مقبوضہ کشمیر،انسانی حقوق کی بدترین پامالی،ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کا مکروہ چہرہ پھربے نقاب کردیا

لندن(سٹیٹ ویوز) ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بارپھربے نقاب کردیا اور انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بی بی سی اوروائس آف امریکا کی جانبداری اور مجرمانہ خاموشی کا پول بھی کھول دیا۔تفصیلات کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق چشم کشا انکشافات سے عالمی میڈیا کی جانبداری اور مجرمانہ خاموشی کا پول کھل گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کشمیریوں پر بھارت کے انسانیت سوزمظالم اورانسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے پر بھی انسانی حقوق کے نام نہادچیمپئن بی بی سی اوروائس آف امریکا کیوں خاموش ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پررپورٹ کیوں نہیں کرتے؟ قانون سے متعلق بی بی سی اور وائس امریکاکی کوئی رپورٹ نہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیرپرمسلط کالے قانون جموں وکشمیرپبلک سیفٹی ایکٹ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بے نقاب کرنے میں رکاوٹ قرار دیا۔

رپورٹ کے مطابق اس قانون کے تحت دوسودس افراد انتظامی تحویل میں لئے گئے، گرفتارافراد کوشفاف ٹرائل،ضمانت کا حق بھی نہیں دیا۔بچوں کوبھی ٹھوس شواہد کے بغیرحراست میں لے لیا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا اکہترافراد کوعدالت نے رہا کیا لیکن نئی ایف آئی آرپرفوری حراست میں لے لیا گیا، تمام افراد کوبیک وقت فوجداری اورجموں کشمیرسیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا، گرفتارکئے گئے تمام افراد سے متعلق ایک جیسے جرائم کی رپورٹ پیش کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارافراد رہائی پانے کے بعدنوکریوں سے محروم رہتے ہیں، ایمنسٹی نے سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قانون کوفوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا ماضی میں بھی انسانی حقوق کے عالمی ادارے سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹس دے چکے ہیں، بھارت نے ریاستی دہشتگردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیرمیں مظالم بے نقاب کرنے پرفرانسیسی صحافی کوگرفتار کیا جبکہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق مبصرین کو بھی مقبوضہ کشمیر جاکرحقائق جاننے کی اجازت دینے پر تیارنہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں