مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر حقوق کا نام نہادعلمبرداربی بی سی اوروائس آف امریکا خاموش کیوں؟مشعال ملک

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز) حریت رہنما یٰسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا مقبوضہ کشمیرکابچہ بچہ آزادی مانگتاہے ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ سے بھارت کا گھناؤنا چہرہ پھربے نقاب ہوگیا، سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریاں ہورہی ہیں۔تفصیلات کے مطابق حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا رپورٹ سے بھارت کا گھناؤنا چہرہ پھربے نقاب ہوگیا۔

کالے قانون سیفٹی ایکٹ کے تحت بچوں،بزرگوں جوانوں کوگرفتارکیا جارہا ہے، بھارتی فوج کومظالم کے باوجود کالے قانون کے باعث استثنیٰ حاصل ہے۔مشعال ملک کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیرکابچہ بچہ آزادی مانگتاہے، کشمیریوں کوبینائی سےمحروم اورخواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے ، انسانی حقوق کی تنظیمیں مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پرکیوں خاموش ہیں۔

یاسین ملک کی اہلیہ نے کہا بھارت کی جانب سےکشمیریوں کی آوازروکنےکی کوشش کی جاتی ہے، مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پرعالمی میڈیابھی خاموشی اختیار کر لیتا ہے، مقبوضہ کشمیر پر پردہ ڈالنے کی تمام کوششیں رائیگاں جائیں گی۔ان کا مزید کہنا تھا اقوام متحدہ سمیت تمام فورمزپربھارتی مظالم کیخلاف آوازبلند ہوگی۔

یاد رہےایمنسٹی انٹرنیشنل کے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق چشم کشاء انکشافات سے عالمی میڈیا کی جانبداری اور مجرمانہ خاموشی کا پول کھل گیا تھا ۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کشمیریوں پر بھارت کے انسانیت سوزمظالم اورانسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے پر بھی انسانی حقوق کے نام نہادچیمپئن بی بی سی اوروائس آف امریکا کیوں خاموش ہیں؟

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پررپورٹ کیوں نہیں کرتے؟ قانون سے متعلق بی بی سی اور وائس امریکاکی کوئی رپورٹ نہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیرپرمسلط کالے قانون جموں وکشمیرپبلک سیفٹی ایکٹ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بے نقاب کرنے میں رکاوٹ قرار دیا تھا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں