ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید عظیم علمی سرمایہ تھے ،سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید عظیم علمی سرمایہ تھے ، ان کے خانوادہ کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں وطن عزیر پاکستان کے لئے ڈاکٹر سرفراز نعیمی نے جان کا نذرانہ پیش کیا جو کہ سب سے بڑی قربانی ، پاکستان کی سالمیت و استحکام کے لئے تن من دھن کی قربانی سے دریغ نہی کیا جائے گا

دفاع وطن کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے ،ملک دشمن عناصر کے بزدلانہ اقدام حوصلے پست نہیں کرسکتے، قیام امن کیلئے دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔۔

صوفی امن فورم پاکستان کے زیر اہتمام “پیغام پاکستان:ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی شہید سیمینار “سے بطور مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے ،سیمینار کی صدارت ممبر اسمبلی پیر علی رضا بخاری نے کی ۔ممبر اسمبلی و سجادہ نشین درگاہ بساہاں شریف پیر علی رضا بخاری نے وزیرستان میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ، کیپٹن عارف اللہ اور حوالدار ظہیر کی وطن عزیز کے لئے قربانیوں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی ملک میں قیام امن کے لئے بے مثال قربانیاں ہیں جن پر قوم کو فخر ہے دشمن کے خلاف قوم ہمیشہ اپنی بہادر افواج کی پشت پر کھڑی رہے گی۔

دھرتی ماں پر جان قربان کرنے والے جانباز قوم کے ہیرو ہیں ۔ ہمیں ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف متحد اور یکجا ہونا ہو گا-پیر علی رضا نے وزیرستان میں پاک فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند دشمن عناصر قبائلی علاقوں کے غیور عوام کو ورغلا رہے ہیں مگر ان عناصر کو امن میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ، پاک فوج دشمنوں کو شکست دیکر رہے گی ، سجادہ نشین چورہ شریف پیر سعادت علی شاہ نے کہا کہ شہیدوں کے لہو کی وجہ سے ہم آزادی کا سانس لے رہے ہیں۔

دہشتگر دبزدلانہ حملوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے، ملک سے دہشتگردی جیسے ناسور کا صفایا کرکے دم لیں گے، پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ مشکل گھڑی میں شہدا کے اہلخانہ کے ساتھ کھڑے ہیں، ایسے شرپسندعناصر پاک فوج کے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے، دہشتگردی کے خلاف جنگ امن کے مکمل حصول تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدا قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں، قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ہرقسم کی دہشتگردی کےخلاف قوم متحد اور یک آواز ہے۔

جامعہ نظیر یہ اسلام آباد کے مہتمم علامہ صاحبزادہ حسیب احمد نظیری نے کہا کہ ‘پیغام پاکستان’ وہ پلیٹ فارم ہے جس پر پوری قوم کو یکجا کیا جا سکے گا اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام گلی کوچوں سے یہی بیانیہ جاری ہو۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنے حصے کا کام کر رہا ہے اور بین الاقوامی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے تا کہ پاکستان کی کوششوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ثبات ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں بھی امن چاہتے ہیں اپنے خطے میں بھی امن چاہتے ہیں ہم اپنے حصے کا کام کر رہے ہیں، ہم امید رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری بھی اپنے حصے کا کام کرے گی اور ہماری اس کوشش کے ساتھ مل کر چلے گی تاکہ ہم سب مل کر اس خطے میں امن کو کامیاب کر سکیں۔

سیمینار سے پروفیسر ظہیر عباس قادری چیئر میں ادارہ الفلاح انٹر نیشنل ،علامہ گلزار احمد نعیمی پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد ، صاحبزادہ محمد حسن رضا ناظم اعلی رضا اسلامیہ کالج اسلام آباد و دیگر نے بھی خطاب کیا اس موقع پر درج ذیل قراردادیں پیش کی گئی جنکو شرکاء نے متفقہ طور پر منظور کر لیا قرارداد پیغام پاکستان ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید سیمینار :آج کا یہ سیمینار ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی شہید کی گرانقدر علمی و ملی خدمات پر انھیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور وطن میں امن ،ترقی اور اس کی خوشحالی کے مشن کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

یہ سیمینار وزیرستان میں شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کرنل راشد کریم بیگ، کیپٹن عارف اللہ اور حوالدار ظہیر کی وطن عزیز کے لئے قربانیوں انھیں بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئےپاک فوج کی ملک میں قیام امن اور اس کے تحفظ،دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کے لئے دی گئی قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ اجتماع “پیغام پاکستان “ بیانیہ کو عام کرنے والے تمام مسالک اور مذاہب کو اخوت محبت برداشت اور رواداری کے راستے پر گامزن رہنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہے پیغام پاکستان‘‘ پوری قوم کا متفقہ ایجنڈا اور بیانیہ ہے، اس کے بھرپور فروغ اور پزیرائی پر ہم پوری قوم ، علماء ومشائخ ،حکومت ،افواج پاکستان اور تمام سیکورٹی اداروں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔۔

مسلح دہشتگرد دین اسلام کی روشنی میں خوارج کہلاتے ہیں۔دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کیلئے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔عالم دین اور مفتی صاحبان کا فریضہ ہے کہ درست اور غلط نظریات میں امتیاز کرنے کے بارے میں لوگوں کو آگاہی دیں جبکہ کسی کو کافر قرار دینا (تکفیر) ریاست کا دائرہ اختیار ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تمام شہری دستوری و آئینی میثاق کے پابند ہیں، ان پر لازم قرار پاتا ہے کہ وہ بہر صورت حب الوطنی اور ملکی و قومی مفادات کا تحفظ پہلی ترجیح کے طور پر کریں پاکستان کے تمام غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اور اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔جو غیر مسلم اسلامی ریاست میں امن کے ساتھ رہتے ہیں انہیں قتل جائز نہیں ہے بلکہ گناہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں