نقطہ نظر /شیخ حمید

کھلونا نما اسلحہ مستقبل کے معماروں کیلئے تباہی

عید کے پُر مسرت موقع پر بڑے ہی عجیب و غریب مناظر دیکھنے کو ملے جہاں بھی گیا چھوٹے چھوٹے بچے ایک دوسرے پر کھلونا نما پلاسٹک کے اسلحہ سے پلاسٹک کی گولیاں برساتے نظر آئے،چور سپاہی کا کھیل اور دیگر کردار ادا کرتے ھوئے بچے مارتے گرتے گراتے نظر آئے بچوں کے کانوں کے پردے اور آنکھیں نشانہ بنتی رہیں۔۔۔۔بچے گروپ بنا کر ایک دوسرے پر فائرنگ کی مقابلہ بازی کرتے رہے ،سڑکوں پر چلتی گاڑیوں ، موٹر سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں پر بچے پلاسٹک کے اسلحے سے پلاسٹک کے چھرے برساتے رہے۔۔ عید الفطر کے موقع پر اور عام دنوں میں کھلونا نما پستول/بندوق سے ایک دوسرے پر گولیاں چلانا اور مرنے مارنے کی اداکاری کرنا بچوں میں تشدد پسندی کو پروان چڑھانے کا سبب بنے گا ۔

اس حوالے سے کھلونوں کی خریدو فروخت کے بیوپاریوں سے جب بات ھوئ تو انھوں نہ کہا کہ اس دفعہ پلاسٹک کے اسلحہ نما کھلونوں کی مانگ میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ھوا جبکہ متعدد بیوپاریوں نے چائنا سے کروڑوں روپے کے کھلونا نما اسلحے کی کھیپ منگوائ اور ملک بھر میں بیچ کر کافی منافع کمایا جبکہ کھلونے بیچنے والے دکانداروں کا موقف تھا کہ عید پر بچوں نے دیگر کھلونوں کی نسبت کھلونا نما کلاشنکوف،پستول اور دیگر خودکار نما اسلحہ خریدنے پر زور رکھا۔اس حقیقت کو جھٹلانا ممکن نہیں کہ بچہ اپنے گھر اور ارد گرد کے ماحول سے بہت کچھ سیکھتا ھے اگر بچے کو اپنے گھر یا ارد گرد کے ماحول سے اسلحے کے استعمال یا نمائش کا زور لگے گا تو پھر بچے کا اسلحے اور دیگر منفی سرگرمیوں میں لگاؤ بڑھ جائے گا –

مشاہدے میں یہ بات آئ ھے کہ اکثر والد،ماموں اور چاچے اپنے اسلحے کو بچے کے سامنے استعمال کرتے ھیں یا بچوں کے سامنے رکھتے ھیں جس سے بچے کے ذہن پر اسلحہ سے کھیلنا اور اس کھیل کھیل میں اپنے ہم عمر یا بعض دفعہ اپنے سے بڑوں کو بھی کھلونا نما اسلحے سے دبانا یا کھیلنے کیلئے ذیادہ دلچسپی ھوتی ھے اسی تناظر میں عید کے پُر مسرت موقع پر ضلع راولپنڈی کے علاقے حسن ابدال میں انتہائ افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک مقامی ذمیندار نے اپنا لوڈ پستول کمرے کی کھڑکی میں رکھا جس کو اُس کے سات سالہ بیٹے نے اُٹھا کر کھیلنا شروع کر دیا اور کھیلتے کھیلتے پستول کو اپنے اڑھائی سالہ بھائ پر تان کر ٹرائیگر دبا دیا جس کیوجہ سے گولی چل گئ جو کہ معصوم بچے کے ماتھے پر جا لگی اور بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا نہ جانے ایسے واقعات میں کتنی ماؤں کے لخت جگر بچھڑ جاتے ھیں ۔

دیکھا جائے تو ملک بھر میں کھلونا نما اسلحے کی بھرمار سے بچوں میں شدت پسندی بڑھنے کا خدشہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچوں کا مستقبل بھی دباؤ پر لگ گیا ہے کیونکہ بچے کا ذہن کچا ھوتا ھے اور وہ کسی بھی قسم کی منفی سرگرمی یا کسی بھی بات کو طاقت سے منوانے کیلئے اسلحہ کو ہی اپنا ہمسفر بنا لے گا ۔راقم نے جب اپنی تسلی کیلئے اس پلاسٹک نما اسلحے کو چیک کیا تو عقل دنگ رھ گئ کہ بازار میں فروخت ہونے والا اسلحہ بالکل اصلی اسلحہ کی مانند چلتا ہے جبکہ اس میں گولی کی جگہ پلاسٹک کے چھرے استعمال ہوتے ہیں مگر حیرت ھے کہ کسی بھی انتظامی و حکومتی ادارے نے نہ ہی اس قاتل کھلونے کو چیک کیا اور نہ ہی اس کو چائنا و دیگر ممالک سے امپورٹ کرنے پر پابندی لگائ ماہرین نفسیات کے مطابق بچوں کے مختلف خطرناک ہتھیار نما کھلونے کسی بھی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتے ہیں-

بچے کھلونا پستول، بندوق میں دلچسپی لے رہے ہیں، لیزر کھلونا بندوق، چھرے والی پستول انتہائی خطرناک ہیں، بچے ایک دوسرے پر یہ چھرے فائر کرتے ہیں جس سے انکی آنکھیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ شہر کے مختلف تجارتی مراکز میں کھلونوں کی دکانوں اور جگہ جگہ لگے سٹالز پر کئی اقسام کے کھلونا پستول، بندوقیں، لائٹس والی اور چھرے والی چھوٹی اور بڑی بندوقیں فروخت کی جا رہی ہیں جبکہ اس تمام تر لاقانونیت کے حوالے سے جہاں حکومتی ادارے اور انتظامیہ فیل ھوئ ھے وہاں ہی والدین اور عوامی نمائندوں نے بھی ایسے خطرناک کھلونا نما پلاسٹک کے اسلحے کے استعمال کو روکنے کیلئے کوئ کردار ادا نہیں کیا-

حکومتی اداروں اور حکومت کو فوری طور پر مستقبل کے معماروں کو تباہی اور ماؤں کی گودیں اُجڑنے سے بچانے کیلئے پلاسٹک کے اسلحہ نما کھلونوں کی خریدو فروخت پر پابندی لگانا چاہیے اور ایسی طرز کے کھلونوں کو پروموٹ کریں جس سے بچوں کے اندر مثبت سرگرمیوں میں اضافہ ھو ۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں