔

دانشورں کی اس تنقید کا حدف اکثر ایک ڈیپارٹمنٹ رہتا ہے،جس پر تنقید کرنا دور حاضر میں باعث ثواب اور بلندی درجات کا موجب سمجھا جاتا ہے۔ جی ہاں۔۔۔۔اور وہ ہے “پولیس ڈیپارٹمنٹ”
مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا تصویر کا ایک ہی رُخ دیکھ کر کیا کسی بھی شخص یا ڈیپارٹنمٹ پر تنقید کرنا مناسب ہے؟ کیا ہمیں کوئی بھی خبر Farwardیا شیئر کرنے سے پہلے تحقیق نہیں کر لینی چاہیے؟ کیا ہمیں بحثیت مسلمان یہ سوچنا چاہیے کہ ہم جو خبر آگے بھیج رہے ہیں کیا اس میں صداقت بھی ہے یا نہیں؟؟

حدیث نبویﷺ ہے۔ “کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کوئی بات سنے اور بغیر تحقیق کیے آگے پہنچا دے.خیر بات لمبی کرنے کے بجائے ہم موضوع پر ہی رہتے ہیں، پولیس ڈیپارٹنمٹ پر تنقید کرنے والوں کے لیے اپنے کچھ مشاہدات لکھنا چاہوں گا، تا کہ اپنے ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہو سکوں۔ ہر آدمی کے دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے، میں نے جو دیکھا آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں،

کوئی بھی واقعہ یا حادثہ ہو جائے اس پر سب سے پہلے ریسپانس پولیس نے دینا ہوتا ہے جو کہ پولیس کی پیشہ ور زمہ داری بھی ہے۔گھریلو جھگڑے سے لے کر ریاستی سطح تک آیئن و قانون کا نفاز یقینی بنانا اس کا فرض ہے جو کہ پولیس اپنی بساط اور دستیاب وسائل میں رہ کرکرتی ہے۔
میں نے پولیس کو ہمیشہ مجبور اور بے بس مجبور دیکھا، کئی کئی دن تک یونیفارم تبدیل کئے بغیر ڈیوٹی کرتے دیکھا۔

اور اگر تھوڑی دیر کے لیے کسی پولیس والے نے لانگ شُوز (DMS) اتار کر تھوڑی دیر پاؤں کو ہوا لگانا چاہی تو وہ ہی تصویر فیس بک پراس Captionکے ساتھ وائرل ہوتی دیکھی کہ پولیس کی یونیفارم کا نیو ڈائزئن آگیا ہے، ایسا کرنے کی اجازت کس نے دی ہے،یہ دیکھو یونیفارم کے ساتھ جوتی وغیرہ۔

میں نے پولیس کو رمضان المبارک کے اندر ناکے پر افطاری کرتے ہوئے دیکھا۔او ر وہ بھی صرف کھجور اور پانی کے ساتھ، کیوں کہ افطاری کے اوقات میں عوام کا BPلیول عروج پر ہوتا ہے۔اور عوام کا BPلیول برقرار رکھتے ہوئے لڑائی جھگڑے سے بچانا بھی پولیس کی زمہ داری ہے۔

میں نے عید والے دن بھی پویس والے کو مسجد اور عید گاہوں کے باہر ڈیوٹی کرتے دیکھا، میں خود ایک عید پر دربار سخی سہیلی سرکار پر ڈیوٹی انجام دے چکا ہوں مگر نماز کے بعد کسی بھی شہری نے ہمیں سلام کرنا یا مبارک باد ددینا بھی گوارہ نہیں کیا، صرف پاک آرمی کے کچھ جواں جو کہ خود بھی پردیسی تھے، نے ہمیں سلام کیا، اور مبارک باد دی۔ اور عوام کو مبارک باد دینا بھی گوارہ نہ کرتے ہوئے دیکھا۔

میں نے پولیس والے کو اپنے بچوں کو یہ کال کرتے ہوئے دیکھا “کہ بیٹا اس عید پر میں گھر نہیں آسکوں گا، آپ کے لیے کپڑے بھیج دیے ہیں،میں عید کے بعد آوں گا میری سیکورٹی آرڈر میں ڈیوٹی لگی ہوئی ہے “میں نے ہر بڑے ایونٹ پر پولیس کو ڈیوٹی کرتے دیکھا، ہر اس دن کی کہ جس دن کی مناسبت سے آپ تمام لوگوں کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے۔اور باقی سب لوگ اپنا وہ دن عام تعطیل ہونے کی وجہ سے گھر پر گزارتے ہیں۔

مگر پولیس والے کو اس دن کو بھی حالت ِیونیفارم میں دیکھا۔میں نے پولیس کو ہفتہ اتوار کی تمیز کیے بغیر Round the clockڈیوٹی کرتے دیکھا۔ اور پھر اپنے ہی ان لوگوں کو یہ بھی کہتے ہوئے سنا کہ پولیس اگر ڈیوٹی کرتی ہے تو کون سا احسان کرتی ہے اچھی خاصی تنخواہ بھی تو لیتی ہے نا؟
تو یہاں یہ بات بھی سن لیجیے کہ پولیس کو ماہانہ راشن الاؤنس صرف1038روپے ملتا ہے۔اور میڈیکل الاؤنس 1500/= روپے اور اسی طرح باقی الاونئسز بھی دیگر محکمہ جات سے کم ہیں۔

میں نے پولیس والے کا Risk Allownceبغیر کسی حکومتی نوٹیفکیشن کے کٹوتی ہوئے دیکھا، اور پھر اس الاؤنس کی بحالی کے لیے 3سال سے عدالتوں میں انصاف مانگتے ہوئے دیکھا، لوگوں کی تنخواہوں میں بجٹ میں اضافہ ہوتا ہے اور میں اپنے ڈیپارٹنمٹ کی تنخواہیں کم ہوتی دیکھی۔
میں نے لوگوں کو کہتے ہوئے دیکھا کہ پولیس رشوت کھا گئی، اور پھر اسی پولیس کو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اندھے قتل کی تفتیش اور ملزمان کو ٹریس کرنے کے لیے اپنی جیب سے خرچہ کرتے ہوئے بھی دیکھا،…

کوہستان اور چلاس جیسے علاقے میں جہاں غیرت کے نام پر قتل کو باعث فخر سمجھا جاتا ہے وہاں پولیس کو ملزمان کو ٹریس کرنے کے سلسلے میں جان سے مارنے کی دھمکیاں سنتے ہوئے بھی دیکھا۔اگر کسی ملزم کو پولیس سچ اگلوانے کے لئے تھوڑی بہت سرزنش کر دے تو لوگوں کو “انسانیت کی تذلیل ” جیسے الزام دیتے ہوئے سُنا، اور پھر جب اسی پولیس نے قیصر قتل کیس میں ملزمان کو بغیر کسی پولیس مقابلے کے کمال حکمت عملی کے ساتھ ایک ہفتے کے اندر اندر گرفتار کیا تو پھر بھی عوام کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پولیس نے قاتل کو پروٹوکول دیا ہے.

میں نے موٹرسائیکل پر تین تین جوان بغیر ہیلمٹ اور لائسنس کے جاتے ہوئے دیکھا، اگر پولیس نے روک کر چالان کر دیا تو ظلم کی انتہا اور اگر پہلی غلطی سمجھ کر معاف کر دے تو انہی بچوں کو تفاخر کے ساتھ یہ کہتے ہوئے بھی سنا کہ ہم نے پولیس کے ساتھ ہاتھ کیا ہے۔
میں نے روڈ پر ون ویلنگ (One Wheeling)کرتے ہوئے جوان بھی دیکھے،میں نے یہ بھی دیکھا کہ ڈگری کالج کے سامنے ایک لڑکا ویلنگ کر رہا تھا تو ایک پولیس آفیسر نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے روکنے کو گستاخی سمجھ کر بائیک پولیس آفیسر کے اوپر چڑھا دی اور اسی پولیس والے کو میں نے اگلے دو مہینے تک ایبٹ آباد میں اپنی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کا علاج کرواتے ہوئے دیکھا۔

میں نے پولیس والے کی فیملی کو وقت نہ دینے کا رونا روتے ہوئے دیکھا، میں نے اپنے ایک ایس ایس پی صاحب کو محکمانہ مصروفیات کی وجہ سے اپنے والد صاحب کی عیادت کے لیے نہ جا سکنا دیکھا، اور پھر وہ گئے تو ضرور مگر عیادت کے لیے نہیں بلکہ تدفین کے لیے۔
میں نے ملزمان کو ٹریس کرنے کے سلسلے میں پولیس والے پر دوران ِریڈ miss managementااور ناقص حکمت عملی کے نام سے پرچے ہوتے ہوئے بھی دیکھے۔ میں نے لا اینڈ آرڈر کی بحالی کے لیے اور شاہراہ عام کی روانی کے لیے پولیس والے کو ہی پولیس والے پر لاٹھی چلاتے دیکھا، اور پھر اسی امن و عامہ کی بحالی اور آرٹیکل 144کے نفاز کے سلسلے میں ایک SHOکو ٹرانسفراور ضلع بد ر ہوتے دیکھا.

میں نے پولیس والے کو دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا، اور پھر اسی پولیس والے کی قربانی پر میڈیا کو ہلاکت کی ہیڈ لائن بنا کر پیش کرتے ہوئے دیکھا، کہ چار پولیس والے دہشت گرد حملے میں ہلاک ہو گئے۔ میں نے ایک حاضر سروس پولیس کے آفیسر کو اغوا ہوتے ہوئے دیکھا، اور پھر اسی آفیسر کی لاش کو افغانستان سے واپس آتے ہوئے دیکھا،اور اس کے لواحیقین کو انصاف کے لیے منتظر دیکھا.

میں نے عوام کو ہمیشہ تنقید کرتے دیکھا اور پھر اسی عوام کو پولیس کی ایک اُسامی کے لیے ہزاروں اُمیدواروں کو درخواست دیتے دیکھا،میں نے دن کو Facebookپر پولیس پر تنقید کرتے دیکھا اور انہی لوگوں کورات inboxکرتے دیکھا کہ پولیس کی نئی بھرتی کب آ رہی ہے۔پولیس میں بھرتی کا بہت شوق ہے اورساتھ سلیبس اور ٹیسٹ کا طریقہ کار بھی پوچھتے ہوئے دیکھا۔

میں نے ٹریفک اہلکار کو پورا پورا دن تپتی دھوپ میں اس شہر کے شرفاء کی گاڑیوں کی قطاریں سیدھی کرتے دیکھا،اور اگر اسی پولیس والے نے کسی فارغ وقت میں تھوڑی دیر کے لیے موبائل پر کال کر لی تو اس کی وہی تصویر سوشل میڈیا پر اس captionکے ساتھ وائرل ہوتی دیکھی کہ “ٹریفک پولیس والا اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہوئے میں نے بنکوں کو قرضہ دینے سے انکار کرتے ہوئے دیکھا کہ ہم پولیس والے اور وکیلوں کو قرضہ نہیں دیتے، ان سے ریکوری کرنا مشکل ہوتا ہے، اور پھر کسی اور آدمی نے قرضہ لے کر واپس نہ کیا تو اسی بینک کو پولیس کے پاس یہ درخواست دیتے ہوئے دیکھا کہ “فلاں شخص ہمیں پیسے نہیں دے رہا ہمیں ریکوری کروا کر دیں ”

ان ساری باتوں کا مقصد اپنے دکھڑے سنانے نہیں ہیں کیوں کہ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ ان دکھڑوں کا مداوا کسی نے نہیں کرنا، صرف اور صرف مقصد یہ ہے کہ آپ لوگ خدارا تصویر کا دوسرا رُخ بھی دیکھ لیا کریں۔کبھی تو نفرت کی عینک اتار کر دیکھیں، کبھی تو پولیس والے کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر دیکھیں۔جو آپ کو100فی صد غلط نظر آ رہا ہے وہ آپ کو کسی حد تک تو ٹھیک نظر آئے گا۔خامیاں ہر سسٹم کے اندر ہوتی ہیں پولیس کے اندر بھی موجود ہیں مگر جو اچھی بات ہے اس کو Appriciateبھی تو کیا جانا چاہیے۔پولیس اگر ایک کام غلط یا miss manageکرتی ہے تو دن میں سینکڑوں کام بطریق احسن بھی تو سر انجام دیتی ہے۔

یہ شہروں کا امن، یہ تحفظ کی فضاء یوں ہی خود بخود تو قائم نہیں ہو جاتی نا؟؟؟؟ اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں کسی کی محنت کار فرما ہے، کہیں نہ کہیں کوئی جاگ رہا ہوتا ہے۔کہیں نہ کہیں کوئی چوکیدار بن کر آپ کی رکھوالی کر رہا ہوتا ہے۔ کوئی نہ کوئی اپنی نیند قربان کر رہا ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں